بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ بلدید ٹاوٴن
خاتون سرکاری وکیل نے مقدمے سے علیحدگی اختیار کیوں کی؟۔۔۔۔ گواہوں کے بیانات کی نقول فراہم نہ کرنے پر عدالت بھی برہم ہوگئی
سالک مجید:
دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر تیزرفتار عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ایک طرف وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف مختلف صوبائی دارالحکومتوں کے اہم دورے کر رہے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردوں کی جانب سے مزید حملے بھی جاری ہیں جنہیں وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کی جانب سے دھاک بٹھانے کی آخری کوشش قرار دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے حکومت اور عوام مل کر دہشت گردی کے ناسور اور فتنے کا خاتمہ کردیں گے۔

حکومت سندھ کو اعلیٰ سطح پر وفاقی حکومت اور پاک فوج کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے درپیش چیلنجوں اور مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی سطح پر بعض کمزریوں اور پیچیدگیوں پر جلد قابو پانے کی ہدایت کی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں حکومت سند کو مختلف کمزور پہلووٴں کی نشاندہی کر کے فوری اقدامات کرنے کیلئے کہا گیا ہے اور اب عملدرآمد کی رفتار میں پہلے کی نسبت نمایاں تیزی آئی ہے۔

یہ بات اہم تھی کہ وزیراعظم جب کراچی آئے تو سیدھے کورہیڈ کوارٹر گئے جہاں آرمی چیف پہلے سے موجودتھے وہاں سندھ میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جاری کارروائیوں اور بعض مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی وہاں نہ گورنر سندھ کو شریک کیا گیا نہ ہی وزیراعلیٰ کو، عام تاثر ہے کہ وہاں سیاسی مداخلت، سیاسی پشت پناہی وغیرہ جیسے امور پر وزیراعظم کو تازہ صورتحال سے آگاہ کر کے ان کے خلاف کارروائی کے لئے وزیراعظم کی رضا مندی اور گرین سگنل مانگا گیا بعد ازاں گورنر ہاوٴس میں آصف علی زرداری کے ساتھ وزیراعظم ،آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے الگ تبادلہ خیال کیا اور پھر گورنر اور وزیراعلیٰ کی موجودگی میں سول وملٹری افسران نے بریفنگ دی اور اہم فیصلے کئے گئے۔

یہ تاثر عام لے کہ حکومت سند ھ کو جرائم میں ملوث افراد کی سرپرستی اور معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقداما ت کے حوالے سے آخری مہلت دی گئی ہے اور نتائج حوصلہ افزانہ ہونے کی صورت میں بتادیا گیا ہے ۔ کہ ”کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں“ اس جملے کے بہت سے معنی لئے جا رہے ہیں ۔ سیاسی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے کہ کیا حکومت سندھ کی چھٹی کی جائے گئی، کیا گورنر راج لگایا جائے گا ،کیا اسمبلی کے اندر سے تبدیلی لائی جائے گی، کیا خود آصف زرداری کے گرد گھیرا تنگ کیاجائے گا؟ آخر اس جملے کا مطلب کیا ہے؟
سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت سند ھ کو ڈرایا دھمکا یا گیا ہے تاکہ و ہ اپنی پرفارمنس میں بہتری لائے اور نتائج زیادہ تسلی بخش ہو سکیں۔
اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو گا سب کچھ تھوڑے سے رودوبدل کے ساتھ اس طرح چلتا رہے گا۔ سینٹ کے الیکشن کے بعد کچھ ردوبدل کابینہ میں متوقع ہیں جبکہ کچھ جرائم پیشہ افراد کی گرفتاریاں اور ان کے بیانات کی روشنی میں کچھ سیاسی شخصیات کے گرد گھیرا تنگ ہو جائے گا۔
سیاسی جماعتوں کے رہنما اور عہدیدار نجی محفلوں میں پوچھتے ہیں کہ کیا ملک میں مارشل لاء لگ چکا ہے جو سندھ حکومت کو ڈکٹیشن دی جا رہی ہے جو لوگ ڈکٹیشن دے رہے ہیں وہ بھی ان حالات کے پیدا ہونے کے برابر کے نہ سہی لیکن ذمہ دار ضرور ہیں خود کو بری الذمہ کیسے قرار دے سکتے ہیں۔
آخر اس ملک اور صوبے پر طویل عرصہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی قوتیں بھی حکومت کرتی رہی ہیں اور یہ تمام مسائل جن کی نشاندہی کی جا رہی ہے ایک حکومت کے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ مختلف حکومتوں کے ادوار کی نشانی ہیں اس کے باوجود سندھ حکومت کے دبایا جا رہا ہے کہ حالات باقی صوبوں میں بھی امن و امان اور دہشت گردی کے حوالے سے مختلف نہیں ہیں سندھ میں جو کچھ کیا گیا اس کے الفاظ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اسلام آباد اور لاہور میں واقعات ہو گئے اس سے قبل پشاور میں کچھ ہو چکا ہے کوئٹہ میں کیا کچھ نہیں ہوا۔

اٹھارویں ترمیم کے صوبائی خودمختار دے دی لیکن وفاق آج بھی صوبوں کودبا رہا ہے حالانکہ صوبے میں آئی جی پولیس ،چیف سیکرٹری اور ڈی جی رینجرز بھی وفاق حکومت یا اس کے ادارے لگاتے ہیں ان پر وزیراعلیٰ کو کوئی زور نہیں ہوتا۔ یہ بات وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ خود سندھ اسمبلی کے فلور پر بھی کہہ چکے ہیں پھر صوبے میں گورنر بھی وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے اور لہٰذا اگر صوبے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے تو اس کی ذمہ دار صرف صوبائی حکومت نہیں ہے بلکہ وفاق او اس کے بھیجے گئے نمائندے اور افسران بھی ذمہ دار ہیں اورا ن سے وابستہ ادارے بھی خود الگ تھلگ نہیں کر سکتے۔
پھر سوال یہ ہے کہ اگر پولیس سیاسی ہو چکی ہے تو جرائم پیشہ افراد اور ان کے سیاسی سر پرستوں کو پکڑنے سے رینجرز اور دیگر اداروں کو کس نے روک رکھا ہے؟
اُدھر سانحہ بلدیہ ٹاوٴن کیس سے سرکاری وکیل شازیہ ہنجرانے اچانک علیحدگی اختیار کر لی ہے جس کے ساتھ ہی مزید خدشات اور نئے سوالات نے سر اٹھالیا ہے عام تاثر ہے کہ یہ مقدمہ بہت ہائی پروفائل ہو چکا ہے اور سرکاری وکیلوں کے ساتھ ساتھ گواہوں پر بھی کافی دباو ہے اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا بھی بے حد ضروری ہو گیا ہے۔
۔ نے بھی اس مقدمے میں گواہوں کے بیانات کی نقول کی عدم فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ڈھائی سال سے تفتیش جاری ہے اور اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 950 گواہ ہیں ہائیکورٹ نے ایک سال کے اندر مقدمے کو نمٹانے کیلئے کہا ہے۔
ادھر سانحہ بلد یہ ٹاوٴن کی طرح سانحہ شکار پور کے متاثرین بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ شکار پورسے کراچی تک لانگ مار چ اور دھرنا بھی دیا گیا ہے۔ حکومت سند ھ سے طویل مذکارات اور یقین دیانیاں ہوئی ہیں۔ سانحہ شکار کے متاثرین کو دئیے گئے امدادی چیک بھی بانس ہو گئے بینک نے رقم دینے سے انکار کر دیا۔ یہ صورتحال حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث اور لواحقین کے لئے مزید تکلیف دہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-03

(0) ووٹ وصول ہوئے