بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ لاہور کے پس پردہ حقائق و عوامل
لاہور جیسے اہم شہر میں پولیس کی جانب سے ریاستی تشدد اور غنڈہ گردی کی ماضی میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ پولیس نے اس آپریشن میں نہ صرف جدید اسلحہ و بکتر بند گاڑیوں سمیت حصہ لیا
احسان شوکت:
صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاوٴن ایکسٹینشن ایم بلاک میں پولیس کی جانب سے منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے بیرئیرز تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں کھیلی گئی خون کی ہولی نے نہ صرف زندہ دلان لاہور کو اذیت و کرب میں مبتلا کیا بلکہ ملک بھر میں فضا سوگوار کر دی ہے۔
لاہور جیسے اہم شہر میں پولیس کی جانب سے ریاستی تشدد اور غنڈہ گردی کی ماضی میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ پولیس نے اس آپریشن میں نہ صرف جدید اسلحہ و بکتر بند گاڑیوں سمیت حصہ لیا بلکہ لاہور کے ڈی آئی جی، تمام ڈویڑنل ایس پیز سمیت درجنوں افسران و سینکڑوں اہلکاروں جن میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے قائم کی گئی کوئیک رسپانس فورس، ایلیٹ کمانڈوز اور ماہر نشانہ باز (سنائپرز) نے بھی حصہ لیا۔
پولیس نے یہاں نہتے شہریوں پر تشدد اور قتل و غارت گری کا ایسا معرکہ سر انجام دیا کہ ہلاکو خان کی روح بھی تڑپ کر رہی گئی۔ پولیس نے ڈنڈوں سے لیس اور پتھراوٴ کرنے والے مظاہرین پر ایسی چڑھائی کی جیسے افواج میدان جنگ میں دشمن کی سپاہ کے خلاف کرتی ہیں پولیس کے سنائپرز نے مظاہرین کو نشانے باندھ کر موت کے گھاٹ اتارا اور دو خواتین سمیت آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا جب کہ پولیس کے لاٹھی چارج اندھا دھند فائرنگ، ربڑ کی گولیوں اور بیہمانہ تشدد سے ایک سو کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس نے خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا تو معصوم بچوں کو بھی خوب پیٹا جب کہ معمر باریش افراد کو بھی نہ بخشا گیا اور انہیں خوب دھنائی کرنے کے بعد پولیس گاڑیوں میں ہاتھ پاوٴں سے پکڑ کر ڈنڈا ڈولی کی طرز پر انتہائی سنگدلانہ طریقے سے پھینکتے رہے۔ ایسے دلخراش منظر دیکھنے میں آئے کہ انسانی روح کانپ کر رہ گئی۔ آہ و پکار کرتی عورتیں چیختے چلاتے بچے اور رحم کی اپیل کرتے بوڑھے افراد بھی شیر جوانوں کے ارادوں کو ٹس سے مس نہیں کر سکے اور پولیس تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں عوامی تحریک کے کارکن ”پار“ کرتی رہی۔
علاقہ میدان جنگ تو بنا ہوا تھا۔ مگر پولیس اہلکار دوکانوں کے شٹر اور دوکانوں کے باہر لگے فریزرز کے تالے توڑ کر ”مال غنیمت“ اکٹھا کرتے نظر آئے۔ اس صورتحال کے برعکس دیکھیں تو دوسری جانب نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا صبح دس بجے اپنے دفتر پہنچے ماڈل ٹاوٴن میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی تو سینٹرل پولیس آفس میں نئے آئی جی کو ان کی آمد کے موقع پر پولیس کی جانب سے بجائی جانے والی بینڈ، سریلی دھنوں پر پولیس کے چاک و چوبند دستے سلامی دے رہے تھے موقع پر موجود صحافیوں نے آئی جی پنجاب سے ماڈل ٹاوٴن میں پولیس آپریشن اور اس صورتحال کے حوالے سے سوال کیا تو آئی جی پر اعتماد لہجے میں کہا کہ وہ ابھی آئے ہیں وہ متعلقہ پولیس سے بریفنگ لے کر اصل صورتحال سے آگاہ ہوں گے جب کہ اس وقت صرف دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔
علاوہ ازیں سی سی پی او چودھری شفیق احمد سے میڈیا نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ”پولیس اہلکار مظاہرین کی فائرنگ سے مارے گئے ہیں مگر حقیقت میں ماڈل ٹاوٴن میں پولیس عوامی تحریک کے کارکنوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہی تھی کچھ ہی دیر میں پولیس کی فائرنگ سے دو خواتین سمیت 8 افراد کی ہلاکتوں کا راز فاش ہو گیا تو پولیس حکام پھر بھی ڈھٹائی سے اسے عوامی تحریک کے نہتے کارکنوں کی فائرنگ کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔
سی سی پی او چودھری شفیق احمد کا کہنا تھا عوامی تحریک کے کارکنوں کی اندھا دھند فائرنگ سے درجنوں پولیس اہلکار اور ان کے اپنے کارکن ساتھی زخمی ہوئے ہیں اسی دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس کی اور معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات جاری کئے مگر سیاسی وابستگی پر تعینات با اثر سی سی پی او چودھری شفیق یا پھر کسی ذمہ دار کے خلاف اس وقت کوئی کارروائی نہ کی گئی یاد رہے کہ سی سی پی او چودھری شفیق احمد مسلم لیگ ن کے ممبر صوبائی اسمبلی چودھری گلزار احمد کے بھائی ہیں اس کے فوری بعد آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے سی سی پی او چودھری شفیق احمد ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار اور دیگر افسران کے ہمراہ سنٹرل پولیس آفس میں ہنگامی پریس کانفرنس کی انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر سو قتل بھی ہو جائیں تو ایک طریقے کار ہوتا ہے معاملہ کی انکوائری کی جائے گی۔
اگر اس میں کوئی پولیس افسر یا اہلکار قصور وار ثابت ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ جس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سرمد سعید ہوں گے۔ مگر آئی جی نے کسی کے خلاف فی الفور کارروائی کا عندیہ نہیں دیا۔ بلکہ ذمہ داران سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشنز کو پہلو میں بٹھا کر پریس کانفرنس کرتے رہے۔
پریس کانفرنس میں صحافیوں کے تندو تیز سوالات پر آئی جی نے شدید برہمنگی کا اظہار کیا اور پریس کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے۔ دوسری جانب پورا ملک اور سیاسی و سماجی جماعتیں اس دلخراش و کربناک واقعہ پر سراپا احتجاج تھیں تو خادم اعلیٰ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے معاملہ کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے رات گئے واقعہ کے ذمہ داران سی سی پی او شفیق احمد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رانا عبدالجبار اور ایس پی ماڈل ٹاوٴن ڈویڑن طارق عزیز کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے احکامات جاری کئے جس پر لاہور پولیس کی کمان کو تبدیل کر کے او ایس ڈی بنا دیا گیا اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید کو سی سی پی او لاہور کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
پولیس کے ریاستی تشدد کی بدترین مثال کے اس واقعہ کو صرف تجاوزات کے خلاف معمول کا آپریشن قرار دے دینا انتہائی مضحکہ خیز اور ناقابل فہم بات ہے اصل میں سیاسی وابستگیوں پر اہم آسامیوں پر تعینات جونیئر افسران شاہ سے زیادہ شاہ کے وفا دار بن گئے اور انہوں نے عوامی تحریک کو حکومت کے خلاف احتجاج سے باز رکھنے کے لئے یہ انتہائی اقدام اٹھایا کہ عوامی تحریک کے امن پسند نہتے کارکنوں کو اس آپریشن کی آڑ میں اتنا خوفزدہ اور زچ کر دیا جائے کہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں مگر پھر پولیس افسران سے یہ معاملہ ہینڈل نہ ہو سکا معاملہ بگڑتا گیا اور بات قتل و غارت گری تک بڑھ گئی جس سے ایسا سانحہ رونما ہو گیا کہ پولیس کی جانب سے ظلم و بربریت کی ایک اور تاریخ رقم ہو گئی۔
پنجاب جو پہلے ہی پولیس سٹیٹ کے طور پر بدنام ہے اب اس واقعہ سے یہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو چکی ہے لوگ اسے سیاسی انتقام کا بھی نام دے رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ داران افسران کو صرف تبدیل کر کے معاملہ نہ نپٹایا جائے بلکہ جس طرح وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ پر رنجیدہ ہیں تو وہ اس معاملہ پر سنجیدہ بھی ہوں۔
ذمہ داران افسران کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے کہ وہ آئندہ آنے والے افسران کے لئے عبرت کی مثال بن سکے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی بھی تحریک میں خون شامل ہو جائے تو پھر حکومت کے جانے کا بگل بج جاتا ہے۔ حکومت کو اسی بات کو سمجھنا چاہئیے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے انہیں قرار واقعی سخت سزائیں دے کر ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے۔ تاکہ اگر کوئی سیاسی جماعتیں اس واقعہ کی آڑ میں حکومت کے خلاف پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں تو انہیں منہ کی کھانی پڑے
تاریخ اشاعت: 2014-06-20

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان