بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ریمنڈ ڈیوس کے ایجنٹ اور پاکستانی ایٹم بم
پاکستانی حکام ریمنڈ کی رہائی کیلئے آنے والی فون کالوں پر خوش ہوتے رہے مگر کسی نے یہ نہ سوچا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔۔۔ لیون پنیٹا کیلیفورنیا میں اپنے اخروٹوں کے فارم میں گلہریوں کی اچھل کود سے محظوظ ہورہا تھا
محسن فارانی:
غالب نے اپنے محبوب کے بارے میں کہا تھا
ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اُس کا آسمان کیوں ہو؟
یہ بات پاکستانی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ”دوست“ امریکہ پر خوب صادق آتی ہے۔ امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب Worthy FIghts میں ریمنڈ ڈیوس کی واردات اور اسامہ بن لادن کے تعاقب کے واقعات پر خامہ فرسائی کی ہے۔
پنیٹا کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد پاکستانی حکام اس بات پر پھولے نہ سمارہے تھے کہ اس قاتل جاسوس کی رہائی کیلئے امریکی حکام انہیں بار بار فون کررہے تھے۔ لیکن کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ آخر امریکی انتظامیہ ایک ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کیلئے اس قدر کوشاں کیوں ہے؟ پنیٹا لکھتا ہے کہ ”امریکہ اسامہ بن لادن تک مئی 2011ء کو لاہور میں ریمنڈ دیوس کی گرفتاری سے اسامہ کے خلاف آپریشن تاخیرکا شکار ہوگیا۔
“ اگر دو پاکستانی نوجوانوں کا قاتل دیت کی آڑ میں 16مارچ کو رہا نہ کردیا جاتا تو پنیٹا کے بقول ”شاید اسامہ کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن مزید التوا کا شکار ہوتا چلا جاتا ، لہٰذا اس آپریشن سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان سے نکالنا بہت ضروری تھا۔“ پاکستان کے خفیہ حکام نے شہید نوجوانوں کے ورثاء سے صاف کہہ دیا تھا کہ ہم ریمنڈ دیوس کو پھانسی لگاسکتے ہیں نہ قید رکھ سکتے ہیں، لہٰذا دیت قبول کرلو۔
یوں دیت قبول کروا کر ایک روز ریمنڈ ڈیوس کو جان کیری کے ساتھ روانہ کردیا گیا۔
لیون پنیٹا کیلیفورنیا میں اپنے اخروٹوں کے فارم میں گلہریوں کی اچھل کود سے محظوظ ہورہا تھا جب اس سے پوچھا گیا کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو نہ چھوڑا جاتا تو پھر امریکہ کیا کرتا؟ کیا اس کی رہائی سے قبل ایبٹ آباد آپریشن پر عملدرآمد کردیا جاتا؟ پنیٹا یکدم سنجیدہ ہوکر بولا: ”آپ ایسا کیونکر سوچ سکتے ہیں؟ اسامہ کے خلاف آپریشن ہر امریکی شہری کی زندگی بچانے کیلئے کیا جاتا تھا۔
ایسے میں ریمنڈ ڈیوس جو بیرون ملک امریکہ کیلئے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار ہوگیا تھا، بھلا اسے جیل میں گلنے سڑنے کیلئے کیسے چھوڑا جاسکتا تھا۔ ریمنڈ کو بچانا اسامہ کو مارنے سے زیادہ اہم تھا!“
جی ہاں، ریمنڈ جس نے پاکستان بھر میں اپنے 7000جاسوس پھیلا رکھے تھے، وہ گویا ایسا طوطا تھا، جس میں امریکہ کی جان تھی اور ان کی جاسوسی کارروائیوں کا دائرہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک پھیلا ہوا تھا۔
امریکی تحقیقاتی صحافی ویبسٹر ٹارپلے نے نائن الیون پر ایک کتاب ”نائن الیون: خود ساختہ دہشتگردی“ لکھی ہے۔ اس نے ایک ٹیوی انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ نائن الیون کا واقعہ دراصل پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنے کے عمل کا حصہ تھا۔ جنرل حمید گل نے تو افغانستان پر امریکی حملے اور وہاں RDFیعنی سریع الحرکت فوج کی تعناتی کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو لے جانے کی تیاری ہے۔
چونکہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، لہٰذا اس پر براہ راست حملہ نہیں کیا جاسکتا تھا، چنانچہ امریکیوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے سوچا کہ افغانستان میں قدم جما کر کوشش کی جائے۔ ویبسٹر ٹارپلے کا کہنا ہے کہ افغانستان پر حملہ دراصل پاکستان پر حملے کا پہلا مرحلہ تھا مگر ریمنڈ ڈیوس کے پکڑے جانے نے کھیل خراب کردیا کیونکہ ریمنڈ اس پر کام کررہا تھا کہ پاکستان میں ایسا گروہ تشکیل دیا جائے جو پاکستان میں کہیں جراثیمی حملہ کرائے یا کسی علاقے پر ایک ڈرٹی بم سے حملہ کردے جس سے امریکہ کو یہ کہنے کا موقع مل سکے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں۔
اس الزام کی آڑ میں امریکہ پاکستان پر حملہ آور ہونا یا اس کے ایٹمی پروگرام پرکنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مگر پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کو پکڑلیا اور اس کے بتائے ہوئے سات ہزار ایجنٹوں کو ملک سے نکال کر اس منصوبہ کو ناکام بنادیا۔
ٹارپلے نے مزید لکھا ہے کہ نائن الیون کا ڈرامہ امریکہ کے ملٹری کمپلیکس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رچایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ”9/11ایک ایسا واقعہ نہیں تھا جس نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان کی وجہ سے جنم لیا ہو‘ بلکہ یہ ایک عشرے کے طویل معاشی و مالی، سیاسی و فوجی ابتر معاملات اور باہی کا بد یہی ننتیجہ تھا۔ یوں نائن الیون کا واقعہ امریکہ کو معاشی و سیاسی تباہی سے بچانے کی بے بسی کی حالت میں کی گئی ایک کوشش تھا۔ نائن الیون کے واقعے کی مشق اٹلی اور جرمنی میں دہشتگردی کو فروغ دے کر کی گئی تھی“ (جہاں ”ریڈبریگیڈ“ اور بادر منہوف نامی دہشت گرد تنظیمیں 1980ء کی دہائی میں سرگرم رہی تھی) دراصل امریکہ دنیا میں اپنی بالادستی ہر حال میں قائم رکھنا چاہتا تھا اور اس سلسلے میں اپنے عوام کو رکاوٹ سمجھا تھا جو المیہ ویت نام کے بعد کسی عالمی پنگے کے حق میں نہیں تھے، اس لئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے اس نے 9/11کا ڈرامہ رچایا۔
عوام کو اپنی راہ پر لگانے کیلئے امریکی اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ پر ایک ”حملہ“ ضروری خیال کیا تھا۔
ویبسٹر ٹارپلے دہشت گردی کے معاشرتی پہلو کو رد کرتا ہے۔ وہ اس سوچ کا حاملہ ہے کہ ظلم و ستم ، زیادتی اور بے بسی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔ دنیا میں ایسے جاسوسی ادارے معرض وجود میں آچکے ہیں جو بعض دہشتگرد تنظیموں کو اپنے مقصد کیلئے بناتے اور استعمال کرتے ہیں۔
ان جاسوسی اداروں میں امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی، اسرائیلی موساد، برطانوی ایم آئی 6، روسی ایف ایس جی (سابقہ کے جی بی)، جرمن BND، فرانسیسی SDECEاور اطالوی SIS MIکے علاوہ بھارتی RAWاور آئی بی شامل ہیں۔ ٹارپلے کے بقول 11/26(ممبئی) کا واقعہ بھی سی آئی اے، موساد اور انڈین آئی بی کا کیا دھرا تھا مگر الزام پاکستان پر تھوپ دیا گیا۔ سی آئی اے کا ایجنٹ ڈیوڈ ہیڈ لے جو امریکی شہری ہے اور اس پر شکاگو میں مقدمہ چل رہا ہے، ممبئی واقعے کا ذمہ دار ہے۔
اسکے باووجود پینٹاگان نے اپنی رپورٹ (5نومبر2014ء) میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کو بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔
ٹارپلے کہتا ہے کہ سانحہ ممبئی کے سلسلے میں پاکستان پر الزام کون لگارہا ہے جو خود سی آئی اے کا ایجنٹ اور ممبئی پلان کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پاکستان نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا اور حقائق مسخ کئے ہیں۔
امریکہ شرق وسط کی خونریزی کا بھی ذمہ دار ہے۔ شرق وسط کا اسرائیلی منصوبہ جو کہ ”جوبائیڈن منصوبہ“ بھی کہلاتا ہے۔ (امریکی نائب صدر کے نام پر)، اس کا مقصد شرق وسط کے ممالک کو مزید چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنا اور اسرائیل کو بڑا ملک بنانا ہے۔ امریکہ کیلئے پاکستان کا چین کو گوادر کوریڈور (راہداری) فراہم کرنا قابل قبول نہیں جس کی وجہ سے وہ بھارت اور افغانستان کی طرف سے دباؤ بڑھانے کا ارادہ کرچکا ہے۔

جہاں تک نائن الیون کے امریکی ساختہ ڈرامہ ہونے کا تعلق ہے، اس کی تصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی شائع کردہ کتاب ”اسلام اور مغرب کے تعلقات“ (صفحہ120) سے بھی ہوتی ہے ۔ اس کے مطابق اسلام آباد کے ایک پرنٹنگ پریس میں فروری 2000ء میں کسی اور ملک کے ماہرین کے حکم پر پشتو اور فارسی زبان میں وہ کتب طبع ہورہی تھیں، جن کو امریکہ بہادر نے نائن الیون 2001ء کے بعد افغانستان پر قبضہ کر کے وہاں بطور نصاب رائج کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نائن الیون کوئی ہائی جیکنگ کا حادثہ نہیں تھا بلکہ یہودونصاریٰ (اسرائیل اور امریکہ) کی ابلیسی عالمی پلاننگ کا حصہ تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ زمینی علاقوں پر قبضے کے بعد ذہنی علاقوں پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔ اگر نئی نسل کے اذہان پر قبضہ نہ کیا جائے تو زمینی علاقووں پر قبضہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسی لئے یہودو نصاریٰ اور ان کی ایج جی اوز نے پاکستان کے نصاب تعلیم کو خاص طور پرہدف بنا رکھا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-06

(7) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان