بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قومی ملکیت میں پاکستان سٹیل مل کے روشن امکانات
پاکستان اسٹیل ملک و قوم کا ایک بڑا اثاثہ ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان کا ایک بہت بڑا منافع بخش ادارہ بھی ہے۔ اس قومی ادارے پر ناتجربہ کار اور ایسے نااہل افراد مسلط رکھا گیا
غلام نبی آصف
پاکستان اسٹیل ملک و قوم کا ایک بڑا اثاثہ ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان کا ایک بہت بڑا منافع بخش ادارہ بھی ہے۔ اس قومی ادارے پر ناتجربہ کار اور ایسے نااہل افراد مسلط رکھا گیا جنہوں نے اس ادارے میں نہایت بے دردی کے ساتھ لوٹ مار کر کے اسے نقصان پہنچا نے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ جبکہ بعد میں اسی لوٹ مار اور بد انتظامی کو بنیاد بنا کر اسے اونے پونے فروخت کرنے کا جواز مہیا کیا جاتا رہا ہے۔
آج تک ایسے افراد سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں آیا کہ اسے سفید ہاتھی اور بیمار ادارے کا نام دے کر کوڑیوں کے عوض نج کاری کی فہرست میں شامل کیسے کر دیا جاتا رہا۔”حالانکہ“ 1990ء کی دہائی کے شروع میں بھی اس ادارے کی ایسی ہی بری حالت تھی کہ بندرگاہوں نے خام مال کے جہازوں کو گودی میں جگہ دینے سے انکار کر دیا۔ مارکیٹوں سے سامان کی خریداری اور اس کی ترسیل ممکن نہ رہی تھی۔
پینل کے ڈاکٹروں، میڈیکل سٹوروں، شہر کے اندر ٹرانسپورٹ یارڈ کے استعمال کے لئے اور ایسے ہی دیگر اداروں نے سابقہ رقم کی ادائیگی کے نوٹس دے کر اپنی خدمات کو روکنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس ادارے کی یونین نے تقریباً پانچ ہزار افراد کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرو ایا۔ جس کے کارکنان نے بزور طاقت بیک وقت کئی کئی قرضے جاری کروا کر اس کے مالی بوجھ میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔
بعد میں ان ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے مطالبات پر ملز میں بد انتظامی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ جبکہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ارباب اختیار صدر اور وزیراعظم کی سفارش پر کئی مالی اداروں سے سٹیل ملز کے نام قرضے جاری ہوتے رہے۔ یہ وہ صوورتحال تھی جس میں ادارے کے ملازمین میں برسوں تک خوف و ہراس پایا جاتا رہا کہ خدانخواستہ پاکستان اسٹیل آج بند ہو جائے یا کل۔

کئی برسوں کی اس بد انتظامی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ملک میں نئی حکومت کے منتخب ہونے کے ساتھ حالات مین بہتری کے اسباب مہیا کر دیئے۔ مسلم لیگ کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے ساتھ 1992 میں وزیر اعظم نواز شریف نے ایک ایسے فوجی جنرل صبیح القمر زمان کا بطور چیئرمین پاکستان اسٹیل تقرر فرمایا جو کہ بنیادی طور پر ایک قابل انجینئر تھے۔ جنرل صبیح اپنی فنی مہارت کی وجہ سے ادارے کی اونچ نیچ اور فنی باریکیوں کو سمجھنے کا ادراک بھی رکھتے تھے۔
انہوں نے آ کر ادارے کا مختصر مگر باریک بینی سے جائزہ لیا اور ادارے کے بڑے افسران سے بریفنگ لے کر چند دنوں بعد ادارے کے تمام افسران کی ایک میٹنگ بلائی جس میں انہوں نے ایک بامقصد اور حوصلہ افزا خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان اسٹیل ایک بہت بڑا اور بہت منافع بخش ادارہ ہے گھبرانے کی قطعاً کوئی بات نہیں۔ انشاء اللہ صرف چند مہینوں میں ادارے کے تمام قرضے وغیرہ ختم ہو جائینگے اور منافع ہونے کے ساتھ ہی تمام ملاز مین کے لئے مراعات کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ پاکستان اسٹیل اتنا بڑا منافع بخش ادارہ ہے کہ اس کے قیام سے اب تک اسی ادارے میں سے ایسی ہی مزید چھ بڑی اسٹیل ملز اور لگائی جا سکتی ہیں۔
پھر انہوں نے فوری اصلاحات کے تحت انتظامی امور کو درست کر کے ادارے میں من مانی کرنے والے عناصر پر قابو پایا۔ پیداواری ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کی کارکردگی میں اضافہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چند مہینوں کے بعد واجب الادا تمام قرضے ختم ہو جانے پر ملازمین کے لئے ایک بونس کا اعلان کیا گیا۔
اس کے جلد ہی بعد ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی خوشخبری بھی سنائی گئی پھر اگلے سال دو بونس جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اسی طرح کچھ ہی عرصہ بعد تنخواہوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔جنرل صبیح القمر زماں کا سٹیل مل کے چیئرمین کے طور پر غالباً تین سال کے لئے تقرر کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے حکومت کے بدلنے کے ساتھ ہی ڈھائی سال بعد ان کو فارغ کر دیا گیا۔
جنرل صبیح نے اس قلیل مدت میں قرضوں میں ڈوبے ہوئے ادارے کو نہ صرف نجات دلائی بلکہ اسے اپنے قدموں پر کھڑا کر کے اس کے ملازمین کی مراعات بحال کرنے کے علاوہ پاکستان اسٹیل کے اکاوٴنٹ میں اربوں روپے کا بنک بیلنس چھوڑا۔ انہوں نے ادارے کو جن اصلاحات کے تحت اس قلیل مدت میں اہم اور بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا اس سے کارکنوں کی کارکردگی میں بہتری آئی اور نظام معمول کی طرف گامزن ہو گیا۔
مگر وائے افسوس پھر وہی بے اعتدالی اور نفسا نفسی کا دور دورہ شروع ہو گیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
پاکستان اسٹیل کی کئی سالوں کی کہانی درج بالا چند سطور میں بطور نمونہ قلم بند کیا ہے جو ایک تجربہ کار اور ایماندار قیادت کی قلیل مدت میں بڑی کامیابیوں کی عمدہ مثال ہے۔ دوسری طرف ناتجربہ کار انتظامیہ کے ہاتھوں لوٹ مار، خود غرضی اور بے راہ روی کے تسلسل سے اتنے بڑے منافع بخش ادارے کو نہ صرف نقصان پہنچایا جاتا رہابلکہ ذلت کی پستیوں میں گرا کر اسے سفید ہاتھی یا بیمار ادارے کا نام دے کر کوڑیوں کے عوض نج کاری کی فہرست میں ڈال دیا گیا۔
اس قومی ادارے کی بربادی میں کس کس نے کیسے کردار ادا کیا،ان واقعات کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس قومی ادارے پر مختلف قسم کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے حالات بھی مسلط رہے جن میں سے مشرف دور کا نج کاری کیلئے تشکیل کردہ ایک ”شفاف سیل“ تھا۔ جس کے نام پر بذات خود ایک انتہائی عبرت ناک کھیل کھیلا گیا۔ یعنی آٹھ ممبران کی کمیٹی بنائی گئی جو شفاف سیل کی ذمہ دار تھی اندھیر نگری کی حد یہ تھی کہ سیل کے آٹھ ممبران میں تین ممبران الگ الگ اپنے دستخط کر رہے تھے جبکہ پانچ ممبران کی جگہ ایک ہی ممبر نے دستخط کر دیئے۔
ادارے کی اصل قیمت کتنی زیادہ بنتی ہے اور اس کو کتنی کم قیمت میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کا خریدار کون تھا؟ رقم کی ادائیگی کون کر رہا تھا ایک ایساگورکھ دھندا تھا جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ بقول اس وقت کے چیئرمین جنرل عبدالقیوم ان کو بھی اس سلسلے میں اندھیرے میں رکھا جاتا رہا۔ وہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر یہ سب بے سود اگر انہیں خطوط لکھے گئے تو جواب ندارد۔
اس انتہائی نازک موقع پراس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لے لیا ،جس سے اتنا بڑا قومی ادارہ تباہ و برباد ہونے سے بچ گیا۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک نام لوگوں کوبہت بہت جزائے خیر دے۔ اگرچہ اس کے بعد جو طوفان اٹھا وہ پوری قوم کے سامنے ہے، مگرپاکستان اسٹیل جیسے بڑے اور منافع بخش قومی ادارے کو آج بھی اگرکوشش کر کے ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کی تائیدسے کسی تجربہ کار، قابل اور ایماندار شخص کی نگرانی میں دے دیا جائے تو اب بھی اسے خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان