بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قومی سلامتی کیلئے حکومت اور فوج ایک صفحے پر
طالبان کے ساتھ مذاکرات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر اتفاق انتخابات کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر غور کیا گیا
اسرار بخاری:
قومی اور فوجی قیادتوں کی ملاقات اگرچہ معمول کی بات ہے لیکن پچھلے دنوں جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی وزراء خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کے بیانات اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے فوج کے وقار کا ہر صورت تحفظ کرنے کے بیان نے حکومت اور فوج کے مابین شدید اختلافات کا تاثر پیدا کردیا تھ اور یہ تاثر اس لئے پیدا ہوا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس انداز سے تبصرے اور تجزئیے کئے گئے کہ گویا حکوتم اور فوج آمنے سامنے آگئے ہیں‘ تاہم جمعرات کے روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جس میں حکومتی اور عسکری قیادتوں نے درپیش چیلنجوں کے حوالے سے متفقہ حکمت عملی کا اظہار کیاہے اس سے ملک کے طور ل و عرض میں پھیلے تشویش کے سائے دور ہوگئے ہیں دونوں جانب سے دہشت گردی کے خاتمہ اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان خوش آئند ہے تاہم طالبان کی جانب سے بھی اگرچہ مذاکرات سے انکار نہیں کیا گیا لیکن ساتھ ہی ان کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں انکی جانب سے حکومت پر جو الزامات عائد کئے گئے اوہ حسب ذیل ہیں کہ ان کے پچاس کے قریب ساتھیوں کو مارا گیا او رجیلوں میں طالبان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا مگر حکومت مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمہ کے اعلان کے بعد حکومت پر طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کا دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا ہے وہ تمام حلقے جو مذاکرات کے ہی خلاف تھے اور ہیں اس سلسلے میں پہلے سے زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں ۔
بہر حال قومی سلامتی کمیٹی نے مذاکرت جاری رکھنے کا جو اعلان کیا ہے س سے صورتحال کے زیادہ خراب نہ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
سوا تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کے حساس اور اہم اداروں کے ذمہ داران ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی نہ کریں کیونکہ اس طرح کے بیانات اداروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔
اجالاس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق تمام امعاملات پر سب یکجا اور ایک صفحہ پر ہیں۔ قومی امن سب کی ترجیح ہے۔ اس ضمن میں مشترکہ اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گای سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے‘ طالبان سے ملکی آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور استحکام پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
اجلاس میں طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمہ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سول اور فوجی قیادت نے طالبان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کای اور فیصلہ کیا گیا کہ طالبان کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اجلاس میں 3نکاتی ایجنڈا ذیر غور آیا جو طالبان سے مذاکرات کی حکمت عملی‘ افغانستان میں انتخابات کے بعد کی صورتحال اور ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات پر مشتمل تھا۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام ادارے حکومت کے ماتحت ہں۔ ادارے آئین کے دارہ کار میں رہتے ہائے کام کریں۔ تمام ادارے ایک دسرے کے تقدس کا خیال رکھیں ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے قومی سلامتی کے معاملے پر اداروں میں ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہائے اس تاثر کو رد کردیا کہ کسی معاملے پر کوئی تناؤ کی کیفیت موجود ہے۔
وزیر اعظم نے کا کہ صورتحال میں بہتری آرہی ہے۔ اعلیٰ قیادت نے پھر واضح کیا کہ سب ایک صفحے پر ہیں۔ رابطوں کا طریقہ کا ر مزید بہتر بنانے اور ہم آہنگی کے فروغ کیلئے مختلف اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا عزم کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ پاکستان تنازعات میں الجھنے کے بجائے ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا۔
اجلاس میں پاکستان کو دنیا میں امن کا علمبردار ملک بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ قومی سلامتی کے معاملات پر مشاورت اور رابطوں سے متعلق طریقہ کار مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی ملک کا اعلیٰ مشاورتی فورم ہے جہاں ریاست کے تمام ادارے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں ۔ سلامتی کے معاملے پر اداروں کی ان آرا کی وجہ سے حکومت کو اہم فیصلوں میں مدد ملتی ہے۔
تمام ادارے حکومت کے ہیں ۔ فوج بھی حکومتی ادارہ ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی اجتماعی دانشمندی کے ساتھ قانون سازی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اجلاس میں بھارتی انتخابات کے تناظر می پاکستان بھارت تعلقات‘ افغان صدارتی انتخابات‘ قومی سلامتی سے متعلق اہم امور‘ حکومت طالبان مذاکرات، قیام امن کیلئے ممکنہ مزید حکومتی اقدامات، سرحدی امور اور خطے کے حالات سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
قومی دفاع کے حوالے سے ایک بار پھر پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، دیگر اعلیٰ عسکری حکام‘ آئی ایس آئی اور آئی بی کے شربراہوں اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پر مسلح افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صورتحال میں بہتری آرہی ہے۔
چودھری نثار علی خان نے داخلی سلامتی کی صورتحال، طالبان سے مذاکرات، بلوچستان و مغربی سرحد کے حالات پر بریفنگ دی۔ مشیر خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے افغان صدارتی انتخابات اور اس حوالے سے بعد کی ممکنہ صورتحال سے آگاہ کیا اور پاکستان کے کردادر پر روشنی ڈالی۔
اس ضمن میں پاک افغان تعلقات کاجائزہ لیا گیا۔ پاکستان ایران تعلقات علاقائی امن و استحکام سے متعلق اہم امور پر کمیٹی کو اعتماد میں لیا گیا۔ وزیر اخذانہ اسحاق ڈار نے قومی معیشت پر بریفنگ دی۔ عالمی منڈی میں دو ارب ڈالر کے بانڈ کے اجراء اور پاکستانی معیشت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے دورہ چین اور متوقع چینی سرمایہ کاری کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ چین بنیادی ڈھانچے توانائی اور دیگر شعبوں میں35ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمہ‘ طالبان سے ملکی آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے بات چیت کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور ستحکام پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ پاکستان خطہ کے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں نہ تو مداخلت کرے گا نہ ہی کسی کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت دیں گے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کو یقینی بنا کر نہ صرف خطے بلکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔
اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ دنیا میں پاکستان کی انتہا پسندی اور دہشتگردی سے متاثرہ ساکھ کو دوبارہ نیک نامی میں تبدیل کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق چودھری نظار علی خان نے بتایا کہ ان کا طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے مسلسل رابطہ ہے۔ مولانا سمیع الحق طالبان قیادت پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان واپس لیں۔
ہم نے طالبان کے متعدد غیر عسکری قیدی رہا کئے ہیں جبکہ ان سے بھی ان کی قید میں موجود غیر عسکری قیدی ہیں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی نے ملکی سلامتی کی صورت اور انٹیلی جنس شیئرنگ، طالبان سے مذاکرات، ایران سے سرحدی معاملات پر بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ تمام اداروں کے وقار کو مقدم رکھا جائے گا‘ سب ادارے ایک دوسرے کو ساتھ لیکن چلیں گے۔
ملکی سلامتی‘ ترقی اور خوشحالی کیلئے مل کر چلنے کے عزم کا واضح اظہار کیا گیا۔ عسکری قیادت نے ایک بار پھر حکومت کو یقین دلایا کہ طالبان سے مذاکرات پر حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس کے ساتھ ہیں‘ ہمیں مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک اعلان کیا کہ فوج ملکی سلامتی اور تحفظ کیلئے ہر طرح کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ہم اپنی سرحدوں پر کسی کو بھی چھیڑ خانی کی اجازت نہیں دینگے۔
ہم کسی کے معاملات میں مداخلت کررہے ہیں نہ کسی کو اپنے معاملا ت میں مدخلت کرنے دینگے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں نے ہمسایہ ممالک خاص طور پا ایران اور افغانستان کے طرف سے پاکستان پر کی جانے والی مسلسل السزام تراشیوں وار ایرانی دھمکیوں کے حوالے سے رپورٹس پیش کیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قیدیوں کی فہرستیں ملنے کے بعد سیاسی و عسکری قیادت کی مشاورت کے بعد قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا لائحہ عمل صورتحال دیکھ کر طے کیاجائے گا۔
نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں مشرف کیس میں فوج سے متعلق بیان بازی ایشو بھی ارکان میں ذیر بحث آیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے فریقین کو تنقیدی بیان بازی سے اجتناب برتنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی سلامتی کے علاوہ افغانستان سے نیٹو فوج کے انخلا اور جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اطلاعات کے مطابق عسکری اور سیاسی قیادت نے اتفاق کیا کہ حکومت کی معاشی ٹیم کی سخت محنت اور مستحکم مائیکرو اکنامک پالیسیوں کے باعث حاصل شدہ معاشی کامیایوں کو مضبوط بنانے کیلئے قومی سلامتی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
بین الاقوامی برادری خصوصاََ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی طرف سے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر حکومتی کوششوں کیلئے سازگار سلامتی کا ماحول ضروری ہے توکہ آئندہ برسوں میں دیرپا معاشی ترکی حاصل ہوسکے۔ اجلاس میں اندرونی اور بیرونی سلامتی کے متعدد ایشوز پر بات چیت کی گئی۔ اسحاق ڈار نے اجلاس میں معاشی انڈی کیٹرز وار اقتصادی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔
سرمایہ کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی شمولیت اور 2بلین ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کے اجراء کے بارے میں بتایا ۔ کمیٹی نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے داعی ملک کے طور پر حکومت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا عزم رکھتی ہے۔ اجلاس نے کامیاب صدارتی انتخابات کے انعقاد پر افغان عوام کو مبارک باد دی اور عزم ظاہر کیا کہ افغانستان میں جمہوری اداروں کو مستحکم کیا جائے گا۔
اجلاس میں پاکستان بھارت تعلقات کا خصوصا۔بھارت میں انتخابات کے تناظر میں جائزہ لیا گیا۔ بلوچستان کی صورتحال اور مغربی سرحدوں کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔ کمیٹی نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انڈرونی سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے گا۔ کمیٹی نے اس وژن کی تائد کی کہ پاکستان کو تنازعات کی بجائے مواقع کی راہ پر ڈالا جائے گا تاکہ عوام کی خوشحالی کیلئے گروتھ حاصل کی جاسکے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی نے سیکیورٹی کے اہم اہمور کے بارے میں بریفنگ دی۔
نجی ٹی وی کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان حالیہ تناؤ کے بعد پہلی بار آمنا سامنا ہوا جنرل راحیل شریف خود چل کر خواجہ محمد آصف کے پاس گئے اور ان سے مصافحہ کیا جس کے بعد دونون اکھٹے باہر آئے۔
اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا ”خواجہ صاحب جذباتی نہ ہوا کریں اس پر وزیر دفاع خواجہ آصف زیر لب مسکرا دئیے۔“ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کے ختتام پر وزیر دفاع خواجہ آصف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف میں شکوہ اور جواب شکوہ بھی ہوا۔ خواجہ آصف نے فوج کے ادرے سے متعلق اپنی وضاحت دہرائی۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی جو سامنے آئی ہے اس کے مطابق اجلاس میں سیاسی عسکری قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ طالبان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
طالبان کی طرف سے قیدیوں کی فہرستوں کے بعد رہائی کا فیصلہ ہوگا۔ حکومت نے طالبان کی طرف سے جنگ بندی ختم کرنے رپ تشویش کا اظہار کیا۔ طالبان کیخلاف آپریشن آخری آپشن ہوگا۔
ایک ایسے موقع پر جب حکومت اور فوج میں سرد مہری کا تاثر پھیلایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کاکول اکیڈمی کا دورہ کیا اور آرمی چیف کے اچھے کلمات کی ادائیگی کے بعد اس منفی تاثر کی نفی ہوجانی چاہئے۔
آج وطن عزیز جس مشکل دور سے گزر رہا ہے دہشت گردوں نے اسے بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ فرقہ واریت کے عفریت اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں وار کراچی میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی حرکتوں سے ملک کے اندر غیر معمولی صورتحال پیدا کررکھی ہے۔ ایسے میں حکومت اور فوج کے مابین مکمل ہم آہنگی کا تاثر نہیں بلکہ واضح طور پر ایک ہی صفحے پر ہونے کا یقین مستحکم ہونا چاہئے اور یہ خوش آئند ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس منے یہ واضح پیغام دے دیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان