بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
صحیح قیادت
اسکے بغیر قومیں نہیں بن سکتیں۔۔۔۔وقت گزرنے کےساتھ ساتھ عوام کےمسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جب عوام کےمسائل بڑھنے لگ جائیں اور اُنکاحل کہیں نظر نہ آئےتو سمجھ لیں ملک میں صحیح قیادت یعنی گڈگورننس کافقدان ہے
زہرا حسین :
حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی او ردیگر جرائم پر قابو پانے میں بے بس ہوچکی ہے۔ اس وقت تقریباََ ہر ادارہ خسارے میں جا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی اداروں میں سیاسی بھرتیوں، کرپشن اوع بدانتظامی نے اُنہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ عوام کے مسائل سے چشم پوشی کر کے منصوص علاقوں تک مختلف منصوبوں کا ذکر کر کے عوام کو خوش کیا جا رہا ہے۔
عوام دو وقت کی روٹی امن اور انصاف کو ترس رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بات کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی کہ جرائم پر قابو پانے کیلئے فوری انصاف اور سزاوں پر عمل درآمد کس قدر ضروری ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جب عوام کے مسائل بڑھنے لگ جائیں اور اُن کا حل کہیں نظر نہ آئے تو سمجھ لیں ملک میں صحیح قیادت یعنی گڈ گورنس کا فقدان ہے اور یہ حقیقت ہے کہ گڈ گورنس کے بغیر نہ تو کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔

ملکی تاریخ میں کسی بھی حکومت کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سیاسی اصولوں پر صحیح طرح سے پوری اُتری ہو ۔ ماہرین کے مطابق جب تک ملک کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیل نہیں آجاتی تھانہ کلچر پٹواری ،ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں میں کمیشن مافیا کا خاتمہ اور اور ملک میں لا اینڈ آرڑر کی سہولت تسلی بخش نہیں ہو سکتی۔ محکمہ پولیس، نیب ، ریلوے ، پی آئی اے، نادار، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، واپڈا اور دیگر صوبائی ووفاقی اداروں میں جس طرح سیاسی بھرتیاں کی گئیں ، اس کی مثال نہیں ملتی۔
بغیر میرٹ کے کی گئی بھرتیوں کی وجہ سے حق داروں کو اُن کا حق نہ مل سکا۔ نیتجتاََ پڑھے لکھے بے روزگار نو جوان کی مایوسی میں اضافہ ہوا ۔ دوسری جانب سیاسی بھرتیوں پر تعینات کئے گئے افراد نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کرپشن اور بدانتظامی کی تمام حدیں پار کردیں۔
ملک کی اعلیٰ قیادت ان سب حقائق سے چشم پوشی کرتی رہی۔ بڑا معرکہ مارا تو کہہ اُٹھی کہ احتساب کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
ہر معاملے کی چھان بین کی جائے گئی باتو ں کی حد تک تو یہ ہوتا رہا اور بڑے بڑے سکینڈل فائلوں میں ہی دب کر رہ گئے۔ بلکہ احتساب کا ادارہ بھی اثر ورسوخ اور سیاست کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اپنے مشن پر کام مکمل نہ کر سکا۔ اس وقت دہشگردی سمیت غربت، بیروزگاری، مہنگائی، بجلی و گیس اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی اور دیگر کئی سنگین مسائل کا پاکستانی قوم کو سامنا ہے۔
عوام اس بحث میں نہیں اُلجھنا چاہتے کہ پاکستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات ضروری ہیں یافوجی آپریشن۔ اُنہیں تو ہر حال میں امن اور مسائل سے چھٹکارا چاہیے۔
بعض اوقات قانون نافذ کر نے والے ادارے بڑی منصوبہ بندی سے کسی دہشت گرد یا بڑے مجرم کو گرفتار کرتے ہیں اُنہیں عدالتوں میں پیش کیاجا تا ہے لیکن کمزور پرایسیکویشن کی وجہ سے وہ بچ نکلتے ہیں۔
کسی کو سزا ہو بھی جائے تو اُس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ اس سے زیادہ پریشان کن بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ گزشتہ سات برس سے ملک میں سزائے موت کے کسی قیدی کو تختہ دار نہیں لٹکایا جا سکا جبکہ ان میں دہشت گرد بھی شامل ہیں کراچی میں امن وامان کی بحالی کیلئے فوج و رینجرز تعینات کرنے کے باوجود دہشت گرد اپنا کام کرتے جاتے ہیں۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بات کو کبھی اہمیت نہیں دی کہ جرائم پر قابو پانے کیلئے فوری انصاف اور سزاوٴں پر عملدرآمد کس قدر ضروری ہے۔
چوری ، ڈکیتی اور قتل جیسے جرائم تو شاید کسی کھاتے میں نہیں آتے۔ ملک میں دہشت گردوں کو فوری سزا دینے کا بھی تصور نہیں ہے۔ فوجی قیادت نے بھی دہشت گردو ں کو سزائیں نہ ملنے پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ فوج کا کہناہے کہ سزائیں نہ ملنے کے باعث دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فورسز کی کوششوں پر منفی اثرپڑرہا ہے۔
فوج کا اظہار تشویش درست ہے، کسی ملزم کو سزا ملنے سے صرف انصاف کا بول بالا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک طرح سے پورے معاشرے کیلئے سبق ہوتا ہے کہ اگر جرم سرزد ہو تو پھر قانون کی گرفت سے بچنا ناممکن ہو جائے گا۔
قانون کے شکنجے میں آنے کا خوف بھی لوگوں کو جرم سے روکتا ہے۔
ملک میں گڈگورنس کے فقدان کی وجہ سے مختلف اداروں کے ہاتھوں تنگ عوام عدالتوں کا رُخ کرتے ہیں اور اس طرح مقدمات کے انبار کی وجہ سے نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کے دباوٴ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انصاف کے عمل میں تاخیر سے عوام میں بے چینی پیدا ہونے سے بہت سے نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔
انسداد رشوت ستانی کے ادارے بھی کارکردگی ک حوالے سے ناکام منظر پیش کرتے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ جُوں کا تُوں رہا۔ نہ ہی قتل وغارت ،،لوٹ مار اور سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی آسکی نہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی کوشش کی گئی۔آج حالت یہ ہے کہ امن وامان کی ابتر حالت کے حوالے سے پاکستان سر فہرست ہے۔
حقائق پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوانی گڈگورنس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ملک میں بدعنوانی کا کلچر تیزی سے فروغ پارہاہے جس میں حکومت اور قانون ساز ادارے برابر کے شریک ہیں۔ ان با اختیار لوگوں کے کھاتے کھل جائیں تو دولت کے انبار کا سراغ مل جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بہت سے محکموں کی کارکردگی دیکھتے ہوئے آسانی سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ملک کو سالانہ کروڑوں کامنافع دینے والے ادارے اسلئے خسارے کا باعث بنے کہ اس بہتی گنگا میں جس کا جی چاہا اُس نے ہاتھ دھوئے۔
مرکزی وصوبائی ادارے کرپشن کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوئے۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ممالک و اقوام نے سابقہ غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا اور نام روشن کیا۔ جرمنی نے جنگ عظیم او اس میں ہونے والی شکست سے بہت کچھ سیکھا وہاں جمہوری اداروں اور روایات کو اس قدر مستحکم کیا گیا ہے کہ آج جرمنی ہر لحاظ سے ترقی و کامرانی کی منازل کو چھو چکا ہے اور وہاں دور دور تک آمریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اکثر مغربی ممالک میں بھی جمہوری روایات اور عوامی شعور و آگہی کی وجہ سے ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی جرأت پائی جاتی ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ تو اپنے اسلاف کے شاندار کارناموں کو یاد رکھا ، نہ ہی گزشتہ حکومتوں کی غلطیوں سے کچھ سیکھا؟ سوال اُٹھتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، کیوں ہم میں جرات پیدا نہیں ہوسکی کہ اپنا احتساب خود کریں تو اس کا جواب بہت سیدھا سا ہے کہ حرص و طمع او انائیت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ نہ ہم نے ماضی سے سیکھا اور نہ حال کو اس کا حق دیا تو ایسے میں مستقبل کو سنوارنے کا خواب سوائے اب آپ کو اور عوام کو دھوکہ دینے کے کچھ نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-26

(0) ووٹ وصول ہوئے