بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیلاب
یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ طاس کے تمام دریا مقبوضہ کشمیر سےنکلتے ہیں لیکن انڈیا کا سینٹرل واٹر کمیشن کشمیر کا احاطہ نہیں کرتا۔اسکادوسرا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کی جانب سے آنے والے سیلابی ریلوں کی اطلاع بھارت نہیں دیتا
طاہر حبیب:
اس سال دریائے جہلم اور چناب میں بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر جس طرح متاثر ہوئے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ واٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بروقت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات اور سیلاب کے پیش گوئی ڈویژن نے اس جانب توجہ دینے پر تیار ہی نہ تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ طاس کے تمام دریا مقبوضہ کشمیر سے نکلتے ہیں لیکن انڈیا کا سینٹرل واٹر کمیشن کشمیر کا احاطہ نہیں کرتا۔
اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کی جانب سے آنے والے سیلابی ریلوں کی اطلاع بھارت نہیں دیتا بلکہ پاکستان کو خود اس جانب سے صورت حال جائزہ لینا ہوتا ہے۔ موجود صورت حال میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بھی ناکارہ ہو چکی ہے کیونکہ وہاں سے کسی قسم کی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ 6 ستمبر تک مقبوضہ کشمیر میں 200 افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔

ایک سال قبل بھی اتراکھنڈ میں بارشوں اور سیلاب سے خوفناک تباہی آئی تھی تب پانچ ہزار سے زائد افراد جابحق ہو گئے تھے۔ لہٰذا اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں پانی کے 50 سے زائد ذرائع کو کون کنٹرول کرے گا اور کون ان کی نگرانی کا ذمہ دار ہے؟
22 اگست 2014 ء کو انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے صوبوں کو خبر دار کیا گیا تھا کہ ربیع کی فصلوں کیلئے 20 فیصد کم پانی دستیاب ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ انتباہ محکمہ موسمیات کی 15-14 اگست کی ان وارننگز کے بعد سامنے آیا جن میں بتایا گیا تھاکہ راوی ، چناب میں درمیانی اور اونچی سطح کے سیلاب کا امکان ہے۔ اسی طرح 3 سے5 ستمبر 2014ء تک محکمہ موسمیات کی جانب سے دوبارہ ، جہلم ، چناب اور راوی میں غیر معمولی سیلاب کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی لیکن اس پر پانی و بجلی کی وزارت یا ارسانے کوئی توجہ نہیں دی۔
منگلا ڈیم 1236.6 ملین ایکڑ فٹ پانی سے بھر چکا تھالیکن ہیڈ رسول ، خانکی اور قادر آباد کے دروازے بند رکھے گئے جس کی وجہ سے مزید پانی جمع ہوتا رہا۔ اگر بروقت یہ دروازے کھول کر پانی کے اخراج کو ممکن بنایاجاتا تو صورت حال یکسر مختلف ہوتی۔
4 ستمبر 2014 کو منگلا میں 95000 کیوسک پانی آیا لیکن اس کے مقابلے میں پانی کا اخراج صرف 30,000 کیوسک تھا۔
اسی طرح مرالہ پر چناب کا بہاوٴ 137000 کیوسک تھا۔ چناب پر کم سیلاب ریکارڈ کیا گیا لیکن منگلا بھرا ہوا تھا۔ 5 ستمبر کے ریکارڈ کے مطابق اس دن منگلا میں پانی کی سطح مزید بڑھ رہی تھی اوراسی روز یہاں تین لاکھ دس ہزار کیوسک پانی آگیا لیکن اس کے مقابلے میں صرف پندرہ ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا۔یہ انتہائی درجے کی انتظامی نااہلی تھی۔ دوسری طرف آزاد کشمیر میں جہلم اور نیلم کی نگرانی بھی نہیں کی گئی اگر وہاں سے آنے والے ریلے کو بروقت جانچ لیا جاتا اور اسی تناسب سے مرالہ، خانکی اور قادر آباد سے پانی کی نکاسی کا عمل شروع ہوجاتا تو یہ ریلا معمول کے مطابق گزر سکتا تھا۔

6 ستمبر کو منگلا میں چار لاکھ تیرہ ہزار کیوسک پانی آیا لیکن ارسا کی جانب سے صرف دو لاکھ بیاسی ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا۔اسی طرح چناب پر خانکی اور قادر آباد کے مقام سے پانی کے اخراج کے لئے مکمل طور پر دروازے نہیں کھولے گئے ۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بڑے پیمانے پر پانی ڈیم میں جمع ہو چکا تھا لیکن اس کے اخراج کو نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
7 ستمبر تک جہلم میں تو سیلاب کی سطح کم تھی لیکن منگلا مکمل طور پر بھر چکا تھا۔ 9 ستمبر تک مرالہ کے مقام پر چناب کا بہاو 85 ہزار کیوسک تھا لیکن اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ جس رفتار سے پانی ڈیم میں آرہا ہے اسی تناسب سے اس کا اخراج بھی ضروری ہے۔
اگست اور ستمبر میں سیلاب کی پیشن گوئی کی جاچکی تھی۔ اداروں کی جانب سے ”الرٹ“ اور ”وارننگ“ کے بعد پانی کی آمد اور اخراج پر توجہ دی جاتی تو یہ سیلابی ریلا معمول کے مطابق مخصوص راستوں سے گزرتا ہوا سمندر میں چلا جاتا۔
اسی طرح مختلف مقامات پر بند توڑتے وقت بھی صورتحال کا جائزہ نہ لیا گیا جس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا بند توڑنے کا مقصد پانی کو کسی اور رخ پر بھیجنا نہیں ہوتا بلکہ اس پانی کو ایک مخصوص راستے سے گھما کر دوبارہ اصل بہاوٴ کے راستے پر ڈالا جاتا ہے تاکہ اس کا دباوٴ کم کیا جاسکے لیکن ہمارے ہاں جس طرح بند توڑے گئے اس نے فصلوں اور رہائشی علاقوں کو مزید نقصان پہنچایا۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-16

(0) ووٹ وصول ہوئے