بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قبائلی علاقہ جات
اِنہیں پاکستان کا حصّہ کب بنایا جائے گا؟ قبائلی علاقوں میں انتظام چلانے کے لئے فرنٹیئر کرائم ریگولیشن رائج ہے جسے ایف سی آر بھی کہتے ہیں۔ یہ اُن قوانین کا پلندہ ہے جو صرف فاٹا کے لئے مخصوص ہیں
مصنف : سید بدر سعید
فاٹا میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو تشویش ہے۔ یہ انتہائی اہم سوال ہے کہ کیا کبھی فاٹا میں امن قائم ہو سکے گا؟ اس حوالے سے عالمی سطح پر بھی مختلف فورمز پر سوال اُٹھائے جاتے ہیں اور پاکستان کو دباوٴ میں لانے کیلئے بھی عالمی طاقتیں یہی مسئلہ اُٹھاتی ہیں۔ اس وقت حکومت عسکری گروپوں سے مذاکراتی عمل آگے بڑھا رہی ہے جبکہ دنیا بھر کی آنکھیں فاٹا میں قیام امن کی جانب لگی ہوئی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق فاٹا پاکستان کا حصہ ہے ۔ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی جمہوری ریاست ہے جبکہ اسلامی جمہوری ریاستوں میں اس کا دوسرا نمبر ہے۔ جمہوریت کی رو سے ریاست اپنے تمام شہریوں کو اُن کے بنیادی حقوق فراہم کر نے کی پابند ہوتی ہے۔ دوسری جانب فاٹا پاکستان کا ایسا علاقہ ہے جہاں پاکستانی قوانین نافذ ہی نہیں کیے جاتے نہ تو ان علاقوں میں پاکستانی انتظامیہ کا ڈھانچہ قائم کیا گیا اور نہ ہی پاکستانی آئینی ادارے کام کر رہے ہیں۔
دیگر الفاظ میں فاٹا کی حدود شروع ہوتے ہی پاکستان کے آئین کا عمل دخل ختم ہو جاتا ہے۔
قبائلی علاقوں میں انتظام چلانے کے لئے فرنٹیئر کرائم ریگولیشن رائج ہے جسے ایف سی آر بھی کہتے ہیں۔ یہ اُن قوانین کا پلندہ ہے جو صرف فاٹا کے لئے مخصوص ہیں۔جب برطانیہ نے ہندوستان کو اپنی کالونی بنا رکھا تھا تب 1901ء میں قبائلی علاقوں کے لئے یہ قوانین بنائے گئے۔
آج بھی صورتحال یہی ہے کہ فاٹا کے عوام کو اپنے بنیادی حقوق حاصل نہیں۔ برطانوی راج کو تو چھوڑیں کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک 65سال گزر گئے لیکن قبائلی علاقوں کے عوام کو اس کا لے قانون سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔
مہذب دنیا شاید یہ یقین نہ کرے کے ہزاروں میل دور اگر کوئی جرم ہوا ور مجرم کا تعلق قبائل علاقے سے ہو تو اس جرم کی سزا اُس کے خاندان ی اقبیلے کو بھگتنا پڑتی ہے۔
مثال کے طور پر دو قبائلی امریکہ میں لڑ پڑیں اور ان میں ایک قتل ہو جائے تو اس کی سزا قاتل کے قبیلے کو ملتی ہے۔ فاٹا میں یہ ” قوانین“ ماضی میں بھی رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں۔
فاٹاسے عوامی نمائندے قومی اسمبلی میں پہنچتے ہیں ۔ انتخابی عمل کے ذریعے فتح کا تمغہ سجائے اسمبلی میں جانے والے یہ سیاستدان مقدس پارلیمنٹ میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کے لئے قانون سازی کا حصہ بنتے ہیں۔
یہ مختلف مسائل پر بحث کرتے ہیں اور مختلف تحریکیں پیش کرتے ہیں۔ دوسری جانب یہی سیاست دان اپنے علاقوں کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی خاطر کوئی قدم اُٹھاتے نظر نہیں آتے۔ آئین کے آرٹیکل 247 کے تحت پالیمنٹ نے فاٹا کے لئے قانون سازی کے حق کو تسلیم کیا اور 1996ء میں فاٹا کے عوام کو ووٹ کی طاقت استعمال کرنے کا حق ملا۔ اس کے باوجود وہاں کا انتظام پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
دیگر الفاظ میں فاٹا میں موجود حکومتی ذمہ دار یا تو بالکل لاتعلق ہو جاتاہے او اسے کسی معاملے میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا یا پھر وہ مضبوط دھڑا بنا کر اپنے آپ کو مضبوط کرلیتا ہے کہ اس کا عمل دخل آمر کا سا ہو جاتا ہے۔ بد قسمتی سے جس طرح کا شہری نظام اور انتظامی ڈھانچہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود ہے،ویسا نظام فاٹا میں نظر نہیں آتا۔
یہاں جرگے فیصلے سناتے ہیں اور قبائلی انہی فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے آئین اور قوانین کی بجائے علاقائی روایات اور اصولوں کو مقدم رکھا جاتاہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ شدت پسندی کے ڈانڈنے فاتا سے ملتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ وہاں کے عوام کے احساس محرومی کے ساتھ ساتھ وہاں پاکستانی آئین کا عملی طورپر اطلاق نہ ہونا بھی ہے۔
فاٹا کو جتنانظر انداز کیا گیا ا س کا نتیجہ بھی اتنا ہی بھیانک نکلا۔ قیام امن کیلئے حکومت کا فاٹا کا جانب خاص توجہ دینی ہوگی۔ وہاں بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قوانین اور انتظامی ڈھانچہ متعارف کرانا ہوگا۔ یہ انتظامی ڈھانچہ ہی وہاں ملازمت کے ایسے ہزاروں مواقع پیدا کر دے گا جو نو جوانوں کا اسلحہ کلحر کی بجائے اپنی صلاحیتیں آزمانے کی جانب راغب کرے گا۔
اس وقت فاٹا کے نو جوان تعلیم کی جانب مائل ہیں۔ وہ اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں اور بہتر روزگار کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ فاٹا کے عوام حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں اور بہتر منصوبوں کے منتظر ہیں۔ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور وہاں کے لوگ اپنی حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ حکومت بھی فاٹا کو پاکستان کا حصہ تصور کرتی ہے؟ اب اصل امتحان حکومت کا ہے کہ وہ فاٹا کے لئے کیا کرتی ہے۔ حکومتی فیصلے ہی واضح کریں گے کہ فاٹا کی اگلی نسل کو ہتھیار اور قلم میں سے کس کا انتخاب کرناہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان