بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سحر و افطار میں بجلی‘ گیس دونوں غائب
رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے حسب روایت امسال بھی رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے،حکومت کے اپنے محکمہ ادارہ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق مہنگائی و گرانی کی شرح میں مزیداضافہ ہوگا
احمد کمال نظامی:
حکمران جب تخت اقتدارپر رونق افروز ہوتے ہیں ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جائے گا اور گرانی پیدا کرنے والے تاجروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا مگر کوئی حکمران بھی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے آگے بند نہیں باندھ سکا اور اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان میں یورپی ممالک اور دیگر ممالک کے مقابلہ میں اشیائے ضروریہ اب بھی سستی ہیں اور عوامی نفسیات سے کھیلتے ہوئے بھارت کی مثال دیتے ہیں۔
اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے حسب روایت امسال بھی رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کے اپنے محکمہ ادارہ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق مہنگائی اور گرانی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ رمضان کی آمد سے قبل حسب روایت حکومت کی طرف سے یہ خبریں عوام تک پہنچائی جاتی ہیں کہ اس ماہ مقدس میں اشیائے ضروریہ اور اشیائے زندگی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔
حکومت کی طرف سے ایسے اعلانات ہی دراصل خطرے کی گھنٹی ہوتے ہیں کہ مشتہری ہوشیار باش، مہنگائی اور گرانی کی عفریت حملہ آور ہونے والی ہے۔ انتظامیہ بھی حرکت میں آتی ہے لیکن تمام تر احتیاطی اقدامات کے باوجود مہنگائی پر کنٹرول ہوتا ہے نہ اشیاء کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں۔ تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ عوام چیخیں مارتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، شور مچاتے ہیں لیکن اس وقت ان کی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔
ابھی چند روزے گزرے ہیں اور مہنگائی پر قابو پانے کے لئے تمام تر طاقت استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے گزشتہ روز اوکاڑہ کا دورہ کیا اور تمام دھمکی آمیز الفاظ جو ان کو حبیب جالب کی نظم کے ایک مصرے کی طرح یاد تھے دکانداروں کو ڈرانے دھمکانے میں صرف کر دیئے۔ خود بازاروں میں پہنچے اور دکانداروں پر حملہ آور ہوئے لیکن اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوا کہ سرکاری خزانے سے ان کے اس شوقیہ بازاری دورے پر بہت کچھ خرچ ہو گیا اور اس طوفانی دورے کی خبریں شائع ہوئیں اور جی بھر پر پبلسٹی کی گئی لیکن دوسرے دن کی اطلاعات یہی ہیں کہ حاجی صاحبان کا وطیرہ اور عمل وہی ہے جو میاں شہبازشریف کی انگشت شہادت کے رقص سے پہلے تھا۔
دھمکی تو آئی اور گزر گئی۔ اس پر ہمیں سابق گورنر مرحوم نواب امیر محمد خاں آف کالاباغ کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ جس طرح اب گرانی اور مہنگائی سے تاجروں نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مارنے کو اپنا حق قرار دیا ہے اس وقت مہنگائی ابھی سر اٹھا رہی تھی۔ نواب امیر محمد خاں مرحوم ملاقاتیوں میں مصروف تھے کہ نواب صاحب کو بتایا گیا کہ تاجروں کا وفد بھی حاضر ہو چکا ہے۔
نواب نے جاری اجلاس ذرا بھر کے لئے روکا اور دکانداروں کو بلا کر صرف اتنا کہا کہ ایسے نازک قومی موقعوں پر بازار کی گرانی برادشت نہیں کی جا سکتی اور تاجروں کو خداحافظ کہہ کر دوبارہ اجلاس میں چلے گئے۔ دکانداروں کو چند منٹ میں انہوں نے پیغام دے دیا اس مختصر پیغام کے پیچھے ان کی شخصیت تھی جس سے ہرافسر اور ہر شہری واقف تھا اور کاروباری طبقہ تو سب سے زیادہ باخبر تھا۔
اس کے بعد قیمتیں وہیں رک گئیں۔ شہریوں کی غذائی ضروریات کا پورا کیا جانا ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ مہنگائی میں ہمارے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہے۔حکومت نے سستا اور معیاری آٹے کی فراہمی کے لئے ڈیڑھ ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔ اب اس معیاری اور سستے آٹے پر جو رمضان بازاروں میں عوام کو فراہم کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے رمضان بازاروں میں ناقص آٹے کی فروخت جاری ہے اورمختلف فلور ملوں نے رمضان بازاروں میں جو آٹا سپلائی کیا ہے نئی فصل کے آنے کے باوجود ایسے معلوم ہوتا ہے کہ فلور ملز مالکان اور محکمہ خوراک کے کرپٹ عملہ کی ملی بھگت سے ایسا آٹا تیار کیا گیا ہے۔
منتظم تو نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خاں مرحوم تھے جنہوں نے تاجروں کو گورنر ہاوٴس طلب کیا اور چند سیکنڈ میں اپنا حکم سنا دیا۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چھوٹے تاجروں پر سترہ فیصد سیلزٹیکس کے علاوہ بجلی کے بلوں کے ساتھ مزید سات فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا اور اس کی وصولی جولائی کے بلوں سے کی جائے گی۔ تاجروں پر یہ ٹیکس فنانس ایکٹ کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ جس طرح چھوٹے تاجروں کے بجلی کے بلوں کی رقوم کو سامنے رکھتے ہوئے اضافی ٹیکس نافذ کر دیا ہے کل کو وہ گھریلو صارفین کی کیٹیگری بنا پر گھریلو صارفین پر بھی اضافی ٹیکس عائد کر سکتے ہیں۔ حکومت تاجرو ں پر جتنا چاہے اور جس شکل میں چاہے اضافی ٹیکس عائد کر دے تاجر خسارہ کا کبھی سودا نہیں کرتا۔
اس نے اس ٹیکس کی رقم بھی عوام کی جیب سے وصول کرنی ہے۔موجودہ حکمران بھی تاجر ہیں اور جب سے انہوں نے سیاست میں قدم رکھا ہے سیاست کو بھی تاجرانہ زاویہ نگاہ بخشا ہے۔ انہیں طاہرالقادری سے کوئی خطرہ نہیں اصل خطرہ تو عمران خان سے ہے کیونکہ موجودہ حکمران پنجاب منڈی کے اجارہ دار تاجر کی حیثیت سے تخت اقتدار پر قابض ہے۔ بات سے بات کہاں نکل گئی۔
عدالت عظمیٰ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے آٹے کے حوالہ سے ہی مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسلامی مملکت میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مہنگائی مزید بڑھ گئی ہے۔ شاید حکومت کو غریبوں کا کوئی احساس نہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے مزید ریمارکس دیئے کہ 2350 کیلوریز یومیہ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فاضل جج نے حکومتوں کو ایسی ذمہ داری یعنی معیاری اور اعلیٰ کوالٹی کے آٹے کی فراہمی کی طرف توجہ دلائی جس کی ادائیگی کے بغیر ان کے قیام کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
آٹے کی کوالٹی اور معیاری کے حوالہ سے انہی کالموں میں متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ محکمہ خوراک اور فلور ملز والوں کی ملی بھگت سے نہ غیرمعیاری آٹا فراہم کیا جاتا ہے بلکہ آٹے کی اسمبلنگ میں بھی دونوں فریق شراکت دار ہوتے ہیں۔ اب رمضان بازاروں میں فروخت ہونے والے پھلوں کی بات ہو جائے۔ اوپن مارکیٹ میں جو پھل فروخت ہو رہے ہیں وہ اعلیٰ کوالٹی کے بھی ہیں بلکہ جو آم درآمد کئے جاتے ہیں وہ بھی اوپن مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ رمضان اور سستے بازاروں میں اعلیٰ کوالٹی کے پھلوں کے نرخوں پر دو نمبری مال فروخت ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی قوالی کی جا رہی ہے اور آخر میں کہ حکومت نے رمضان میں لوڈشیڈنگ کے جن اوقات کا اعلان کیا تھا اس پر کہیں بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
سحر و افطار اور تراویح کے وقت لوڈشیڈنگ ہی نہیں کی جا رہی بلکہ گیس کے پریشر میں کمی کر کے گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے اور حکمرانوں کی خوش قسمتی ہے کہ عوام کی تمام تر توجہ ضرب عضب کی طرف ہے ورنہ اب تک سڑکوں پر خوب رونق ہوتی۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان