بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قائد کی سرگوشی
فاطمی خدا حافظ
قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ یکم جولائی1948ء کو کراچی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرنا منظور کرچکے تھے۔ لیکن کوئٹہ سے کراچی تک ہوائی سفر کرتے ہوئے ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔
محمد سلیم:
قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ یکم جولائی1948ء کو کراچی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرنا منظور کرچکے تھے۔ لیکن کوئٹہ سے کراچی تک ہوائی سفر کرتے ہوئے ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔ سٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب میں موجود ہر شخص نے محسوس کیا کہ قائداعظم کی صحت خراب ہوچکی ہے۔ ان کی آواز بمشکل سنی جاسکتی تھی۔ اپنی تقریر کے دوران میں وہ رکتے رہے اور کھانستے رہے۔
جب تقریب سے فارغ ہوکر وہ واپس گورنر جنرل ہاوٴس پہنچے تو کپڑوں اور جوتوں سمیت بستر پر گر گئے مگر بستر پر پڑے اس ناتواں جسم میں نظروں کو چندھیا دینے والی ذہانت کا شعلہ اسی طرح روشن تھا(70)۔
کراچی میں پانچ روز قیام کے بعد ، کوئٹہ واپسی کے اگلے ہی روز ان کی طبیعت میں تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ چنانچہ وہ کوئٹہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع زیارت چلے گئے۔
وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی بہن کی اس بات سے اتفاق کیا کہ اب انہیں مناسب طبی مشورے اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ان کی زبانی یہ سن کر فاطمہ جناح نے بغیر کسی تاخیر کے لاہور کے ممتاز فزیشن کرنل الہی بخش کو فوری طورپر بذریعہ ہوائی جہاز زیارت طلب کرلیا۔ 24جولائی1948ء کو کرنل الہی بخش نے قائداعظم کا طبی معائنہ کیا۔ ڈاکٹر کے استفسار پر قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نے 1934ء سے لیکر اب تک اپنی بیماری کی تفصیل ٹھیک ٹھیک انہیں بتادی(71)۔

اگلے روز قائداعظم کے خون اور تھوک کے نمونوں کے کلینیکل معائنے سے ڈاکٹر الہی بخش کے اس شک کی تصدیق ہوگئی کہ انہیں ٹی بی ( تپ دق) ہے۔ ان کے استفسار پر ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے خیال میں یہ مرض کم ازکم دو برس پرانا ہے۔ قائداعظم نے پوچھا:” کیا آپ نے مس جناح کو میری بیماری سے آگاہ کردیا ہے“۔ ڈاکٹر الہی بخش کہنے لگے: ”جی ہاں، میں نے انہیں بتا دیاہے“ قائداعظم نے کہا:” میراخیال ہے آپ نے ایسا کرکے غلطی کی۔
بہرحال وہ ایک خاتون ہیں“ (72)۔ آپ نے دیکھا کہ اس حالت میں بھی ان کی اپنی بہن کے جذبات کا کتنا خیال تھا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ اپنی بہن کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور رک رک کر کہنے لگے(73)۔
”فاطمی، تم درست ہی کہا کرتی تھیں۔مجھے کسی ماہر ڈاکٹر سے بہت پہلے مشورہ کرلینا چاہتے تھا مگر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ آدمی صرف جدوجہد کرسکتا ہے۔
تم جانتی ہو میرا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ میں کبھی آنکھیں بند کرکے دوسروں کے مشورے قبول نہیں کرتا“۔
جولائی 1948ء کے اواخر میں وزیراعظم لیاقت علی خاں کسی پیشگی اطلاع کے بغیر زیارت آئے۔ چودھری محمد علی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کرنل الہی سے قائداعظم کی صحت کے بارے میں پوچھا لیکن کرنل صاحب نے انہیں بتایا کہ میں اپنے مریض کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں بتا سکتا۔
وہ قائداعظم سے ملے تو آدھ گھنٹے تک ان سے باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد چودھری محمد علی نے پندرہ منٹ تک قائداعظم سے ملاقات کی(74)۔
اگست1948ء کے دوسرے ہفتے میں قائداعظم کا بلڈ پریشر بہت کم ہوگیا اور ان کے پاوٴں پر ورم آگیا۔ چنانچہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر وہ 13اگست کو زیارت سے کوئٹہ چلے آئے۔ کوئٹہ پہنچ کر ان کی صحت بہتر ہونے لگی۔ اس پر ڈاکٹر الہی بخش نے مشورہ دیا کہ وہ روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ فائلوں کو مطالعہ کرسکتے ہیں۔
ان کا خیال تھاکہ ہر وقت اپنی صحت کے متعلق سوچتے رہنے کی بجائے یہ بہتر ہوگا کہ قائداعظم کے مستعد ذہن کو کام کی جانب مبذول کردیا جائے۔ قائداعظم بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس آزادی سے بہت لطف اٹھایا۔ ایک دن انہوں نے ڈاکٹر الہی بخش سے کہا:
”ڈاکٹر میں سگریٹ پینا چاہتا ہوں“۔
ڈاکٹر نے کہا:“ سر۔ صرف ایک سگریٹ روزانہ، مگر دیکھئے اس کا دھواں نہ نگلئے گا“۔

شام کو ڈاکٹر آیا تو اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ کے پانچ جلے ہوئے ٹکڑے دیکھے۔ اس پرقائداعظم نے مسکراتے ہوئے کہا: ”ہاں ڈاکٹر، میں نے پانچ سگریٹ ضرور پئے ہیں مگر میں نے ان کا دھواں نہیں نگلا“۔ اوروہ ہنس دیئے۔ ایک بچے کی طرح خوش (76)۔ اگست کے آخری دنوں میں قائداعظم اچانک ہرچیز سے بے نیاز نظر آنے لگے۔ ایک روز انہوں نے فاطمہ جناح سے کہا۔
”فاطمی مجھے اب مزید زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جتنی جلدی چلا جاوٴں اتنا ہی بہتر ہوگا“۔ فاطمہ جناح لکھتی ہیں: ”یہ بدشگونی کے الفاظ تھے۔ میں لرز اٹھی جیسے میں نے بجلی کے ننگے تاروں کو چھولیا ہو مگر میں نے خود کو پر سکون رکھتے ہوئے کہا: جن! آپ جلد ہی اچھے ہوجائیں گے۔ ڈاکٹر پر امید ہیں“۔
انہوں نے ایک مردہ سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: نہیں۔
میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا“۔
یکم ستمبر کو ڈاکٹر الہی بخش نے فاطمہ جناح سے مایوس لہجے میں کہا: قائداعظم پر ہیمرج کا حملہ ہوا ہے۔ میں پریشان ہوں۔ انہیں کراچی لے جانا چاہیے۔ کوئٹہ شہر کی بلندی ان کے لئے موزوں نہیں ہے۔ 8ستمبر کو ڈاکٹروں نے فاطمہ جناح کو بادل نخواستہ آگاہ کیاکہ اب امید کی کوئی کرن باقی نہیں اور صرف کوئی معجزہ ہی قائداعظم کی زندگی بچا سکتا ہے۔
جب فاطمہ جناح نے قائداعظم کو بتایا کہ کوئٹہ کی بلندی سے بچنے کیلئے ہم انہیں کراچی لے جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا۔ ”ہاں، میں وہیں پیدا ہوا تھا اور وہیں دفن ہونا چاہتاہوں“۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔فاطمہ جناح ان کے بستر کے پاس کھڑی رہیں۔ وہ نیند میں رک رک کر سرگوشی کررہے تھے۔ ”کشمیر، انہیں فیصلہ کرنے کا حق دیجئے۔
آئین، میں اسے جلد ہی مکمل کروں گا۔ مہاجرین، انہیں ہر ممکن امداد دیجئے۔ پاکستان….“
ڈاکٹروں نے 11ستمبر کو فیصلہ کیا کہ انہیں اسی دن دو بچے بعد دوپہر کراچی روانگی کے لئے کوئٹہ کے ہوائی اڈہ پر پہنچ جانا چاہیے۔ جب قائداعظم کو ایک سٹریچر پر لٹاکر گورنر جنرل کے وائی کنگ طیارے کے کیبن میں لے جایا جارہا تھاتو اس وقت بھی انتہائی کمزوری کے باوجود انہوں نے اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر طیارے کے عملے کے سیلوٹ کاجواب دیا۔
کوئٹہ سے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز سہ پہرسوا چار بجے کراچی کے ماڑی پور ائیر پورٹ پر اترا۔ اس روز جیسا کہ فاطمہ جناح کی طرف سے پہلے ہی ہدایت دی جاچکی تھی کوئی بھی ائیر پورٹ نہیں آیا تھا۔ قائداعظم کو سٹریچر پر لٹا کر ایک ملٹری ایمبولینس تک لے جایا گیا جو انہیں گورنر جنرل ہاوٴس لے جانے کیلئے ہوائی اڈے پر پہلے ہی سے تیار کھڑی تھی (77)۔

ایمبولینس انتہائی آہستگی سے چل رہی تھی۔ ڈاکٹر الہی بخش، ڈاکٹر مستری اور گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری ایمبولینس کے پیچھے گورنر جنرل کی کیڈلک کار میں آرہے تھے۔ تقریباً چار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایمبولینس کے انجن نے ہچکی لی اور اس کے بعد وہ اچانک بند ہوگیا۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پٹرول ختم ہوگیا۔
ڈرائیور نے بے چینی کے عالم میں انجن کو دیکھنا بھالنا شروع کیا مگروہ سٹارٹ نہ ہوسکا۔ اس روز سمندری ہوائیں بھی نہیں چل رہی تھیں اور گرمی ناقابل برداشت تھی۔ وہاں ایک گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک انتظار کرناپڑا۔ ایک طویل اور کرب ناک وقفہ۔ پھر ایک دوسری ایمبولینس آئی،اور قائداعظم کو اس میں لٹا کر گورنر جنرل ہاوٴس لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور کہا کہ ہوائی سفر اور ایمبولینس کے تکلیف دہ واقعہ کے باوجود ان کی صحت پر کوئی برے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔
وہ جلد ہی گہری نیند سوگئے۔ فاطمہ جناح تنہا ان کے پاس بیٹھی رہیں۔ وہ کسی خلل کے بغیر دو گھنٹے تک سوئے رہے۔ پھر انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ اپنی بہن کو دیکھا اور سر اور آنکھوں کے اشارے سے انہیں اپنے پاس بلایا۔ انہوں نے بات کرنے کی آخری کوشش کی اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگے۔
”فاطمی، خدا حافظ لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ“۔
ان کا سر آہستگی سے قدرے دائیں جانب کو ڈھلک گیا اور اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں(78)۔ انااللہ وانا الیہ راجعون۔
ان کی سیاسی زندگی 42برسوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ جہد مسلسل، غیر متزلزل عزم، شاندار نظم و ضبط، بے مثال دیانت غیر معمولی ذہانت اور خداداد قائدانہ صلاحیتوں کی ایک فقید المثال تصویر ہے۔
12ستمبر 1948ء کو کراچی میں بانی پاکستان کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد مولانا شیبر احمد عثمانی نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا(79)۔ ”شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ افراد کی مایوسیوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو“
تاریخ اشاعت: 2014-09-11

(3) ووٹ وصول ہوئے