بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ حب
35 مسافر چشم زدن میں جل کر خاکستر
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٹریفک حادثات کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جس کا بنیادی سبب غفلت‘ لاپرواہی اور لاقانونیت ہے۔ تیز رفتاری بھی ایک سبب ہے لیکن سب سے بڑی وجہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ہیں
شہزاد چغتائی:
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٹریفک حادثات کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جس کا بنیادی سبب غفلت‘ لاپرواہی اور لاقانونیت ہے۔ تیز رفتاری بھی ایک سبب ہے لیکن سب سے بڑی وجہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ہیں جن کی تربیت کیلئے ملک میں کوئی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ موجود نہیں۔ ٹریفک پولیس حکومت اور انتظامیہ کو بھی ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے جس کی ترجیحات مختلف ہیں اور عدم توجہی کے باعث کراچی سے خیبر تک ہرسال ہزاروں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں۔
گڈانی کا خوفناک حادثہ بھی حکام اور حکمرانوں کی لاتعلقی کا باعث ہے۔ اگر سپریم کورٹ کی ہدایات پر متعلقہ ادارے عمل کرتے تو 35انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جاسکتا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ متعلقہ حکام اور اداروں کو شاہراہوں پر بہنے والے انسانی خون کی کوئی پرواہ نہیں۔
ہفتہ 22مارچ کی صبح تربت اور کوئٹہ سے کراچی آنے والی بس35مسافروں کیلئے موت کا پیغام بن گئی۔
جیتے جاگتے انسان چشم زدن میں جل کر خاکستر ہوگئے بلکہ ان کی مسخ شدہ نعشوں کی شناخت ناممکن ہوگئی۔ حادثہ منہ اندھیرے اس وقت ہوا جب ایک ٹرک الٹ گیا اور پیچھے سے آنے والی گاڑیاں ٹرک سے بیک وقت ٹکرا گئیں۔ ان بسوں کی چھت پر چونکہ ایرانی پٹرول کے ڈبے لدے ہوئے تھے اس لئے چشم زدن میں دونوں بسوں میں آگ لگ گئی اور مسافروں کو بسوں سے چھلانگ لگانے کی مہلت نہیں ملی۔
35افراد 100فیصد جل گئے اور ان کی لاشیں کوئلہ بن گئیں صرف ایک بس کا متبادل ڈرائیور زندہ بچ گیا کیونکہ وہ سب سے پیچھے سورہا تھا۔ بدقسمت بسوں پر اگر اسمگل شدہ ایرانی تیل کے ڈرم نہیں لدے ہوتے تو جانی نقصان کم ہوتا۔ تمام ہلاکتیں جلنے سے ہوئیں اور آگ نے کسی مسافر کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ بسیں پہلے پھسلیں اور اس دوران بسوں میں آگ لگ گئی۔
حادثہ کے فوراً بعد حالانکہ امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی تھیں لیکن آگ نے کسی کو مہلت نہیں دی۔ جو 10افراد زخمی ہوئے اور جن کو بروقت اسپتال پہنچادیا گیا ان کے بچ جانے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ ان کے جھلسنے کا تناسب بہت زیادہ ہے حادثہ کے بعد کراچی اور حب کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ لاشوں اور زخمیوں کو کراچی کے سول اسپتال لایا گیا اور پھر میتوں کو ایدھی کے سردخانے میں رکھوادیا گیا۔
اس موقع پر قیامت خیز مناظر دیکھنے میں آئے خواتین کی آہ بکا دیکھی نہیں جاتی تھی۔ المناک صورتحال یہ تھی کہ زیادہ تر میتیں کوئلہ بن چکی تھیں اور ان کی شناخت ممکن نہیں تھی جس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ شروع کئے گئے۔ عباسی شہید اسپتال کے ایم ایل او سلیم نے لاشوں کے نمونے حاصل کرکے اسلام آباد پہنچا دیئے۔ جن لاشوں کی شناخت ہوجائے گی ان کو ورثاء کے حوالے کیا جائے گا اور ناقابل شناخت میتوں کو ایدھی قبرستان میں سپردخاک کردیا جائیگا۔
ڈاکٹروں کے مطابق کئی لاشیں سالم حالت میں نہیں ہیں اور ان کے الگ الگ ٹکڑے موجود ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں پاک بحریہ کے ملازمین بھی موجود تھے جبکہ زیادہ تر محنت کش تھے جوکہ تربت سے کراچی آرہے تھے۔ لاشوں کی کراچی منتقلی کے بعد ایدھی سینٹر میں انفارمیشن ڈیسک قائم کردی گئی جہاں لواحقین کو معلومات فراہم کی جارہی تھیں لیکن لواحقین اس وقت سولی پر لٹک گئے جب ان کو بتایا گیا ان کے پیاروں کی میت کی شناخت اسلام آباد کی لیباریٹری سے ڈی این اے کی رپورٹ 15روز میں آئے گی۔
حب کے اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ اگر بسوں میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کے ڈرم نہیں لدے ہوتے تو ہلاکتیں بہت کم ہوتیں۔ اچانک آگ پھیلنے کے باعث لوگ زندہ جل گئے۔ ریسکیو کی ٹیمیں فوراً پہنچ گئی تھیں مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں امدادی کاموں میں حصہ بٹانے آگئے تھے لیکن آگ نے سب کو بے بسی کی تصویر بنادیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا لیکن ایرانی تیل کی کھلم کھلا اور غیرقانونی فروخت حکمرانوں کا منہ چڑاتی رہی۔
یہ تیل پورے بلوچستان میں دستیاب ہے اور ڈرموں میں بھر کر ٹرکوں اور بسوں کے ذریعہ لایا جاتا ہے۔ کراچی میں بھی ایرانی تیل کی فروخت کیلئے پٹرول پمپ قائم ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے ایرانی تیل کی غیرقانونی فروخت کا نوٹس لئے جانے کے بعد کراچی میں رینجرز نے کارروائی کی تھی اور ہزاروں لیٹر پٹرول ضبط کرلیا تھا لیکن اسمگلنگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔
اسمگل شدہ ایرانی تیل سستا ضرور ہوتا ہے لیکن غیر معیاری ہوتا ہے جس سے انجن کو نقصان پہنچتا ہے لیکن ڈرائیور حضرات چند سکوں کی خاطر ایرانی تیل استعمال کرتے ہیں۔
گڈانی کا حادثہ کا ذمہ دار پاکستان کسٹمر کوسٹ گارڈ‘ رینجرز‘ حکومت بلوچستان انتظامیہ اور پولیس کو بھی قرار دیا جاسکتا ہے جوکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہوگئے۔
مذکورہ اداروں نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ایرانی پٹرول اور دیگر ممنوعہ سامان کی کراچی اور دوسرے علاقوں میں اسمگلنگ روکنے کیلئے فول پروف اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ گڈانی بس حادثہ کے بعد جہاں حکومت کے کئی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی وہاں ان کے خلاف اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو حکومت جاگ جاتی ہے۔
حکمرانوں کی جانب سے احکامات بھی جاری ہوجاتے ہیں لیکن چند دن گزرنے کے بعد سب بھول بھال جاتے ہیں۔ پھر کوئی حادثہ ہوجاتا ہے۔
ایرانی تیل کی اسمگلنگ کا کوئی ایک روٹ نہیں ہے یہ کئی روٹوں سے بلوچستان اور کراچی لایا جاتا ہے اس مقصد کیلئے چھوٹے بڑے ٹینکر‘ بسیں‘منی بسیں اور ٹرک استعمال ہوتے ہیں۔ بلوچستان سے کراچی آنے والی تمام پسنجر بسوں کی چھت پر پٹرول کے ڈرم لدے ہوتے ہیں جن کا کرایہ بس مالکان کی اضافی آمدنی میں شمار ہوتا ہے۔
کراچی کوئٹہ کے درمیان چلنے والی ایکسپریس بسیں پٹرول کے ڈرم لادنے سے گریز کرتی ہیں تیل کی زیادہ تر اسمگلنگ تربت‘ پنجگور اور تافتان کے روٹس سے ہوتی ہے۔ تافتان اور خضدار کا روٹ بھی استعمال ہوتا ہے۔ آئل ٹینکرز کے ذریعہ بھی پٹرول لایا جاتا ہے۔ زیادہ تر چھوٹے ٹینکرز ایرانی پٹرول لاتے ہیں ایک ہزار لیٹر پٹرول سے بھرے ہوئے ٹینکر کو کراچی تک لانے کیلئے 50ہزار روپے رشوت ادا کرنا پڑتی ہے یہ رشوت پولیس کوسٹ گارڈ کسٹمز اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے وصول کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سڑک کے راستے کے ساتھ یہ پٹرول لانچوں کے ذریعہ بھی اسمگل ہوتا ہے لانچوں کے روٹ جیوانی اور گوادر میں ہیں۔ یوں سمندری راستے سے زیادہ اسمگلنگ ہوتی ہے۔ ایک لانچ کے تہہ خانہ میں مچھلیوں کے ساتھ 5ٹرک پٹرول کی گنجائش ہوتی ہے۔ کراچی بلوچستان سے بڑی مارکیٹ ہے۔ جہاں کونے کونے میں سستا ایرانی پٹرول دستیاب ہیں۔ کراچی میں ایرانی پٹرول کو ذخیرہ کرنے کیلئے گودام اور ویئر ہاؤس موجود ہیں ان گوداموں میں سیکورٹی اور سیفٹی کا کوئی بندوبست نہیں۔
جہاں کسی وقت بھی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ اورنگی اور گلستان جوہر بڑی مارکیٹ ہے جہاں پٹرول پمپ بھی موجود ہیں بعض پٹرول پمپ پاکستانی اور ایرانی پٹرول ملا کر فروخت کرتے ہیں۔
دریں اثناء ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹریفک کے حادثات سب سے زیادہ ہوتے ہیں جنوبی ایشیا سمیت بھارت میں ٹریفک حادثات کا تناسب پاکستان سے کم ہے۔ کراچی میں پہلے 7 سو افراد سالانہ حادثات میں مرتے تھے اب ان کی تعداد 2ہزار سالانہ ہوگئی جس کا سب سے بڑا سبب غیرتربیت یافتہ ڈرائیورز ہیں۔
حقیقت یہ ہے سڑکوں پر لاقانونیت ختم کرکے ٹریفک رولز پر عملدرآمد کراکے اور ڈرائیوروں کی تربیت کرکے ہزاروں زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ پاکستان میں ٹریفک کے اس قدرحادثات ہورہے ہیں کہ روڈ سیفٹی بے معنی ہوکر رہ گئی۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹریفک کے اس قدر بڑے حادثات ہوئے ہیں جس کی ترقی پذیر ممالک میں بھی مثال نہیں ملتی۔ ہائی وے پر زیادہ حادثات تعطیلات اور تہواروں‘ تقریبات اور عرس کے موقع پر ہوتے ہیں۔
حالیہ حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں اسکول کے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے سندھ میں دولت پور پر ہونے والی اسکول بس کے حادثہ میں دو درجن اسکول کے بچے ہلاک ہوگئے تھے جس پر پورا شہر سوگوار ہوگیا تھا۔ اس سے ریلوے کراسنگ پر ٹرین بچوں کو اسکول لے جانے والے چنگ چی رکشہ سے ٹکراگئی تھی جس کے نتیجے میں 10بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ گجرات میں اسکول وین میں آگ لگنے سے ٹیچرز سمیت بچے بھی جاں بحق ہوگئے تھے ایک جانب ہائی وے پر گاڑیاں ٹکرارہی ہیں تو دوسری جانب سی این جی کے سلنڈر ٹائم بم ثابت ہورہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان