بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ واہگہ بارڈر…
ہشت گردوں کا اصل مقصد محض ایک علامتی خودکش حملہ کرکے یہ بتانا ہرگز نہیں تھا کہ وہ ابھی بھی ملک کے کسی بھی حصے میں کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
احسان شوکت:
بین الاقوامی اہمیت کے حامل واہگہ بارڈر پر آزادی پریڈ کے ختم ہوتے ہی جذبہ حب الوطنی سے سرشار سینکڑوں پاکستانی مرد،خواتین اوربچے پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے واپس لوٹ رہے تھے کہ عین اسی وقت وطن عزیز کے دشمنوں نے اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے معصوم بچوں، عورتوں اور نوجوانوں کے بیچ و بیچ خودکش حملہ کرکے بڑی تعداد میں معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا۔
اتوار کی شام واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھنے کے لئے 5ہزار سے زائد خواتین ،بچے اور مرد موجود تھے۔جیسے ہی واہگہ بارڈر پر پر چم اتارنے کی تقریب ختم ہوئی۔شہری اپنے گھروں کو جانے کے لئے باہر نکلے،تو وہاں موجود حملہ آور نے شہریوں میں گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جس سے3 رینجرز اہلکاروں،11خواتین اور3بچوں سمیت59 افراد جاں بحق اور رینجرز اہلکاروں سمیت ایک سو سے زائد افر اد زخمی ہو گئے۔
ہر طرف لاشیں،انسانی اعضاء ، خون ، ، دھواں اور آگ پھیل گئی جبکہ زخمی چیخ و پکار کر تے رہے۔ رینجرز کی گاڑیوں سمیت متعدد گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچااور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کہ باعث وہاں موجود افراد خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنائی دی گئی۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس،ریسیکو 1122 ،ایدھی ،رینجر ز سمیت دیگرامدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
امدادی ٹیموں نے لاشوں اورزخمیوں کو گھرکی ہسپتال پہنچایا جبکہ گھرکی ہسپتال میں جگہ ڈاکٹروں کی کمی کے باعث بیشتر زخمیوں کو شالیمار ہسپتال اور،سروسز ہسپتال اور میو ہسپتال منتقل کیا جاتارہا۔ جہاں بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ خود کش دھماکے میں سمندری سے تعلق رکھنے والے 1 ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ بیشتر ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 2 یا 3 افراد جاں بحق ہو ئے ہیں۔
دھماکہ کے باعث رینجر کے 3 اہلکار بھی جاں بحق ہو گئے جن میں انسپکٹر رضوان، حوالدار شبیر اور سلطان شامل ہیں۔واہگہ بارڈر پر خودکش حملے میں جاں بحق ہونیوالوں میں پریڈ دیکھنے کے لئے آنے والی پاک فوج کی کیپٹن شمائلہ بھی شامل ہے۔ وہ سی ایم ایچ راولپنڈی میں تعینات تھیں۔واقعہ کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کی بڑی تعدادگھرکی ہسپتال پہنچ گئی جبکہ ہسپتال میں جگہ کم پڑنے سے نعشوں کو ہسپتال کی پارکنگ میں رکھنا پڑا۔
خود کش دھماکے کے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت شام کے 5بج کر40 منٹ کا وقت تھااور ایک نوجوان نے خود کو بھا گ کر باب آزادی سے نکلنے والے لوگوں میں شامل کرکے زور دار دھماکے سے اڑ لیا۔ دھماکے کی آواز اس قدر زور دار تھی کہ پورا علاقہ گونج اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف نعشوں کے ڈھیر لگ گئے اور عوام میں بھگڈر مچ گئی۔
زرائع کے مطابق اس دھماکے میں دیسی ساخت کا 15سے20کلو دھماکہ خیز مواداستعمال کیا گیا۔علاوہ ازیں واقعہ کے بعد کافی دیر تک پولیس کے اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا تعین نہ کر سکے کہ دھماکہ خود کش تھا یا سلنڈر پھٹنے کے باعث پیش آیا۔ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس دھماکے کو خود کش دھماکہ قرار دیا گیا۔
واہگہ بارڈ ر پر ہونے والے دھماکے کے بعد ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور وہ چیخ و پکار کرتے رہے۔ ہسپتالوں میں قیامت کبریٰ کا منظر نظر آرہا تھا۔ زخمیوں و جاں بحق ہونے والے افراد کے رشتے داروں کے ساتھ زخمیوں اور خون کے عطیات دینے والوں کا بڑا رش تھا جبکہ گھر کی ہسپتال میں اپنوں کو شناخت کرنے والے افراد کی شدید چیخ و پکار تھی اور ہسپتال میں آنے والے افراد شدید پریشانی میں مبتلا تھے ،دھماکے میں جاں بحق ہونے والے بیشترافراد ملک بھر کے مختلف اضلاع اور صوبوں سے آئے ہوئے تھے۔
رینجرزنے جائے وقوعہ کو سیل کرکے کسی بھی قسم کی میڈیا کوریج اور عام شہریوں کو جانے سے روک دیا گیا۔واہگہ بارڈ پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد سرکاری ہسپتالوں کوہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ محکمہ صحت اور پولیس کی جانب سے زخمیوں کو خون کے عطیات دینے کیلئے اپیل کی گئی ہے عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکہ ہوا اور آگ کا شعلہ بند ہوا، اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا ہوا۔
دھماکہ ہوتے ہی زمین لرز گئی اور دھماکے کی شدت سے کانوں کے پردے شل ہو گئے۔ڈی جی رینجرزپنجاب طاہر جاوید کا کہنا تھا کہ دھماکہ خود کش تھا۔ سکیورٹی اداروں نے حملہ آور کی ٹانگیں اور بازو برآمد کرلیے ہیں۔ تاہم سر سمیت دیگر اعضا ء کی تلاش جاری ہے۔ حملہ آور نے 15 کلو سے زائد بارودی مواد باندھ رکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ حملہ کے حوالے سے پہلے ہی اطلاعات موجود تھیں۔
جس کیلئے باب آزادی کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر رکھا تھا۔ سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے کے باعث حملہ آور نے خود کو چیکنگ پوسٹ سے پہنچنے سے قبل ہی تقریبا ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر اڑا لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور پیچھے سے جائے وقوعہ پر کیسے پہنچا اس کیلئے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ حملہ آور نے خود کو تجارتی پوائنٹ کے قریب اڑایا۔جہاں ڈیڑھ سو سے دو سو تجارتی ٹرک کھڑے ہوتے ہیں ہمارے سکیورٹی انتظامات بہتر تھے اگر حملہ آور باب آزادی پریڈ والی جگہ پر پہنچ جاتا تو ہلاکتیں زیادہ ہو سکتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکہ میں بیرونی وطن دشمن عناصر بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ تاہم تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ واہگہ بارڈ پر ہونے والے خود کش حملے اطلاع ملتے ہی سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس اورڈی آئی جی آپریشنزڈاکٹر حیدر اشرف فوری موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں مصروف سرکاری اہلکاروں کے علاوہ شہریوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔
سی سی پی او خود زخمیوں کو اْٹھا کر ایمبولینسوں میں ڈالتے رہے۔ کیپٹن امین وینس جائے وقوعہ سے وائرلیس کے ذریعے شہر کے تمام ایس پیز کو ہدایات دیتے رہے کہ وہ اپنے اپنے ڈویڑنز کی حساس مجالس اور جلوسوں کی سیکورٹی کو سخت کر دیں خاص کر حساس مجالس اور جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے اضافی نفری لگا دیں اور کسی کو بھی بغیر چیکنگ کے مجلس یا جلوس میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔
دھماکے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد کے باعث زخمیوں کو خون کی ضرورت تھی۔ جس پر سی سی پی او نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ جذبہ انسانیت اور بھائی چارے کے تحت زخمیوں کو فوری خون دیں۔جس کے نتیجے میں گھرکی ہسپتال میں 30سے زائد پولیس اہلکاروں نے زخمیوں کے لیے اپنا خون عطیہ کیا۔اس موقع پر سی سی پی لاہور نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنا دی۔
واہگہ بارڈر پر ہونے والے دھماکہ کے حوالے سے سکیورٹی اداروں اور محکمہ داخلہ کی جانب سے چند روز قبل مراسلہ جاری کیا گیا تھا کہ جس میں واہگہ بارڈر کو اپنی سکیورٹی سخت کرنے کا کہا گیا ،مراسلہ میں دہشت گردی کا خدشہ ہونے کا بھی کہا گیا تھا جبکہ حساس اداروں کی طرف سے دھماکہ سے چند گھنٹے قبل مشکو ک دہشت گرد کا خاکہ جاری کیا گیا تھا جس کے حوالے سے ایمرجنسی کی بنیاد پر پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا ،تاہم واہگہ بارڈ ر پر ہونے والے دھماکہ کے حوالے سے کالعدم تنظیم جند اللہ اور طالبان کے گروپ جماعت الاحرار نے ذمہ داری قبول کر لی۔
جنداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ردعمل میں واہگہ بارڈر پر دھماکہ کیا۔۔ کالعدم تنظیم طالبان کے احسان اللہ احسان نے بھی دھماکے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ جماعت الاحرار کے خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیاہے جس کے حوالے سے پولیس افسران نے کسی بھی قسم کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واہگہ بارڈر پر حملے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ملنے کے حوالے سے باخبر ہونے کے باوجود اپنا مشکل ٹارگٹ حاصل کیا اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے محرم الحرام میں مذہبی و فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بجائے پہلی مرتبہ پرچم اتارنے کی تقریب دیکھنے والے محب وطن شہریوں کونشانہ بنایا۔
حملے کے بعد سکیورٹی اداروں کی پلاننگ کا فقدان نظر آیا۔ دہشت گرد بھی اس حوالے سے باخبر تھے کہ حکومت کو پتہ ہے مگر اس کے باوجود بھی دہشت گردوں نے اپنا ٹارگٹ تبدیل نہیں کیا۔ ماضی میں دہشت گرد محرم الحرام میں مجالس و جلوسوں و دیگر مذہبی تقریبات کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر فرقہ وارانہ و مذہبی دہشت گردی پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے۔
دشمنوں نے اس افسوسناک واقعہ میں معصوم محب وطن فیملیز و شہریوں کو نشانہ بنایا۔ واہگہ بارڈر تک جانے کے لئے تین مقامات پر رینجرز کے چیکنگ ناکے ہیں، مگر واہگہ بارڈر کے ملحقہ دیہاتوں سے یہاںآ سانی سے پہنچا جاسکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پہلو پر بھی غور کررہے ہیں کہ دہشت گرد کسی گا?ں میں چھپا بیٹھا ہو مگر مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔
اس کے علاوہ دہشت گرد نے 25 کلو وزنی دھماکہ خیز مواد پر مبنی جیکٹ استعمال کی جس میں بال بیرنگ، لوہے کے کیل، پیچ اور ٹکڑے شامل تھے۔ دھماکے کے حوالے سے حملہ آوروں کی پوری ریکی اور منصوبہ بندی تھی جس وجہ سے اتنا بڑا جانی نقصان ہوا۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کی گونج ختم ہونے کے کچھ لمحوں بعد حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے کافی دیر بعد تک بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہارت نظر نہ آئی اور نہ ان کے پاس ایسے آلات تھے کہ وہ بتا سکتے کہ دھماکہ کس نوعیت کا تھا۔ انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے جسموں کی حالت دیکھ کر اندازہ لگایا۔ فرانزک شواہد، موبائل فرانزک لیبارٹری ٹیسٹ اور واقعاتی و طبعی شواہد کو اکٹھا اور محفوظ کرنا تو دور کی بات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ ایسی صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے۔
کوئیک رسپانس فورس کے قیام کے صرف دعوے نظر آئے۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے خود کش حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کرلیااور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خود کش حملہ آور خود کو مارنے کیلئے آتا ہے اور اسے روکنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جہاں بھی ضرورت ہوتی ہے وہاں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ واہگہ بارڈر پر جہاں دہشت گردی ہوئی وہاں سکیورٹی پولیس کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ تمام انتظامات رینجرز کے حوالے ہوتے ہیں۔مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ دہشت گرد خودکش حملہ آور تھا جس کی عمر 20 سے 25 سال تھی جو شہر بھر کی پولیس کے نام نہاد سکیورٹی ناکے عبور کرتا ہوا 15 سے 20 کلو انتہائی تباہ کن اور آگ پکڑنے والا بارودی مواد اور خودکش جیکٹ لے کر رینجرز کے زیر انتظام حفاظتی حصار توڑ کر آزادی پریڈ سے چند گز دور تک پہنچ گیا۔
خودکش حملہ آور کی جیکٹ میں بال بیرنگ، لوہے کی کیلیں، نٹ بولٹ اور لوہے کے ٹکڑے بھی تھے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل مقصد محض ایک علامتی خودکش حملہ کرکے یہ بتانا ہرگز نہیں تھا کہ وہ ابھی بھی ملک کے کسی بھی حصے میں کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ معصوم اور بے گناہ محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام تھا تاکہ بادی النظر میں پاکستانی فوج اور دفاعی اداروں کو یہ کھلا چیلنج تھا کہ اگر انہوں نے آپریشن ضرب عضب جیسی کارروائیاں جاری رکھیں تو دہشت گرد ملک پاکستان کو اندرونی طور پر اپنی بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے کمزور کر دیں گے۔
دفاعی تجزیہ نگار پی ایچ ڈی سکالر اعجاز حسین کے مطابق دہشت گردی کے لئے واہگہ بارڈر پر آزادی پریڈ کو ہی کیوں چنا گیا جس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔
1۔ واہگہ بارڈر لائن آف کنٹرول پر واقع پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نہایت ہی اہم اور حساس علاقہ ہے۔
2۔ واہگہ بارڈر ہی ایک ایسا مقام ہے جہاں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت ہو رہی ہے۔

3۔ واہگہ بارڈر پر خودکش حملہ کرکے حکومت پاکستان کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ فوراً بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کرکے کشمیر پر اپنی پالیسی کو واضح کرے۔
4۔ کچھ اندرونی اور بیرونی سازشی عناصر یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اور بھارت اچھے ہمسائیوں کی طرح رہیں اور ان کے درمیان تجارتی، سفارتی اور ثقافتی تعلقات پیدا ہوں لہٰذا واہگہ بارڈر پر حملہ کرکے دہشت گردوں نے یہ ثابت کر دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ اس کارروائی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ ملوث ہے کیونکہ ہم بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور حالیہ تناظر تو اور بھی اہم ہیں کیونکہ لائن آف کنٹرول پر واقع سرحدی شہروں پر بھارت کی جانب سے بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ جاری ہے اور اس خودکش حملے کی کارروائی کا اشارہ بڑی آسانی سے بھارت کی جانب موڑنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کو یہ باآور کرایا جا سکے کہ بھارت سے تعلقات کسی بھی طرح ہمارے حق میں نہیں۔

5۔ ملک دشمن عناصر کی جانب سے سرحدوں پر ایسی دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے ہمیں اپنے ہی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ الجھانے کی بین الاقوامی سازش کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان سفارتی سطح پر تنہا ہو جائے اور دشمن اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہو سکیں۔
6۔ واہگہ بارڈر پر آزادی پریڈ کا مقام زندہ دلان لاہور اور اہل پاکستان کے لئے طرہ امتیاز بن چکا ہے جہاں روز سینکڑوں پاکستانی جمع ہو کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ مادر وطن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی اس کی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔
واہگہ بارڈر ایک ایسا نظریاتی مقام بن چکا ہے جہاں پاکستانی اکٹھے ہو کر پاکسانی فوج سے اپنی یکجہتی اور جذبہ جنون کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستانی فوج کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ جو بھی مادر وطن کی جانب میلی آنکھ سے دیکھے گا اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔
7۔ دہشت گرد ہمیشہ ایسے مقام کو نشانہ بناتے ہیں جو ملکی سطح پر یکجہتی، یگانگت اور سالمیت کا مظہر ہو تاکہ اسے کمزور کرکے عوام الناس کو نظریاتی طور پر کمزور کیا جا سکے۔
جیسے جی ایچ کیو پر حملہ، آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملہ، پولیس تربیتی مراکز پر حملہ، بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملہ۔ یہ ایسے مقامات ہیں جن پر پاکستانیوں کو فخر ہے کہ یہ ادارے ہماری سالمیت کی علامت ہیں اسی لئے واہگہ بارڈر پر آزادی پریڈ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جو دراصل ملک پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے۔ آزادی پریڈ وطن عزیز سے محبت کا جذبہ حب الوطنی کا نشان، پاک فوج اور عوام الناس کی یکجہتی کا مظہر بن چکا ہے۔

اس سانحہ کے بعدرینجرز حکام نے واہگہ بارڈر پر روزانہ ہونے والی پرچم اتارنے کی تقریب تین دن سادگی سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں عوام کو پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ واہگہ بارڈر پر سکیورٹی کے مزید سخت اقدامات کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کو عام آدمی کیلئے کھولا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے واہگہ بارڈر کے قریب ہونے والے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس اندوہناک واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی قوم اور ہماری بہادر افواج اور رینجرز کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ بم دھماکوں میں معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے اور انہیں ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ ہم سب کے حوصلے بہت بلند ہیں اور انشاء ا اللہ ساری قوم کی حمایت سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے تک دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔
ضرب عضب میں ہماری بہادر افواج مردانہ وار جنگ لڑ رہی ہیں اور انشاء اللہ ہم ملک دشمن عناصر کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ افواج پاکستان نے ملک و قوم کی حفاظت کا قومی فریضہ انتہائی بہادرانہ انداز میں ادا کیا ہے اور ساری قوم دہشت گردوں کے خلاف فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور اس آپریشن کے ثمرات اب عوام تک پہنچ رہے ہیں۔
ملک میں امن و امان کی صورت حال قدرے بہتر ہو رہی ہے۔ عوام الناس نے سکھ کا سانس لینا شروع کیا ہے مگر یہ سب کچھ ہمارے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا اور انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت واہگہ بارڈر پردہشت گردی کی کارروائی کر کے ملکی سا لمیت کو چیلنج کیا ہے۔ انشااللہ قوم باہمی اتحادو یگانگت اور دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کر کے ان کے مزموم ارادوں کو خاک میں ملا دے گی اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-06

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان