بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شہر قائد میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سانحہ
کراچی کو فرقہ وارانہ دہشت گردی کی لہر نے مئی کے پہلے ہفتہ میں لپیٹ میں لے لیا تھا اور وزارت داخلہ نے یہ وارننگ بھی جاری کردی تھی کہ شہر میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوسکتا۔
شہزاد چغتائی:
کراچی کو فرقہ وارانہ دہشت گردی کی لہر نے مئی کے پہلے ہفتہ میں لپیٹ میں لے لیا تھا اور وزارت داخلہ نے یہ وارننگ بھی جاری کردی تھی کہ شہر میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوسکتا۔ لیکن اس کے باوجود شدت پسند کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی سب سے بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہوگئے مئی کے پہلے ہفتے میں ڈی ایس پی فتح سانگری اور ہفتہ کو ڈی ایس پی ذوالفقار زیدی کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی اور آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے ریڈ الرٹ جاری کردیا تھا۔
جس روز ڈی ایس پی کو قتل کیا گیا اس دوران ڈاکٹر انور عابدی کو بھی کلینک میں گھس کر مارا گیا تھا۔ ان کا تعلق بھی شیعہ کمیونٹی تھا کراچی آپریشن اور دہشت گردی ساتھ ساتھ چل رہی ہے اور افسوسناک بات ہے کہ قتل و غارت و گری کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہا ہے جس روز صدر نے یہ اعلان کیا کہ اب کسی کو کراچی کا امن و امان خراب کرنے کی جرأت نہیں ہوسکتی اس روز امن و امان کا جن بے قابو ہوگیا۔
کراچی میں آج تک فرقہ وارانہ دہشت گردی میں اتنے افراد کو نشانہ نہیں بنایا گیا حالانکہ اس سے قبل بم دھماکوں میں لوگ ہلاک ہوتے رہے ہیں کسی کمیونٹی کی بس کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں کراچی میں نصف درجن سے زائد واقعات میں چلتی بسوں پر بم حملے کئے گئے ہیں جن میں مجموعی طور پر 50 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں ایسے واقعات شاہراہ فیصل‘ گلستان جوہر اور دلی کالونی میں ہوئے تھے لیکن کمیونٹی بس کے اندر گھس کر بے گناہ اور بے قصور لوگوں کو قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
90ء میں جام صادق دور اور مین کورنگی روڈ پر بس کو روک کر مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 40 سے 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے سانحہ صفورا اس لحاظ سے وحشت ناک ہے کہ اس میں ملزمان نے بس کے اندر گھس کر خواتین کو مارا وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ کوئی مسافر زندہ نہ بچے ملزمان جدید ہتھیاروں سے مسلح تھے زیادہ ہلاکتیں سب مشین گن کی گولیوں سے ہوئیں کراچی میں دہشت گردی کے دلخراش واقعات میں سب مشین گن کا استعمال بہت عرصے کے بعد ہوا ہے سب سے حیران کن بات یہ ہے یونیورسٹی پر روڈ جگہ پولیس کی چوکیاں ہیں اور پولیس وہاں گشت بھی کرتی رہتی ہے سوال یہ ہے کہ ملزمان قانون نافذ کرنے والوں کی دسترس سے کیسے بچ گئے اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ملزمان سب مشین گنیں لے کر آزادانہ طور پر کیسے دندناتے رہے۔
واقعہ کے بعد پولیس کی توجہ سانحہ کے شواہد جمع کرنے پر مرکوز ہوگئی اور علاقہ کا محاصرہ اور ناکہ بندی کرنے میں تاخیر ہوگئی پورے شہر کی ناکہ بندی میں بھی دیر ہوگئی صفورا گوٹھ کے اطراف بڑی تعداد میں دیہات اور کچی آبادیاں ہیں خیال ہے کہ ملزمان نزدیکی آبادی سے آئے تھے۔ یونیورسٹی روڈ پر فائرنگ کے واقعہ نے جہاں امن و امان اور کراچی آپریشن سوالیہ نشان بن گیا ہے وہاں قتل و غارت گری کا نیا رجحان اور نئی جہت سامنے آئی ہے جس کے تحت برادریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اسماعیلی فرقہ پر حملے سے قبل بوہری کمیونٹی پر کئی حملے ہوچکے تھے کچھ عرصہ قبل نارتھ ناظم آباد اور 14 مارچ کو برہانی مسجد پاکستان چوک پر بم دھماکے کئے گئے تھے جن میں بوہری کمیونٹی کے لوگ شہید ہوئے تھے المیہ یہ ہے کہ کراچی کی کچی آبادیاں اور گوٹھ دہشت گردوں کی جنت بنی ہوئی ہیں 8 جون کو کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے 10 ملزمان اطراف کی آبادیوں میں چھپے ہوئے تھے اب سانحہ صفورا گوٹھ بپا کرنے والے بھی ان علاقوں سے آئے تھے ایئرپورٹ صفورا سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے کراچی کے یہ علاقے شدت پسندوں کی کمین گاہیں بنے ہوئے ہیں اور یہ آبادیاں اس قدر گنجان آباد ہیں کہ ان میں کسی کو تلاش کرنا آسان کام نہیں صفورا گوٹھ کے ہولناک واقعہ میں لینڈ مافیا کے ملوث ہونے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
جس مکان میں ملزمان گھات لگا کر بیٹھے تھے وہ زمین چوروں کا تھا لینڈ مافیا کا یہ اسٹائل ہے کہ وہ جگہ جگہ زمین پر قبضہ کرکے مسلح افراد کو بٹھا دیتے ہیں۔ جو کہ قبضہ کی ہوئی زمین کی حفاظت کرتے ہیں ان قبضہ گروپوں کو پولیس کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے اس لئے اسلحہ برداروں کو پولیس بھی کچھ نہیں کہتی اور علاقے کے لوگ بھی اسلحہ برداروں سے مانوس ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ علاقے کے لوگوں نے صبح ہی صبح ملزمان کی نقل و حرکت کو دیکھ کر نوٹس نہیں لیا ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ علاقے میں دوستوں کے ساتھ بینر لگا رہا تھا کہ انہوں نے چار پانچ لڑکوں کی نقل و حرکت دیکھی لیکن جب فائرنگ کی آواز سنی تو وہ خوفزدہ ہوگئے سانحہ کراچی کے بعد سندھ میں نہ صرف گورنر راج کے بادل منڈلانے لگے بلکہ تحریک انصاف نے گورنر راج کا مطالبہ کردیا آل پاکستان مسلم لیگ نے تخریب کاری کے اس واقعہ کو را کی کارروائی قرار دیدیا اور کہا کہ بھارت پاک چین اکنامک کویڈور کے منصوبہ کو سبوتاڑ کرنے کے لئے کھل کر سامنے آگیا ہے سیاسی حلقوں نے کہا کہ ایک جانب بھارت پاکستان کی کرکٹ سیریز کو دعوت دے رہا ہے دوسری جانب وہ پاکستان میں حالات خراب کررہا ہے تاکہ یہ کہا جاسکے کہ پاکستان غیر محفوظ ملک ہے وہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی سازش پر عمل پیرا ہے جس روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کی کرکٹ سیریز کھیلنے کی دعوت دی دوسرے روز کراچی پر قیامت ٹوٹ پڑی ان حلقوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے سانحہ کراچی کی مذمت اور افسوس پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے بھارتی وزیراظم کا ٹوئٹ سانحہ کے کچھ دیر کے بعد آگیا۔

سیاسی قیادت کراچی جانے کا فیصلہ کرتی رہی آرمی چیف راحیل شریف کراچی پہنچ گئے اس سے قبل انہوں نے سری لنکا کا دورہ منسوخ کردیا تھا وزیراعظم کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس اجلاس موخر کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار رہی ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول نے کانفرنس کو موخر کرنے کی تجویز دی تھی اور کہا کہ سب کراچی چلیں جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حادثات تو ہوتے رہتے ہیں پہلے ہم سیر حاصل بحث کریں گے۔
پھر جائیں گے۔ سانحہ پشاور 16 دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کے دن ہوا خونریزی کے اس واقعہ میں بچوں کو شہید کیا گیا تھا بدھ کی صبح کراچی میں فائرنگ کی نذر ہونے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی عروس البلاد میں عسکریت پسند حالانکہ اکثر موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں لیکن اس بار انہوں نے 16 خواتین کو شہید کرکے درندگی اور بربریت کی تمام حدیں عبور کرلیں اور اعلان جنگ کردیا۔
گلستان جوہر اور اسکیم 33 کراچی کے ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں شدت پسندوں کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے بعض علاقے تو ان کے مکمل کنٹرول میں ہیں حال ہی میں ایس ایس پی راؤ انوار نے شدت پسندوں کے کئی گروپوں کا خاتمہ کیا تھا اور اب تک ڈیڑھ سو کے لگ بھگ دہشت گرد مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوچکے ہیں لیکن پولیس کے اس آپریشن کے ثمرات شہریوں کو نہیں مل سکے طالبان نے ان پولیس مقابلوں کو جعلی قرار دیا تھا۔
کراچی میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات اسکیم 33 اور ملیر کے علاقوں میں ہوئے ہیں جہاں کالعدم تنظیموں کا نعیم بخاری گروپ بھی بہت طاقتور ہے۔ دونوں ڈی ایس پی ڈاکٹر اس علاقے میں قتل ہوئے اس سے قبل پولیس کمانڈوز کی بسوں پر یہاں حملہ ہوا جن میں 50 سے زائد پولیس والے ہلاک ہوئے جو بلاول ہاؤس جارہے تھے رینجرز اور پولیس پر حملے ہوچکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان