بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری
بھارت کی یا اپنی کوتاہی؟۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کا آبپاشی نظام دنیا بھر میں مثالی گردانا گیا ہے
سید شعیب الدین احمد:
انسان نے چاندکو مسخر کرلیا ہے اور مریخ تک رسائی کر لی ہے ۔ مگر انسان ابھی ابھی سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مخصوص ساخت کے گھر بنا کر جانی اور مالی نقصان میں کمی کی جا سکتی ہے مگر زلزلے سے بروقت خبردار کرنے والا کوئی نظام انسان وضع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
البتہ سیلاب یا سمندری طوفان کے بارے پیشگی اطلاع کانظام انسان تیار کر چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی تباہ کاریوں پر مہذب دنیا میں بڑی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ سیلاب اور طوفان سے ہونے والے مالی نقصان کو تو نہیں روکا جا سکا مگر جانی نقصان سے بچنے کا یقینا انتظام ہو گیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایک نہیں بلکہ درجن سے زائد دریا بہتے ہیں ۔
ستلج اور راوی بڑے دریاوٴں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ دریا کشمیر کی وادی سے نکلتے ہیں اور سندھ کے علاوہ باقی دریا بھارت سے گز ر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ چناب، ستلج اور روای وہ تین دریا ہیں جو اپنا پہاڑی سفر بھارت میں مکمل کر کر بھارت کی زمین سیراب کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ان دریاوٴں پر ڈیم بنانے کے لیے کوئی موزوں مقام نہیں ہے جہاں ڈیم یا بڑے بند بنا کر پانی کے ذخیرے کئے جاسکیں۔
مگر ماضی میں جب پاکستان میں ”قبضہ مافیا“ بہت طاقتور نہیں تھا دریاوٴں میں آنے والے سیلابی پانی کو ”محفوظ “ کرنے کا ایک راستہ نکالا گیا تھا۔ یہ راستہ غیر دوامی اور سیلابی نہروں کا تھا۔ ایک ایسے وقت جب آبادیوں کو سیلاب س ہونے والے نقصانات سے بچنے کا طریقہ نکالنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو غیر دوامی اور سیلابی نہروں کا بندوبست کیا گیا۔
پاکستان کا آبپاشی نظام دنیا بھرمیں مثالی گردانا گیا ہے ۔ یہاں بیراج بنائے گئے ہیں۔ بیراجوں سے نہریں نکالی گئی ہیں جو پنجاب، سندھ کی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں۔ نہروں میں دوامی نہریں ہیں جن میں سارا سال پانی بہتا ہے جبکہ غیر دوامی نہریں 6 ماہ بند رہتی ہیں۔ ان کے علاوہ سیلابی نہریں بنائی گئیں جن میں صرف سیلاب سے آنے والے زائد پانی کو چھوڑا جاتا تھا۔
یہ پانی بعد میں آبپاشی کے لئے میسر ہوتا تھا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں میں جنم لینے ولاے قبضہ مافیا نے ان سیلابی نہروں کی زرخیز زمینوں پر قبضہ کرلیا ار کھیتی باڑی شروع کر دی۔ زمینوں کا ”قانونی قبضہ“ لینے کے لئے ان کو لیز پر بھی حاصل کیا جاتا رہا۔ جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ پانی صرف غریبوں نہیں بلکہ طاقتوروں کے باغات اور فصلوں کو اجاڑ رہا ہے۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے بعد پہلے راوی اور ستلج کے پانی کو ڈیم بناکر اپنے قابو میں کر لیا اور پھر جناب جو پاکستان کے حصے میں آیا تھا ا کے پانی پر قبضہ کا سلسلہ شروع ہوا۔ چیف ایڈیٹر نوائے وقت جناب مجید نظامی مرحوم کاان معاملات میں نقطہ نظر بہت واضح تھا۔ وہ ببانگ دہل کہتے تھے کہ بھارت آبی جارحیت کر رہا ہے۔
وہ پاکستان کا پانی ورک کر اسے بنجر بنا رہا ہے جبکہ اپنے ڈیم کھول کر کسی بھی وقت پاکستان کو ڈبو بھی سکتا ہے۔
مجید نظامی مرحوم اس بارے میں اتنے جذباتی تھے کہ وہ برملا کہتے تھے کہ ان ڈیمز کو میزائل مار کر تباہ کر دیا جائے ی ہمارے ملک کی سرسبز زمینوں کو بنجر کر دیں گئے۔مجید نظامی مرحوم کا کہا ان کی وفات کے صرف ایک ماہ بعد سچ ثابت ہو گیا ہے ۔ بھارت نے جو چناب کا پانی روک رہا تھا اچانک بگلیہار ڈیم سے ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک پانی جار گر دیا اور حکومت کو بروقت اطلاع بھی نہیں دی۔
حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھارت پانی چھوڑتے وقت پاکستان کو پیشگی اطلاع دینے کا پابند تھا۔ بھارت نے اس پہلے ریلے کے بعد دوسرا بڑا ریلا چھوڑا اور مرالہ کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا ریلا 9 لاکھ 74 ہزار کیوسک کا گزرا۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس نے اپنی دشمنی ثابت کر دیک۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہم جو سیلاب سے براہ راست متاثر ہوتے آئے ہیں گزشتہ برسوں میں راوی اور چناب میں پانی کم ہونے سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان دریاوٴں کے اندر کا شتکاری شروع کی جاچکی ہے۔
گھر اور ڈیرے بنائے جا چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ 67 برسوں میں کبھی سیلاب سے نبٹنے کی لانگ ٹرم حکمت عملی تیار نہیں کی ہے۔ ہم نے چین سے سبق نہیں سیکھا۔ چین ایک محنتی جفاکش قوم ہے جنہوں نے 70 ء کی دہائی میں سیلابوں سے بچنے کے لئے پہلا کام جو کیا وہ دریاوٴں کے پاٹ کشادہ اور گہرے کرنے کا کیا جس کی وجہ سے پانی جوپہلے کناروں سے باہر زیادہ نکلاکرتا تھا اس کی تباہ کاریاں کم ہونے لگیں۔
بعد میں چین نے دنیا کا مشہور ڈیم بنا دیا۔
ایک ہی دریا پر 600 کلو میٹر کے علاقے میں 3ڈیم بنائے گئے۔ جہاں نہ صرف پانی کے تین بڑے ذخیرے بنا لئے گئے بلکہ بجلی کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی گئی۔ ہم ہیں کہ دریائے سندھ پر ایک تربیلا ڈیم کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں۔خیر یہ جملہ معترضہ ہے اصل مسئلہ چناب، جہلم راوی ، ستلج میں آنے والے سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے کاہے۔
جس کے لئے دریاوٴں کے پاٹ چین کی طرح گہرے کئے جاسکتے ہیں بلکہ اس سیلابی پانی کا رخ تھر، چولستان کے صحراوٴں کی طرف موڑ کر انہیں سر سبز بنایا جا سکتا ہے۔ نئی سیلابی نہریں بنائی جاسکتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میدانوں میں بھی بڑی جھیلیں بنائی جا سکتی ہیں جن کی مثال منچر جھیل دادو (سندھ) ہے جو پاکستان کی صاف پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے ۔
یہ جھیل 350 کلومیٹر سے 520 کلو میٹر تک پھیل اور سکڑ جاتی ہے۔ سندھ میں دوسری بڑی جھیل کینچھر ہے۔ یہ ٹھٹھہ ضلع میں ہے۔ یہ پاکستان کی دوسری بڑی جھیل ہے ۔ پنجاب میں ہزاروں لاکھوں ایکڑ اراضی بیکار پڑی ہے ۔10 برس قبل لاہور میں دریائے راوی کے کنارے دو بڑی جھیلیں بنانے کا منصوبہ بنا تھا جس میں مون سون کے دوران راوی میں آنے والے پانی کو محفوظ کیا جانا تھا۔
بد قسمتی سے یہ منصوبہ شروع نہ ہو سکا۔ کاغذوں میں محفوظ پڑا ہے ۔ ایسی جھیلیں بنا کر پاکستان میں مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ واٹر سپورٹس شروع کی جا سکتی ہیں۔
سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے مگر شاید یہ کسی بھی حکمران کی ترجیح نہیں رہی کہ عوام کو سہولیات دی جائیں۔ اگر حکمران سیلابی نہریں بناتے تووسطی اور بالائی پنجاب کاماحول بدل سکتا تھا۔
جنوبی پنجاب کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا تھا مگر حکمران ایسے کام نہیں کرتے وہ صرف ایسے کام کرتے ہیں جس میں انہیں ”مالی فوائد“ ملیں اور فوری ملیں۔ دریاوٴں کو گہرا کرنے، جھیلیں او سیلابی نہریں بنانے سے حکمرانوں کو کیا ”ذاتی فائدہ“ملنا ہے ۔یہی وجہ سے کہ پاکستان آج بھارت کے چھوڑے سیلابی پانی سے ڈوپ رہا ہے۔ سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہزاروں مویشی مر گئے ہیں۔ سینکڑوں دیہات اور ہزاروں لاکھوں مکانات مکمل یا ادھورے تباہ ہوچکے ہیں۔ کروڑوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ سیلاب سے ہونے والے یہ نقصانات بڑ ھ رہے ہیں اور مالی نقصان اربوں روپے تک جائے گا۔ حکومت اب زرعی انکم ٹیکس اور آبیانہ معاف کرے گی مگر فصلوں کو پہنچے والے نقصان سے کسان جو گردن گردن قرضوں میں دھنس جائے گا اس کو اس سے کون نکالے گا۔
سیلاب قدرتی آفت ہے۔ ہمارے مسلمان حکمران اسے اللہ کی طرف سے آئی آف قرار دے کر عوام سے بچ سکتے ہیں مگر اللہ کوکیا جواب دیں گے جس نے ان کو ذمہ داری سونپی ہے کہ یہ عوام کو فلاح کے لئے کام کریں۔ کیاکسی نے انہیں پہاڑوں میں چھوٹے پانی کے ذخائر بناکر وہاں بارشوں کا پانی جمع کرنے اور اس پنی سے عوام کو پہنچنے والے نقصان سے بچانے سے روکا ہے۔
کیا ان حکمرانوں کو سیلابی نہریں بنا کر زمینیں آباد کرنے ،جھیلیں بنا کر زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے، سیاحت کے لئے پر فضا مقام بنانے، مچھلی کی پیداوار بڑھانے جیسے اضافی فائدے عوام کو پہنچانے سے سے کسی نے روکا ہے۔ یقینا نہیں مگر حکمران نقصان کے بعد اربوں روپے تقسیم کرنے میں زیادہ ’اطمینان“ محسوس کرتے ہیں حالانکہ یہ پیسہ عوام کا ہوتا ہے مگر عوام کو ایسے دیا جاتا ہے جیسے ان پر احسان کیا جار ہا ہے۔

بھارت نے پہلے دریائے چناب میں پانی کے دو بڑے ریلے چھوڑ کر پاکستان کو ڈبویا ہے اور اب بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کو سیلاب زدگان کے لیے امداد کی پیشکش کی ہے ۔ جس پر بھارت سے دوستی کے کواہشمند پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور جواب میں بھارت کے سیلاب زدگان کی مدد کی جوابی پیشکش کی ہے۔ مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو صحیح جواب آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید نے دیا ہے جنہوں نے بھارتی وزیراعظم کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ آزادکشمیر کے سیلاب زدگان صرف اسلام آباد کی طرف دیکھتے ہیں۔
بھارت نے کوئی مدد کرنا ہے تو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کر دے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید کا یہ بیان کسی غیرب مند پاکستان اور کشمیری کے جذبات کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ مصیبت میں مبتلا کر کے مدد کرنے والا درحقیقت آپ کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہوتا ہے۔ کاش ہماری حکومت بھارت سرکار کو یہ کہنے یا پوچھنے کے قابل ہوتی کہ اس نے پانی کا ریلا چھوڑتے وقت بین الاقوامی قانون کے تحت پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی ۔
اللہ ہمارے حکمرانوں میں ملی حمیت پیدا کر دے۔
دریاوٴں کے بپھرنے اور ریلوں سے شدید تباہی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے پنجاب بھر میں سینکڑوں دیہات ڈوب گئے اور ان کا زمینی رابطہ کٹ چکا ہے ، سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور اور امداد کے منتظر منتظر ہیں، لاتعداد کچے مکانات منہدم ہو گئے، عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لئے میدان میں اتر آئی ہے کشتیوں ، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پانی میں پھنسے اور سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے پاک فوج کا آپریشن دن رات جاری ہے۔
دریائے چناب کا پانی سیالکوٹ ، حافظ آباد، منڈی بہاوٴ الدین اور جھنگ کے سینکڑوں دیہات کو ڈوبونے کے بعد ملتان تک پہنچ گیاہے، دریائے ستلج بھی بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کی وجہ سے بپھر رہا ہے اور اس میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ سیلاب سے صرف پنجاب نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بھی تباہی ہوئی ہے وہاں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں گلگت اور بلتستان میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب میان محمد شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو 10-10 کروڑ روپے امدادی سرگرمیوں کی مدد میں جاری کئے ہیں جو یقینا ہونے والے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہیں حکومت نے سیلاب اور چھتیں گرنے سے مرنے والے افراد کے ورثاء کو 16 سولہ لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ماضی کی طرح بڑے شہروں کو بچانے کے لئے کم آباد علاقوں اور زرعی زمینوں کو گہرے پانی ڈبو دیا ہے جس کی مثال ہیڈ خانکی کے حفاظتی بند توڑ کر گوجرنوالہ اور گجرات شہر کو بچایاگیا۔
پنجاب حکومت اب تک سیلاب سے تباہ ہونے والے 11 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے چکی ہے جہاں سے زرعی انکم ٹیکس اور آبیانہ وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کسانوں کی جانب سے بینکوں سے لئے گئے زرعی قرضوں کی وصولی کا عمل بھی روکدیا گیا ہے اور حکومتی، ذرائع کے مطابق قرضوں کی وصولی کیلئے کسانوں کو ایک سے 2 سال کا وقت دیا جائیگا، جس کے لئے بینکوں کو احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔
حکومت نے متاثرہ اضلاع کیلئے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کی دئیے ہیں۔ متاثرہ افراد کا مکمل ریکارڈ راکٹھا کرنے کیلئے متعلقہ اضلاع کے ایڈیشنل کلکٹروں کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کے افسران نے سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، گجرات، چینوٹ ، جہلم، جھنگ، حافظ آباد، منڈی بہاوٴ الدین سمیت سیلاب سے تباہ ہونے والے اضلاع کا دورہ مکمل کر کے اپنی رپوریٹس تیار کرنا شروع کر دی ہیں جن کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، لاکھوں ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی سب سے زیادہ نقصان کپاس ، چاول، گنے اور باجرے کی فصل ہو پہنچا ہے ہزاروں جانور سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور ان اضلاع میں کسانوں کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا ہے اُنہیں رپورٹوں کی بنیاد پر حکومت نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع سے ٹیکس وصولی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے کہ ان آفت زدہ اضلاع میں کسانوں کے ذمہ زرعی قرضوں کی وصولی کیلئے 5 سال تک کا وقت دیدیا جائے تاکہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
پنجاب میں ساڑھے 12 سے 25 ایکڑ تک 150 روپے فی ایکڑ آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی مد میں ایک لاکھ روپے منافع پر 15 فیصد تک زرعی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو معاف کر دیا گیاہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-17

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان