بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سقوطِ ڈھاکہ، تاریخی المیہ
16دسمبر1971ء وہ سیاہ ترین دن تھا جب اپنوں کے غیرذمہ دارانہ رویوں اور غیروں کی عداوت وسازش کے نتیجے میں وطن عزیز دولخت ہوگیا۔ مشرقی پاکستان کے محب وطن شہریوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
حافظ محمد ادریس:
16دسمبر1971ء وہ سیاہ ترین دن تھا جب اپنوں کے غیرذمہ دارانہ رویوں اور غیروں کی عداوت وسازش کے نتیجے میں وطن عزیز دولخت ہوگیا۔ مشرقی پاکستان کے محب وطن شہریوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ آج پھر وہ تمام عناصر جو اس وقت بھارتی فوج کی یلغار کے خلاف اپنے وطن کی حفاظت کیلئے قربانیاں دے رہے تھے، پھانسیوں کے حق دار قرار پائے ہیں۔
نہ کوئی انصاف ہے، نہ عدالت! یہ سب ایک طویل داستان کا حصہ ہے جسے ہر سال سنا اور سنایا جاتا ہے۔ یہ دن گزر جاتا ہے تو ہمارے لوگ بھول جاتے ہیں، مگر بنگلہ دیش میں بے گناہ لوگ ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہم فریاد بھی اللہ ہی سے کرتے ہیں اور اپنا دکھڑا بھی اسی ذات کبریا کو سناتے ہیں۔ ظالم بنگلہ دیشی وزیراعظم اور اسکی ٹیم کو اپنے باپ اور بنگوبندھو شیخ مجیب الرحمن کا دردناک انجام یاد رکھنا چاہیے۔
فطرت کی تعزیریں بڑی سخت ہیں۔ بنگلہ دیش میں گذشتہ انتخابات کے نتیجے میں عوامی لیگ تیسری مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ ا س مسلم ملک میں عوامی لیگ کی حکومت جب بھی برسر اقتدار آتی ہے بھارت، امریکہ اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ عوامی لیگ بنگلہ دیش کے قیام سے قبل مکتی باہنی کے لبادے میں بھارتی فوج کی ایک بٹالین کے طور پر کام کر رہی تھی۔
سقوط ڈھاکہ کے وقت عوامی لیگ کی قیادت بھارتی ٹینکوں پر سوار ہو کر ایوان اقتدار میں داخل ہوئی۔ اس المناک واقعہ کے بارے میں اب تک درجنوں کتب سامنے آچکی ہیں، مگر ڈھاکہ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین کی کتاب ”شکست آرزو“ اور سابق فوجی افسر وسفیر بنگلہ دیش لیفٹیننٹ کرنل شریف الحق والیم کی کتاب ”پاکستان سے بنگلہ دیش، ان کہی جدوجہد“ میں اتنے حقائق جمع کردیے گئے ہیں کہ تصویر کا صحیح رخ سامنے آجاتا ہے۔
اسکے مطابق یہ پارٹی پاکستان اور اسلام کے مقابلے میں بھارت اور لادینیت دوست ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی جیل سے رہائی ملی اور وہ نوزائیدہ ملک میں سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ سقوط ڈھاکہ کے موقع پر بھارتی وزیراعظم، اندرا گاندھی نے ایک جانب یہ زہر آلود اور اسلام دشمن فقرہ کہا کہ نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس نے یہ فلسفہ بھی بگھارا کہ اب بنگلہ دیش میں پاکستان کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والے غدار کبھی ایوان اقتدار کا منہ نہ دیکھ سکیں گے۔ یوں شیخ مجیب الرحمن اور اندرا گاندھی پاکستان دشمنی میں یک جان دو قالب ہوگئے۔ اپنی ایک ملاقات میں انھوں نے لمبے چوڑے منصوبے سوچے مگر مخلوق کے سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ فیصلے تو خالق ہی کے صادر ہو کر رہتے ہیں۔
دونوں پاکستان دشمن راہنما یکے بعد دیگر اپنے دردناک انجام کو پہنچے۔ اب حسینہ واجد جومظالم ڈھا رہی ہے اس کی تو کہیں مثال نہیں ملتی۔ سہ فریقی معاہدے کیمطابق 1971ء کے ان واقعات پر تینوں ممالک انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں طے پایا کسی شخص کیخلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ۔ حسینہ واجد نے اس کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان جو سہ فریقی معاہدے کا ایک رکن ہے، ان مظالم پر کوئی آواز نہیں اٹھا سکا۔
شیخ مجیب الرحمن جنھوں نے تاحیات صدارت حاصل کر لی تھی، اپنی ہی فوج کے چند جونیر افسران کے ہاتھوں 15اگست 1975ء کو اپنی بیوی، تین بیٹوں اور دیگر پندرہ افراد کے ساتھ اپنے گھر، دھان منڈی ڈھاکہ میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ شیخ مجیب کی دو بیٹیاں جو اس وقت جرمنی میں تھیں، بچ گئیں۔ انھی میں سے ایک حسینہ واجد تھی جو اس وقت نام نہاد الیکشن کے نتیجے میں تیسری مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی ہیں۔
اندرا گاندھی کو بھی 9سال بعد اسکے اپنے ہی باڈی گارڈز نے 31 اکتوبر 1984ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ حسینہ واجد کا انجام کیا ہوگا یہ اللہ جانتا ہے، مگر اللہ کی سنت ہے کہ ظالم کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ عوامی لیگ جب بھی برسر اقتدار آتی ہے، اسلام دشمن اور پاکستان مخالف پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ آجکل جماعت اسلامی ہی نہیں خود لفظِ اسلام بھی عوامی لیگ حکومت کی کارروائیوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔
ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کوئی پارٹی اپنے نام کیساتھ اسلامی کا سابقہ یا لاحقہ لگا سکتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح اسلامی لٹریچر بالخصوص سرکاری اداروں اور لائبریریوں میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتب کے تراجم کو ممنوع قرار دیدیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اسکی تمام برادر تنظیمات کی قیادت عقوبت خانوں میں بد ترین انتقام کا نشانہ بنائی جارہی ہے۔
جن لوگوں نے 1971ء میں پاکستان کی حمایت کی تھی انھیں جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ انھیں پھانسی کی سزا دلوانے کے لیے حکمران پارٹی اور سرکاری وکلا پوری طرح سرگرم عمل رہے ہیں اور جعلی کورٹس کے ذ ریعے انھیں سزائے موت سناد ی گئی ہے۔ ان میں سے عبدالقادر ملا، قمرالزمان، علی احسن محمد مجاہد اور صلاح الدین قادر کو تو تختہ دار پہ لٹکا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
مولانا اے کے ایم یوسف اور پروفیسر غلام اعظم جیل ہی میں موت سے ہم کنار ہوکر شہادت پا چکے ہیں۔ باقی تمام راہنماوٴں کو بھی سزائے موت سنا دی گئی ہے۔حسینہ واجد کے قریبی حلقوں میں کئی ہندو دانش ور اور شخصیات بھی شامل ہیں۔ وہ بطور تھنک ٹینک کچھ امور طے کرتے ہیں اور پھر بڑی چالاکی سے بنگلہ دیش کے سیکولر عوامی لیگی حلقوں اور این جی اوز کو ان منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے منظرعام پر لے آتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے عوام میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ڈھاکہ میں بھارتی سفارت خانہ براہِ راست شیخ حسینہ واجد کو ہدایات دیتا ہے جو سرکاری پالیسی کا حصہ بن جاتی ہیں۔اسلام کی نمایندگی کرنیوالی جماعت کی پکڑ دھکڑ اور اسلامی لٹریچر پر پابندی لگوانے کے ”کامیاب تجربے“ کے بعد اب ان عناصر کی یہ بھی کوشش ہے کہ بنگلہ دیش میں خواتین کے برقع پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمومی طور پر بنگلہ دیشی مسلمانوں کے دلوں میں اسلام اور مذہب کے ساتھ محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ہندو تہذیب کی یلغار اور میڈیا پر فحش پروگراموں کی بھرمار کے باوجود بنگلہ دیشی مسلمانوں کی اکثریت آج بھی اسلام اور دینی شعائر کا بڑا احترام کرتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-16

(0) ووٹ وصول ہوئے