بند کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیلاب
انتظامیہ کی نااہلی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ڈیم پر سیاست تو کرتے ہیں لیکن نئے ڈیم تعمیر نہیں کرتے ۔ یہاں علاقائی سیاست بھی اثر انداز ہوتی ہے
مصنف : سید بدر سعید
ایک وقت تھا کہ جب بارش ہوتی تو لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑجاتی۔ مزے مزے کے پکوان تیار کئے جاتے۔ چٹ پٹی چٹنیوں کے ساتھ پکوڑے، سموسے اور کباب بنائے جاتے تھے۔ بچے گلیوں میں دوڑتے بھاگتے بار ش میں بھیگتے جاتے جہاں تھوڑا پانی اکٹھا ہوتا وہاں کاغذ کی کشتیاں بنا کر چلائی جاتیں۔ سکھیاں ساون کے گیت گاتیں اور بزرگ دلان میں کرسیاں بچھا کر برستی بارش کا نظارہ کرنے اور گرم چائے سے محظوظ ہوتے تھے۔
یہ ہمارے کلچر اور روایات کی ایک خوبصورت منظر ہے۔ ساون اس دھرتی کا خوبصورت موسم ہے۔ مون سون کی بارشوں کو سارا سال یاد کیا جاتاتھا۔ بارشوں کے بعد سورج آنکھ کھولتا تو ہر چیز نکھر ی نکھری نظر آتی تھی۔
اب منظر بد ل چکا ہے ۔ اب بارش کے ساتھ ہی دل دبلنے لگتے ہیں۔ گلیوں میں کھیلنے والے بچوں کو مائیں گھر سے باہر نہیں جانے دیتیں۔ سوان کے گیت گانے والی سکھیاں چھتیں گرنے سے مرنے والوں اور سیلاب میں بہہ جانے والوں کے نوحے پڑھتی ہیں اور بزرگ گھرکی ٹپکتی چھت سے لے کر گلیوں میں ہر لمحہ اونچی ہوتی پانی کی سطح کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔
اب بارشوں میں پکوان پکانے کی بجائے کھڑی فصلوں کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ گاوٴں کے گاوٴن سیلاب میں ڈوب جاتے ہیں۔ خفاظتی بند ٹوٹ جاتے ہیں اور دریاندی نالے اپنی حدود سے باہر آجاتے ہیں چند سال قبل جو بارشیں رحمت بن کر برستی تھیں ، اب اُنہیں زحمت کے ساتھ ساتھ عذاب سمجھا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ عذاب ہم پر ہماری نااہلی کی وجہ سے مسلط ہوتا ہے ورنہ رب کائنات ان بارشوں کو رحمت بناکر ہی بھیجتا ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، جہاں بارشیں کسی نعمت سے کم نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس نعمت سے فائدہ تبھی ہو سکتا ہے جب اسکے لئے بھر پور منصوبہ بندی کی جائے۔ پاکستان میں ہر سال بارشوں سے سیلاب آتے ہیں اور درجنوں دیہات ڈوب جاتے ہیں۔یہی حالیہ بارشوں میں ہوا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ڈیم پر سیاست تو کرتے ہیں لیکن نئے ڈیم تعمیر نہیں کرتے ۔
یہاں علاقائی سیاست بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈیم کی صورت میں آبادی کی نقل مکانی سے اپنا ووٹ بنک متاثر ہونے کا ڈر رہتا ہے۔ بعض سیاستدان اسلئے بھی ڈیم کی مخالفت کرتے ہیں کہ اس علاقے کے لوگ مخالفت پر اُنہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہوئے ووٹ دیں گے۔ اس کا نقصان پورے پاکستان کو ہوتا ہے ، حالیہ بارشوں میں ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کیلئے مطلوبہ ڈیم ہی نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ پانی جو ذخیرہ ہوکر ہمارے کھیتوں میں سونا اُگانے کا باعث بنتا ، اب تباہی کی وجہ بن گیا ہے۔
مون سون کی مسلسل تین روزہ بارش کے ساتھ ساتھ بھارت نے بھی غیر اعلانیہ دس لاکھ کیوسک سے زائد پانی چھوڑ دیا جس سے روای، چناب اور ستلج میں طغیانی آگئی۔پنجاب کے ہزاروں دیہات اور قصبے مکمل طور پر ڈوب گئے اور تین سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے۔ وزیر آباد، بھائی پھیرو، مرید کے، ککھڑ مندی، کامو نکی، چونیاں ، پنڈی بھٹیاں، جمبر، سرائے مغل ، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ ، چیچہ وطنی ملتان، مظفر گڑھ اور لاہور سمیت متعدد اضلاع میں سیلابی پانی نے تباہی پھیلا دی۔
کئی مکانوں کی چھتیں گر گئیں۔ نارووال میں نالہ ڈیک ٹوٹ گیا۔ پنجاب کے 18 اضلاع آفت زدہ قرار دئیے جا چکے ہیں۔ ریلوے ٹریک ٹوٹنے سے جھنگ تا پنڈی ٹرین سروس معطل کرنی پڑی۔ ابھی اس سیلاب سے ہونے والے نقصان کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جاسکا لیکن ابتدائی رپورٹس ہی خاصی تشویش ناک ہیں۔ ابتدائی طور پر اس کے لئے ایک ارب 80 کروڑ روپے جاری کئے جا چکے ہیں تاکہ متاثرین کو ریلیف دیا جا سکے ۔
اب تک کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے اور دھان کی فصل بھی بُری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ سینکڑوں مویشی ،پرندے بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ خستہ پلیاں ہی ریلے میں ٹوٹ گئی تھیں۔ سڑکوں پر گہرے گڑے بن چکے ہیں اور متعدد فیڈ رٹرپ کر چکے ہیں۔یہ معاشی نقصان عوام کیلئے نا قابل برداشت ہو چکا ہے جولوگ گھروں میں تھے اُن میں متعدد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے کیونکہ بارش سے سوئچ بورڈز میں بھی کرنٹ دورڑنے لگا تھا۔
مختلف فلاحی ادارے ریسکیو ار فوج ابھی تک امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ لاکھوں لوگوں کا انخلا شروع ہو گیا۔ حالیہ سیلاب نے کروڑوں افراد کو متاثر کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس دوران میں مختلف علاقوں کے ہنگامی دورے کئے ہیں۔ اُن کی کشتی میں لائف جیکٹ پہنے سیلاب زدہ علاقوں کے دوروں سے لے کر بارش کے پانی میں کھڑے ہونے تک کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئیں۔
اس طرح اُنہوں نے اعلیٰ افسروں کو بھی مختلف علاقوں کے انتظامات کیلئے لاہور سے باہر بھیج دیا تاکہ وہ خود جا کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہر سال ہوتا رہے گا۔ ایک فلاحی تنظیم نے تو پہلے سے ہی انتظامات کر رکھے تھے اور جیسے ہی بارش شروع ہوئی ، اُس کے کارکن موٹر بوٹس لے کر پہلے سے نشان زدہ علاقوں میں پہنچ گئے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک باقاعدہ ٹوص انتظامات نہ کیے جائیں تب تک ہر سال یہ سب ہوتا رہے گا۔
ضرورت ا س امر کی ہے کہ قومی اتفاق رائے سے جلد از جلد نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں اور دریاوں پر جدید انداز میں بندھ بنائے جائیں تاکہ سیلابی ریلے کا زور ٹوٹ جایا کرے۔ ترقی یا فتہ ممالک اس طرح اپنے دریاوں کو جدید خطوط پر لا چکے ہیں جو تیز ریلے کا زور خود ہی ختم کر دیتا ہے۔
بھارت سے ہمیں کوئی امید نہیں ہے وہ ہر سال ایسے مواقع پر بغیر اطلاع دئیے پانی چھوڑ دیتا ہے۔ اس حوالے سے بھی ہمیں اپنا انتظام خود کرنا ہے۔ ابھی تک متاثرین میں 8600 خیمے اور 19 ہزار فوڈ ہیمپرز تقسیم کر دئیے گئے ہیں مگر یہ کوئی مستقل حل تو نہیں ہے ۔ ہمیں اس صورتحال سے نکلنے کیلئے مستقل بنیادوں پر انتظامات کرنے ہوں گے۔ پاکستان ہر سال اس قدر بھاری جانی ومالی نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو کر متفقہ فیصلے کریں اور اس بارش کو پاکستان کیلئے مفید بنانے کے منصوبوں پر عملدآمد کروائیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان