بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رینجرز کے قیام میں توسیع کے بعد
دیر آید درست آید کے مصداق حکومت سندھ نے رینجرز کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع کر دی جس کے ساتھ سندھ میں سیاسی درجہ حرارت معمول پر آ گیا اور صوبے میں تناؤ کی کیفیت ختم ہو گئی
شہزاد چغتائی:
دیر آید درست آید کے مصداق حکومت سندھ نے رینجرز کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع کر دی جس کے ساتھ سندھ میں سیاسی درجہ حرارت معمول پر آ گیا اور صوبے میں تناؤ کی کیفیت ختم ہو گئی۔ عسکری قوتوں اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ختم کرانے میں بلاول بھٹو نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کورکمانڈر کے ساتھ ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ہم آہنگی کی فضا نے جنم لیا اور بعد میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ مشاورت کے بعد رینجرز کے اختیارات میں توسیع کر دی گئی۔
اس طرح مسلم لیگ ن کے بعد پیپلز پارٹی بھی عسکری قوتوں کے ساتھ ایک صفحہ پر آ گئی اور وزیراعظم نواز شریف نے سکون کا سانس لیا جوکہ پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کی فضا سے پریشان تھے اور وفاقی حکومت سندھ میں اقتدار کے ایوانوں سے اٹھنے والی تپش کو محسوس کر رہی تھی۔ سیاسی حلقوں نے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی دوستی کو جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار دیا ہے۔
بعض حلقوں کے مطابق پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ناصرف مکمل طور پر زیرنگیں ہو گئی ہے اور پیپلز پارٹی نے اب اینٹ سے اینٹ بجانے کا پلان موٴخر کر دیا ہے۔ پارٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ بھٹو کی پھانسی سمیت تمام معاملات پر خاموشی اختیار کرے گی اور آئندہ تمام فیصلے اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے کرے گی جس کے عوض پیپلز پارٹی کے سنگین قومی جرائم میں ملوث افراد کی جان بخشی ہو جائے گی۔
اس طرح مذکورہ مفاہمت کو ایک اور این آر او قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق مسلم لیگ پیپلز پارٹی کی جانب سے ہر سطح پر مفاہمت کی پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہو گا جبکہ ایم کیو ایم کی شامت آ جائے گی۔ پیپلز پارٹی نے گورنر راج کے نفاذ کا راستہ ہمیشہ کیلئے روک دیا ہے۔ چند روز تک پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں زیر عتاب تھے۔
اب پیپلز پارٹی بحران سے نکل گئی ہے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے ذہانت کا مظاہرہ کر کے اپنی صوبائی حکومت کو بچا لیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو اس بات کا گلہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر دھوکہ دے دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم بند گلی میں کھڑی ہے اور اس کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ آصف علی زرداری کی جارحانہ تقریر کام آ گئی۔
ایم کیو ایم کے قائد کی دھواں دھار تقاریر بے فیض ثابت ہو رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے معاہدے کے بعد وزیراعظم نواز شریف مزید مضبوط ہو گئے اور فرینڈلی اپوزیشن کو دوبارہ زندگی مل گئی۔ مسلم لیگ ن نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا تھا کہ وہ عسکری حلقوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک کریں تاکہ دونوں مل کر تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی یلغار روک سکیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان کشمکش کا فائدہ بھی مسلم لیگ کی حکومت کو ہْوا ہے۔ تحریک انصاف جو کہ حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہی تھی اب اس نے کراچی سے لندن تک ایم کیو ایم کے خلاف مظاہروں کا پلان بنایا ہے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان کراچی میں بھی ایک دوسرے کے خلاف برطانوی ہائی کمیشن میں یادداشتیں جمع کرانے کا مقابلہ ہو رہا ہے اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہی ہیں۔
اپوزیشن کی جماعتوں میں اختلافات کے باعث حکومت کی پوزیشن ناقابل تسخیر ہو گئی ہے اور حالات ایسے پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتیں ایک نہیں ہو سکتیں۔ آصف علی زرداری کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ فاصلے ہو گئے تھے اور وزیراعظم نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے ناطہ نہیں توڑا بلکہ آصف علی زرداری نے نواز شریف کو منانے کی ذمہ داری خورشید شاہ کو سونپ دی تھی اور کسی ایک مرحلے پر بھی پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف سے رابطہ نہیں کیا جس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی وزیراعظم نواز شریف پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں اب پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ میں تصادم کی راہ چھوڑنے اور سرتسلیم خم کرنے کے نتیجے میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان فاصلے قربتوں میں تبدیل ہوں گے۔
پیپلز پارٹی اور عسکری قوتوں کے درمیان افہام تفہیم پیدا ہونے کے بعد ایم کیو ایم مزید دباؤ آ گئی۔ پیپلز پارٹی سے چند روزہ دوستی ختم ہونے کے بعد ایم کیو ایم اب اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ سیاست کے سائنسدان آصف علی زرداری ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر آگے بڑھے اور پھر ساتھ چھوڑ دیا۔ ایم کیو ایم کا ساتھ ملنے پر پیپلز پارٹی سودے کاری کی غیر معمولی پوزیشن میں آ گئی تھی جس کا اس نے بھرپور فائدہ اْٹھایا۔
چند روز قبل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی دوستی عروج پر تھی لیکن اب اس میں دراڑ پڑ گئی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے دو روز قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر بے وفائی کا الزام عائد کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اب ایم کیو ایم سے رسمی طور پر دوستی نبھا رہی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر مقدمات کرنے کی مذمت کی۔
پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری حالانکہ ایم کیو ایم کے ساتھ بگاڑنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن بعض وزراء ایم کیو ایم کے خون کے پیاسے دکھائی دیتے ہیں کابینہ میں ایسے وزراء کی کمی نہیں جن کے پہلے دن سے ایجنسیوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ یہ ایجنسیاں ہی ان کو اوپر لاتی ہیں اور ان کو وزیر بنوایا ہے۔ ان میں سے بعض وزراء کے پاس حلقہ انتخاب نہیں تھا۔
نائن زیرو پر ایک اور چھاپہ 29 رمضان کی شب کو سحری کے وقت مارا گیا اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں قمر منصور اور کیف الوریٰ کو گرفتار کر لیا گیا چھاپہ کے وقت نائن زیرو جانے والے تمام راستے سیل کر دئیے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز بلال اکبر نے کہا کہ چھاپہ نفرت انگیز تقاریر روکنے کیلئے مارا گیا جن افراد کو پکڑا گیا ہے وہ نفرت انگیز تقاریر میں معاونت کرتے تھے۔
نائن زیرو پر دوسرا چھاپہ پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کے بعد مارا گیا۔ تنہا ہو جانے کے بعد ایم کیو ایم اب تحریک چلانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم نے بھوک ہڑتالیں اور دھرنے شروع کئے تو معیشت کو دھچکا لگے گا۔ ادھر دبئی میں ہونے والے پیپلز پارٹی کے پے در پے اجلاسوں نے حکومت سندھ کے بے اختیار ہونے کا تاثر زائل کر دیا ہے۔
یہ بات خوش آئند تھی کہ فریال تالپور کے جانے کے بعد سندھ میں متوازی حکومت ختم ہو گئی تھی اور کرپٹ افسران کو ہٹا دیا گیا ابھی وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اپنی پوزیشن مستحکم ہی کر رہے تھے کہ دبئی میں اجلاس کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کو سندھ حکومت میں مداخلت قرار دیا گیا تو مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اعظم لوہانی نے سوال کیا کہ کیا سندھ کا دارالحکومت دبئی شفٹ ہوگیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ فریال تالپور کے جانے کے بعد سندھ میں متوازی حکومت ختم ہو گئی۔ کرپٹ افسران کو ہٹا دیا گیا لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کے بااختیار ہونے کا تاثر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ان اجلاسوں کے خلاف ہیں انہوں نے دبئی کے گزشتہ اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی وہ حکومت کو کراچی سے چلانا چاہتے ہیں اور خود فیصلے کرنا چاہتے ہیں جن کو عسکری قوتوں کی تائید مل سکتی ہے اور صوبے میں اچھی حکمرانی کی مثال قائم ہو سکتی ہے اس طرح عسکری حلقے اور پیپلز پارٹی مزید نزدیک آ سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قائم علی شاہ سے کسی کو شکایت نہیں۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں وہ گورنر سندھ عشرت العباد کی طرح عسکری حلقوں کی پسندیدہ شخصیت ہیں جو کہ چاہتے ہیں کہ قائم علی شاہ مداخلت سے پاک حکومت کریں اور آزادانہ فیصلے کریں لیکن دبئی ان کی راہ میں حائل ہو گیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان