بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قیام پاکستان
موجودہ چیلنجز اور ان کا حل۔۔۔۔ پاکستان کو آج جن گھمبیر چیلنجز نے گھیر رکھا ہے ان میں سب سے پہلا چیلنج اس کیلئے اپنی پہچان اور شناخت کا حصول ہے قیام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ وہ پاکستان نہیں
سیدمنورحسن
پاکستان کے قیام کو68سال گزرچکے ہیں۔ آزادی کے حصول کیلئے مسلمانان برصغیر کو آگ اور خون کے جس دریا سے گزرنا پڑا تاریخ انسانی اس پر آج بھی حیر ت زدہ ہے ، کہ کس طرح بے مثال قربانیاں دیتے،ہنستے بستے گھر بار، لہلہاتے کھیت کھلیان اور چلتے کاروبار چھوڑ کر لاکھوں انسانوں نے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی تاریخ رقم کردی۔ ان قافلوں نے ظلم و بربریت کے کیا کیا منظر نہ دیکھے جب معصوم بچے ماوٴں کی گودوں سے چھین کر نیزوں پر اچھالے گئے، ہزاروں بچیوں کودرندگی کا نشانہ بنایا گیا اور عزت بچانے کیلئے ہزاروں بچیوں نے کنووٴں اور دریاوٴں میں کود کر اپنی جانیں پاکستان پر وار دیں۔
بوڑھے باپ اپنے نوجوان بیٹوں کے لاشے اٹھانے پر مجبور ہوئے مگر چڑھتے سورج اور ڈوبتی شاموں نے ان کے پائے استقلال میں ایک لمحہ کیلئے بھی لرزش نہیں دیکھی۔
آج 68 سال بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ان لوگوں کی قربانیوں اور حسرتوں پرعیش و عشرت کے محل تعمیر کرنے والے انسان نہیں وہ بھیڑیے نظر آتے ہیں جنہوں نے قافلے سے بچھڑ جانے والی کسی بھیڑ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہو اور اس کی بوٹیاں نوچ کھانے کیلئے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ دینے کی کوشش کر رہے ہوں۔
اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کردینے والوں کے ساتھ قریبا پون صدی سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ان پر زندگی تنگ کردی گئی ہے، انہیں زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ انہیں کئی بار سہانے خواب دکھا کر لوٹا گیا ہے، ان کی آزادی اور خود مختاری کو قرض کی مے کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے، ان کے قاتلوں کو سینے سے لگانے کیلئے حکمران بے تاب نظر آتے ہیں، ان کی بیٹیوں کی عزتیں تار تار کرنے والے وحشی ان کیلئے پسندیدہ ترین اور اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ والے قرار پائے ہیں، ان کی آزادی کو چھین کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہودی ساہوکاروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
ان کے لہلہاتے کھیت سوکھ چکے اور زمینیں خشک اور بنجر ہوچکی ہیں لیکن جن سے امید تھی وہ بھارتی آبی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اسے پاکستانی دریاوٴں پر مزید ڈیم بنا نے اور ان سے بجلی پیدا کرکے پاکستان کو فروخت کرنے کے مواقع مہیا کر رہے ہیں۔
پاکستان کو آج جن گھمبیر چیلنجز نے گھیر رکھا ہے ان میں سب سے پہلا چیلنج اس کیلئے اپنی پہچان اور شناخت کا حصول ہے قیام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ وہ پاکستان نہیں جس کیلئے انہوں نے اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو قربان کردیا تھا۔
ہم توایک ایسے پرامن اور پرسکون ملک کا تصور لے کر آئے تھے جہاں ہر طرف اخوت، بھائی چارے اور ہمدردی و غمگساری کے مناظر ہونگے اور ایک دوسرے کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو بانٹ لینے کا جذبہ چاروں طرف کار فرما ہوگا۔ محمودوایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے ، شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے نظر آئیں گے!، سب کیلئے زندگی گزارنے کی ایک جیسی سہولتیں ہوں گی، کوئی کسی کا حق نہیں مار ے گا اور کہیں کسی سے زیادتی نہیں ہو گی۔
امیر غریب کی تفریق ہوگی نہ کالے اور گورے کا سوال۔ سب کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہوں گی۔ مگر یہاں توجدھر دیکھتے ہیں دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔ دلوں میں نفرتیں اور کدورتیں بھری ہوئی ہیں اور یہ سب کچھ بڑے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے ہاتھوں میں قوم نے اپنی باگ ڈور تھمائی ہوئی ہے۔

درحقیقت ہماری ساری پریشانیوں کا سبب ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنی خودی کا سودا جو ہم نے اپنے دوست نما دشمنوں کے ساتھ کرلیا ہے، ہم نے قرآن پاک میں اللہ تعالی ٰ کے واضح ارشاد پر بھی کان نہیں دھرا اور عملاً اسے ماننے سے انکارکردیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری کو دوست بنانے اور خیر خواہ نہ سمجھنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ تمہارے کسی صورت بھی دوست نہیں ہو سکتے یہ تو ایک دوسرے کے دوست اور تمھارے کھلے دشمن ہیں۔
موجودہ حالات میں ہماری آزادی اور سالمیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ خطے میں امریکی پالیسیاں ہیں، امریکہ ہر صورت پاکستان پر بھارتی بالادستی قائم کرنا اور بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے۔ امریکی ڈکٹیشن پر ہی ہمارے سابقہ وموجودہ حکمران بھارت سے دوستی اور پیار کی پینگیں بڑھانے اور اسے سر پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ بھارت نے آئے روز سرحدی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے پاکستان کے سرحدی دیہات پرگولہ باری معمول بنا لیا ہے۔
جس میں درجنوں معصوم لوگوں کی شہادت ہوئی اور بیسیوں اب تک زخمی ہوچکے ہیں۔
بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا پاکستان نامکمل ہے، لیکن نصف صدی سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود کسی بھی پاکستانی حکمران خواہ وہ سویلین ہو یا فوجی نے کشمیر پر قومی امنگوں کی ترجمانی کی عالمی برادری میں پاکستان کی بقاء کے اس مسئلہ کو کماحقہ اجاگر نہیں کیا، توانائی کے گھمبیر مسئلہ سمیت پاکستان کے بہت سے مسائل نے مسئلہ کشمیر سے جنم لیا ہے۔
اس بنیادی مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور کشمیری عوام کو ان کی خواہش کے مطابق رائے دہی کا حق دینے ہی میں ہے۔ آج ملک و قوم کو درپیش چیلنجز میں ایک اہم ترین چیلنج بلوچستان میں انتشار اور انارکی بھی ہے، جس میں مشرف کے ہاتھوں اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد تیزی آگئی ہے۔بھار ت اور امریکہ کی تخریب کار ایجنسیاں بلوچستان کے مسئلہ کو خراب کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں اور علیحدگی پسندوں میں اسلحہ اور ڈالر تقسیم کئے جا رہے ہیں۔
امریکی ڈرون حملوں نے ہماری آزادی اورخودمختاری کو روند ڈالا ہے۔ سینکڑوں ڈرون حملوں میں ہزاروں معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا جن میں سب سے زیادہ تعدا د بچوں اور خواتین کی ہے۔ لیکن حکمرانوں کے بزدلانہ اور معذرت خواہانہ رویے نے امریکہ کو پاکستان کی سا لمیت سے کھیلنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ اس صورت حال میں پوری قوم کو آج جن مسائل کا سامنا ہے ان چیلنجوں سے نپٹنے کیلئے قوم کو اپنے اندر اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنا ہوگی اور دشمن کی سازشوں کا شکار ہونے کی بجائے ملک و قوم کے اجتماعی مفاد اوراپنی آنے والی نسلوں کو ایک روشن پاکستان دینے کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان