بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قومی اداروں کا تحفظ ضروی ہے
ان کی بقا ہی ملکی ترقی کی ضامن ہےیہ دشمن کی سازشوں کے خلاف سینہ سپررہتےہیں پاکستان مخالف طاقتوں کی ہمیشہ سےیہ کوشش رہی ہےکہ عوام کو اپنے ہی اداروں سے بدضن کیا جائے تاکہ پاکستان (خاکم بدہن)گھٹنے ٹیکناشروع ہوجائے
مصنف : سید بدر سعید
دنیا بھرکی حکومتیں اور عوام اپنے اہم اداروں کا تحفظ کرتے ہیں کیونکہ ملکی اداروں کا وقار ہی ان کی اصل پہچان بنتا ہے۔ کسی ادارے کو متنازعہ بنا دیا جائے تو اس کا اثر ان کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، پولیس اور فوج سمیت دیگر اداروں پر یقین اور اعتماد ہی انکے وجودد کا سبب ہے۔ اگر عوام کا ان پر سے اعتبار ختم ہوجائے تو ان کے قیام کا مقصد ہی ختم ہوجاتا ہے۔
اس لیے عوامی سطح پر بھی ہر ادارے کا وقار قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
کسی بھی ملک کی کامیابی میں وہاں کے اداروں کا کردار بہت اہم ہوتاہے۔ دنیا بھر کی قومیں اپنے اداروں کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کو مورل سپورٹ فراہم کرتی ہیں۔ اگر ان اداروں کو تنہا کردیا جائے تو ان کی کارکردگی کم ہونے لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ادارے قوم اور ملک کیلئے ہی بنائے جاتے ہیں اور ان کا بنیادی مقصد ملک و قوم کی بقا اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
جس ملک کے ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں اور باہم رابطے میں ہوں وہ تیزی سے ترقی کرتا چلا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان کی موجودہ صورتحال خاصی تشویش ناک ہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی صورتحال اداروں اور قوم کے درمیان ہم اہنگی کی بہترین مثال ہے۔ اس جنگ میں پاک فوج کو نہ صرف عام کی بھرپور تائید حاصل تھی بلکہ نوجوانوں کی ٹولیاں اپنی فوج کی مدد کیلئے دشمن کے جاسوسوں کو تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ براہ راست دشمن سے لڑنے کیلئے سرحد کا رخ کرنے لگے تھے۔
اسی لئے کہا جاتا ہے کہ قومیں عددی برتری اور بہترین ہتھیار سے نہیں بلکہ جذبے کی بنیاد پر جنگ جیتتی ہیں۔
پاکستان مخالف طاقتوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ عوام کو اپنے ہی اداروں سے بدضن کیا جائے تاکہ پاکستان (خاکم بدہن) گھٹنے ٹیکنا شروع ہوجائے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر عوام شہری بیورو کریسی، پولیس او عدلیہ سمیت دیگر اداروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دے تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔
ایسی صورت م یں نہ کوئی انصاف کیلئے تھانے جائے گا، نہ ہی عدالت کا رخ کرے گا بلکہ اس کے برعکس اپنے فیصلے خود کرنے لگے گا جس سے ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پید اہوسکت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اداروں میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں لیکن اس کے باوجو دبہر حال لوگ انصاف کیلئے انہی کا رخ کرتے ہیں۔ اداروں کیلئے اپنے وقار کا تحفظ بہت ضرور ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جرائم پیش افراد اپنے شاگردوں کو پہلا سبق یہی دیتے ہیں کہ کبھی کسی پولیس اہلکار کو قتل مت کرنا کیونکہ کسی بھی جرم کی سزا سے بچا جاسکتا ہے لیکن پولیس اہلکار قتل ہو گیا تو پورا ڈیپارٹمنٹ مجرم کا پیچھا کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اکٹھا ہوجاتا ہے۔ اگر پولیس کا یہ وقار اور رعب نہ رہے تو اس کیلئے جمرموں کو گرمتار کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

جب سابق چیف جسٹس کو آمر حکمران نے جبری ریٹائر کرنے کیلئے کوشش کی تو پاکستان بھر کے وکلاء عدلیہ کی ساکھ بچانے کیلئے سڑکوں پر آگئے اور پھر نہ صرف چیف جسٹس بحال ہوئے بلکہ آمر کو بھی کرسی صدارت سے اترنا پڑا۔ وکلاء تحریک میں سول سوسائٹی بھی شامل تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام شہری بھی قومی اداروں کے وقار اور عزت کو برقرار رکھنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے حکومت اور فوج کو آمنے سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے پرانی تقاریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا پھر مختلف تجزیہ کر کے درجہ حرارت بڑھانے کی وکشش کی گئی۔ فوج اور پارلیمنٹ دو الگ الگ ادارے ہیں اور دونوں کا ہی اپنا اپنا وقار ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرنا اور کون سا ادارہ کسی پر حاوی ہے جیسی لاحاصل بحث کو چھیڑنا درست نہیں ہے۔
جو کام فوج کا ہے وہ پارلیمنٹ نہیں کرسکتی اور جو کام پارلیمنٹ کا ہے وہ فوج نہیں کرسکتی۔ دونوں اداروں کے راستے اور لائنیں واضح ہیں۔ اس کے باوجود بعض شرپسند ان کا ٹکراؤ چاہتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں ایک سینئر صحافی پر حملہ ہواجس پر نہ صرف میڈیا نے بھرپور احتجاج کیا بلکہ خود فوج اور سیاسی حلقوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی لیکن بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات نے نہ صرف زخمی صحافی کا کیس خراب کیا بلکہ اداروں میں تناؤ پیدا کرنے کی بھی کوشش کی۔
ہمیں یہ بات ہر صورت یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارا وقار اور تحفظ ملی اداروں کے وقار اور ساکھ سے جڑا ہے۔ یہ ادارے ہمارے لئے ہی بنائے گئے ہیں اور ان کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور مشکلا ت کا خاتمہ کرنا ہی ہے۔ اداروں کا وقار ختم ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ ادارے کا آپس میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے بلکہ ملکی معاملات میں بھی رکاوٹیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سبھی ادارے اور شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد اپنی آئینی اور اخلاقی حدود کا خیال رکھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے ملک دشمن عناصر کو ملکی اداروں پر کیچڑ اُچھالنے کا موقع ملے۔ یہ ادارے ہمارے اپنے ادارے ہیں اور قومی اداروں کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-