بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیکورٹی فوسز پر حملوں میں شدت
بنوں کے بعدراولپنڈی کینٹ بھی نشانہ
حادثہ کی ٹائمنگ دیکھیں‘ سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان غیر مستحکم صورتحال سے نہ صرف دوچار ہے بلکہ امن دشمنوں کا خواب پاک سرزمین کو مستقل پریشان رکھتا ہے یادش بخیر

ریاض اختر:
وقت کبھی بے وقت نہیں ہوتا‘ واقعہ‘ سانحہ اور انہونی کے لئے وقت ہمیشہ یاد رہتا ہے اور رکھا جاتا ہے جب غیر معمولی حادثہ گزر جاتا ہے مگر ٹائمنگ کا پس منظر اور پیش منظرگفتگو کا موضوع بنا رہتا ہے۔ ذرا دو دن قبل 2 دن پر ایک طاہرانہ نظر دوڑائیں قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سوموار کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس پر نظر جمائے ہوئے تھے جس میں حکومت پاکستان نے نئی مجوزہ سکیورٹی پالیسی کی منظوری دینا تھی وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیر صدارت ہونے والے اس اہم اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے بارے میں حتمی بات کی جانا تھی لیکن صورت حال پہ مایوسی‘ حسرت و یاس کی چھینٹیں گرا دی گئیں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا تھا کہ طالبان سے مذاکرات اور جنگ کا دارومدار نئی سلامتی پالیسی کے تحت ہو گا‘ وزیراعظم محمد نواز شریف بھی طالبان سے مذاکرات کو پہلی ترجیح کہتے رہے‘ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی آخری آپشن ہے جو مشاورت سے کیا جائے گا یہ اور اس جیسے سنجیدہ امور کے لئے 20 جنوری سوموار کی اہمیت تھی مگر بنوں اور راولپنڈی کے سانحات نے ساری صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا‘ سوموار کی صبح آر اے بازار راولپنڈی میں خودکش دھماکہ ہوا ہے جس میں 11 افراد شہید اور 17 زخمی ہوئے، یہ اور بنوں کا واقعہ ابتک کسی نہ کسی حوالہ سے بحث کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔

حادثہ کی ٹائمنگ دیکھیں‘ سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان غیر مستحکم صورتحال سے نہ صرف دوچار ہے بلکہ امن دشمنوں کا خواب پاک سرزمین کو مستقل پریشان رکھتا ہے یادش بخیر گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں جس روز وزیراعظم میاں نواز شریف نے سلامتی کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ روانہ ہونا تھا‘ عین اسی روز پشاور چرچ پر دہشت گردی کی گئی جس کا مقصد پاکستان کے سافٹ امیج پر کاری ضرب لگانا ہے وزیراعظم جب برطانیہ پہنچے تو پشاور حادثہ کا سوال ان کے لئے موجود تھا۔
لمحہ موجود میں تحریک طالبان بامقصد مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں تاہم اس کے قائدین حکومت سے اخلاص کا ثبوت بھی مانگ رہے ہیں اور ساتھ ہی بنوں حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر رہے ہیں یہ تمام امور عین اسی روز ظاہر ہوئے جب کابینہ نئی سکیورٹی پالیسی کو فائنل کرنے والی تھی۔ سوموار کی صبح راولپنڈی کے آر اے بازار چوک میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش حملے کے نتیجے میں 6 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق جبکہ 24 زخمی ہو گئے‘ جاں بحق افراد کی نعشوں اور زخمیوں کو سی ایم ایچ اور ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس اور پاک فوج کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کر دیا‘ علاقے میں ایک اور خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے میڈیا اور عام افراد کو جائے حادثہ سے دور رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں‘ طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی‘ دھماکے کے بعد پولیس اور پاک فوج کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں ایک اور خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے میڈیا اور عام افراد کو جائے حادثہ سے دور رہنے کی ہدایت کر دی گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور سائیکل پر سوار تھا جبکہ پولیس نے کہا ہے کہ خودکش بمبار کی عمر 18 سے 20 سال کے درمیان تھی۔ دوسری جانب نجی ٹی وی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ تھانہ آر اے بازار میں پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کے مطابق فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور آرمی ایمبولینس اور ضلعی ریسکیو سروسز کی امدادی ٹیمیں علاقے میں پہنچ گئی۔
یہ دھماکہ آر اے بازار کے مرکزی چوک اور 22 نمبر چونگی کے درمیان سڑک پر ہوا۔ ہفتہ کی صبح بنوں میں چھاوٴنی حادثہ میں چالیس سے پچاس کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جس سے 22 فوجی اہلکار شہید اور 38 کے قریب زخمی ہوئے، تین زیر علاج زخمی کل اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اب شہید ہونے والوں کی تعداد 25 تک جا پہنچی ہے۔ ایف ایس سی کا قافلہ بنوں چھاوٴنی سے شمالی وزیرستان روانہ ہو رہا تھا کہ کرائے پر حاصل کی گئی ایک گاڑی میں نصب بارودی مواد کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا دیا گیا‘ لاشوں اور زخمیوں کو سی ایم ایچ بنوں منتقل کر دیا گیا نجی گاڑیوں کے ڈرائیورز کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کر دی گئی‘ وفاقی وزیر داخلہ کرائے کی گاڑی حاصل کرنے میں غفلت کا پہلے بھی نوٹس لے چکے ہیں‘ زخمی ہونے والوں کی حالت نازک ہے جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا تھا شمالی وزیرستان میں تعینات سکیورٹی فورسز کے لئے رسد اور کومک لے کر جانے والی فرنٹیئر کور کی نفری اتوار کی صبح بنوں سے میران شاہ جا رہی تھی کہ رسد کے لئے سرکاری گاڑیوں کے علاوہ نجی گاڑیوں کا بھی انتظام کیا گیا تھا جو بنوں کینٹ رزمک گیٹ کے قریب آمندی کے گراوٴنڈ میں پارک کی گئی تھی صبح آٹھ بج کر 45 منٹ پر جب گاڑیوں میں سوار نوجوان اپنی منزل مقصود کی جانب روانگی کے لئے تیار تھے تو اس دوران ایک فلائنگ کوچ میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں مذکورہ فلائنگ کوچ کے ساتھ کئی گاڑیاں بھی بری طرح تباہ ہوئی دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے فوراً بعد بنوں چھاوٴنی میں تعینات دستوں نے پورے علاقے کا گھیراوٴ کر لیا۔
اس بات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ میں کوئی خودکش استعمال ہوا یا نہیں تاہم یہ بات واضح ہے کہ فرنٹیئر کور کی نفری شمالی وزیرستان لے جانے کے لئے گاڑیاں معمول کے مطابق فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے مارکیٹ سے کرایہ پر حاصل کی تھی اور دھماکہ کے وقت فرنٹیئر کور کے جوان گاڑی میں سوار تھے اور یہ گاڑیاں روانگی کے لئے قطاروں میں کھڑی تھی حادثہ میں جاں بحق ہونے والے 22 افراد میں سے 6 کی شناخت نہیں ہو سکی، حساس ادارے خود اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے قافلے کی گزرگاہ پر میرانشاہ روڈ پر مکمل کرفیو نافذ تھا اس کے باوجود دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے‘ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بنوں پولیس کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں چھاوٴنی میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی موقع پر جانے کی اجازت نہیں دی جاری تھی۔
وزیراعلٰی شہباز شریف‘ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق‘ ڈپٹی سپیکر مرتضٰی جاوید عباسی‘ چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری‘ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ‘ اسفند یار ولی‘ الطاف حسین‘ طاہر القادری‘ چودھری شجاعت حسین‘ مولانا فضل الرحمان‘ لیاقت بلوچ و دیگر رہنماوٴں نے بھی واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بنوں چھاوٴنی میں ایف سی قافلے پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہونے والے حملوں سے طالبان کیساتھ مذاکرات کے لئے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ہری پور کے سیاسی اجتماع میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ بنوں حملے کی ذمہ داری کس پر ڈالیں؟ 9 ستمبر 2013 ء کو تمام جماعتوں نے اے پی سی میں حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا تھا معلوم نہیں حکومت اب تک بامقصد مذاکرات کی طرف ایک قدم آگے کیوں نہ بڑھ سکی۔
طالبان سے مذاکرات قیام امن کی طرف اہم ترین قدم ہے یہ وہ کام اور مشن ہے جس میں کسی بھی جماعت اور سیاست دانوں کی طرف سے عدم تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ حکومت سنجیدہ ہو تو وہ خود طالبان سے مذاکرات کے لئے ”رابطہ پل“ کا کردار ادا کر سکتے ہیں مسلم لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر چودھری جعفر اقبال نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ قیام امن حکومت‘ فوج اور تمام جماعتوں کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے میاں نواز شریف اور ان کے رفقاء پوری تندہی اور ذمہ داری سے سرگرم ہیں دہشت گردی کے واقعات حکومت کے اخلاص کو متزلزل نہیں کر سکتے‘ وزیراعظم واضح کر چکے ہیں طالبان سے مذاکرات حکومت کی پہلی ترجیح ہے یہ مسلم لیگ ن کی پالیسی اور 18 کروڑ عوام کی خواہش ہے انشاء اللہ ہم عوامی خواہش کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے اگر دنیا کے کسی ملک کے حالات پاکستان جیسے ہوتے تو وہاں کے سیاستدان پوائنٹ سکورنگ نہ کرتے‘ یہاں شیعہ سنی کی کوئی لڑائی نہیں دونوں پر حملے کرنے والا ایک ہی دشمن ہے، نئی سکیورٹی پالیسی کے تحت ٹیکنالوجی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام وضع کرکے دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا جس میں انٹیلی جنس ایجنسیاں کام کریں گی جو سیاستدانوں کی نگرانی کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے پر کام کرے گی، ریپڈ رسپانس فورس اور وزارت داخلہ کا ہائر ونگ بھی اس ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت ہو گا‘ ادھر جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے صاف کہہ دیا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جو امریکی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں انتشار پھیلا رہا ہے جب تک غیر ملکی مداخلت او ”دوستوں“ کے خفیہ ہاتھ پر نظر رکھی نہیں جاتی‘ صورتحال میں بہتری نہیں آ سکتی۔
انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کی ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا تھا اور حکمران ہی معاملہ کو نظرانداز کر رہے ہیں‘ آخر یہ کب تک ہو گا سیاستدانوں کے خیالات اپنی جگہ مگر عوام چاہتے ہیں کہ حکومت قومی مسائل پر اپنی سنجیدگی کا اظہار بھی کرے‘ 9 ستمبر 2013ء کو ہونے والی اے پی سی میں حکومت کو مذاکرات کا جو مینڈیٹ دیا گیا اگر اس میں اب تک پیش رفت نہ ہو سکی حکومت سمجھتی ہے کہ نئی صورت حال میں کچھ نئے فیصلے کرنا ہیں تو عمران خان کی طرف سے ایک اور آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کی تجویز پر غور کرنے میں کیا حرج ہے؟

تاریخ اشاعت: 2014-01-22

(0) ووٹ وصول ہوئے