بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قصہ الطاف حسین کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا!
کیا متحدہ کے قائد نے یہ اقدام صرف مشرف کی اخلاقی حمایت کیلئے اٹھایا ہے؟ 1992ء سے آج 2014ء آگیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پلٹ کر پاکستان کا رخ نہیں کیا
سالک مجید:
نواز شریف ہی وزیر اعظم تھے جن جون 1992ء میں کراچی آپریشن شروع ہوا اور سندھ کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کرنے اور 72بڑی مچھلیوں کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجی گئی فوج نے درحقیقت ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغازکیا اور ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت انڈر گراؤنڈ چلی گئی کچھ پکڑے گئے، کچھ مارے گئے۔ ایم کیو ایم حقیقی بھی معرض وجود میں آئی۔
آفاق احمد‘ عامر خان اور دیگر ساتھیوں نے کراچی میں اپنے علیحدہ ”راج“ کا آغازکیا۔ کورنگی لانڈھی‘ لیاقت آباد‘ لائنز ایرای اور ملیر کے علاقوں میں حقیقی چھا گئی اور کئی برس تک یہ علاقے ایم کیو ایم (الطاف) کے لوگوں کیلئے نوگوایریاز بنے رہے جنہیں بالآخر مشرف دور میں ختم کیا گیا اسی دوران الطاف حسین ملک چوڑ کر لندن پہنچ گئے تھے وہاں انہیں بعد ازاں سیاسی پناہ مل گئی اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب انہیں برطانوی شہریت دے دی گئی اور ان کی برطانوی پاسپورٹ کے ہمراہ مسکرانے ہوئے کئی خوبصورت تصاویر بھی منظر عام پر آئیں۔

1992ء سے آج 2014ء آگیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پلٹ کر پاکستان کا رخ نہیں کیا حالانکہ ان کی پارٹی کے خلاف جون 92ء کے آپریشن کے بعد بے نظیر بھٹو کے دورے دور حکومت میں نصیر اللہ بابر کا آپریشن بھی گزر گیا اور ایم کیو ایم نے 1997ء میں نواز شریف کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان کی حکومت میں پھر شمولیت بھی اختیار کرلی اور سندھ میں لیاقت علی جتوئی کی صوبائی حکومت کا اہم حصہ بھی بنے۔
سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد ایک بار پھر ایم کیو ایم اور نواز شریف کی راہیں جدا ہوگئیں اور نواز شریف کی حکومت کا تختہ 12اکتوبر 1999ء کو مشرف نے پلٹ دیا۔ 2002ء میں ایم کیو ایم کا مشرف کے ساتھ اعلانیہ گٹھ جوڑ شروع ہوا۔ ایم کیو ایم سندھ اور مرکز میں طاقتور حیثیت اختیار کرتی چلی گئی اور مشرف نے اپنے سایسی مخالفین کو ملک بدر رکھا اور ملک میں طویل عرصہ ون مین شو چلتا رہا۔
اس دوران بھی الطاف حسین نے کبھی پاکستان کا رخ نہیں کیا۔ایم کیو ایم کے کارکنان کی جانب سے قائد کو بیرون ملک رہنے کا مشورہ دیا جاتا رہا اور 22سال سے زائد عرصہ گزر گیا اس دوران ایم کیو ایم میں بھی کارکنوں کی 2نئی نسلیں پروان چڑھ گئیں اور ایسے لاتعداد کارکن میں جو کبھی بھی اپنے قائد تحریک سے بالمشافہ نہیں ملے انہوں نے ہمیشہ آن لائن اپنے قائد کو سنا اور دیکھا ہے۔
الطاف حسین اپنی کئی تقاریر میں وطن واپس کے حوالے سے جذباتی ہوتے رہے اور کئی مرتبہ انہوں نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن عملاََ ایسا نہ ہوسکا۔ ان کے سیاسی مخالفین طویل عرصہ سے کہتے آرہے ہیں کہ وہ اب کبھی پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنی تحریک میں صرف کارکنوں اور ساتھیوں کی قربانیاں ہی نہیں دیں بلکہ ان کے سگے بھائی اور بھتیجے کو بھی قتل کیا گیا۔
خود ان کو پابندسلاسل رکھا گیا۔انہوں نے کارچی جیل کی سیر بھی کی اور پھر طویل عرصے سے خود ساختہ جلا وطنی کا سامنا کررہے ہیں۔ وطن کی محبت تو وطن سے باہر جاکر ہی پتہ چلتی ہے اور اپنی دھرتی کی خوشبو دیار غیر میں محسوس ہوتی ہے ۔ الطاف حسین بھی وطن واپسی کیلئے کئی بار تڑپتے نظر آئے انہوں نے تحریک کی خاطر اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ خاندان اور رشتہ داروں سے دوری مول لی۔
بہن بھائیوں سے جدائی برداشت کی ۔ ان کی شادی بھی جلاوطنی میں لندن میں ہوئی۔ ان کی صاحبزادی نے بھی لندن میں جنم لیا۔ ان کی شادی بھی کچھ سال بعد ختم ہوگئی۔ انہوں نے خود کو اور اپنا سب کچھ تحریک کیلئے وقف کردیا اور ایہ ان کا کمان ہے کہ طویل ترین عرصہ ملک سے باہر اور دور رہنے کے باوجود ان کی سیاسی مقبولیت میں کمی آنے کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا ان کے چاہنے والوں کی تعداد ہر سال بڑھتی چلی گئی۔
ان کی پارٹی ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور سکڑنے کی بجائے پھلتی پھولتی گئی۔ ان کی قومی اسمبلی‘ صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں بڑھتی چلی گئیں۔ وہ کشمیر اسمبلی میں بھی جاپہنچے اور انہوں نے گلگت بلتستان میں بھی پارٹی جھنڈا لہرایا۔ ملک گیر سیاست کرنے لگے اور یہ سب کچھ ملک سے باہر بیٹھ کر کردکھایا۔
اب اچانک 2014ء کے چوتھے مہینے میں ایم کیو ایم کے قائد کو اپنے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی یاد ستانے لگی تو انہوں نے درخواست دے دی کہ ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیا جائے۔
دفتر خارجہ نے یہ معاملہ وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کی بات کی ہے جبکہ سندھ کے وزیر برائے جیل خانہ جات اور انیٹی کرپشن منظور وسان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اگر پاکستان آئے تو ان کا خیر مقدم کریں گے لیکن ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ لندن میں رہیں۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تجدید کی درخواستیں تو جمع کرادی ہیں تاہم ان کی خواہش ہے کہوہ محفوظ رہتے ہوئے ہماری قیادت کریں۔
پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جلد بن جائیں گے۔ سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ کیا الطاف حسین واقعی پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں یا ان کا تازہ اقدام بھی ایک سیاسی چال ہے اور وہ حکومت پردباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل اور ایم کیو ایم کے سینیٹر ڈاکٹر بیرسٹر فروغ اے نسیم سے بھی صحافیوں نے پوچھا کہ کیا الطاف حسین مشرف کو بچانے کیلئے پاکستان آرہے ہیں اس کا جواب فروغ نسیم یہ کہہ کر گول کر گئے کہ مجھے نہیں معلوم لیکن سیاسی حلقوں میں یہ باتیں ہورہی ہیں کہ متحدہ کے قائد نے یہ تازہ اقدام صرف مشرف کی اخلاقی حمایت کیلئے اٹھایا ہے اور وہ تاثر دے رہے ہیں کہ مشرف کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

خود الطاف حسین متعدد مواقع پر پرویز مشرف کی حمایت میں بیانات دے چکے ہیں تقریریں کرچکے ہیں اور ان کا لب و لہجہ مشرف کی حمایت میں بالکل واضح دو ٹوک رہا ہے اور مشرف کے مکالفین کو وہ خبردار کرتے رہے ہیں بلکہ ان کے بیانات پر بہت سی سیاسی بحث بھی ہوچکی ہیں خصوصاََ فوج کو ٹیک اوور کرنے سے متعلق بیانات پرکافی لے دے ہوچکی ہے اور جب ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت کی بات آخری مراحل میں داخل ہوگئی تو پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے یہی بات دہرائی تھی کہ ایم کیو ایم کے قائد تو فوج کو دعوت دے رہے ہیں پھر وہ پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔
ایسا ہواتو کیا پیپلز پارٹی کے شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی۔
ایم کیو ایم نے اپنے لاپتہ کارکنوں کا معاملہ پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کراچی کے بعد ملک گیر احتجاج کی راہ اختیار کرلی گئی ہے ۔ ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے اور کراچی میں ڈیتھ اسکواڈ کی سرگرمیان بند کرنے پر زور دیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے سندھ اسمبلی میں بھی بھرپور طریقے سے آواز اٹھائی اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور بتایا ہے کہ ایم کیو ایم کے 45لاپتہ کارکنوں میں سے 6کی لاشیں موصول ہوئیں ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-24

(0) ووٹ وصول ہوئے