بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پی ٹی وی پر قبضہ نے سکیورٹی انتظامات کے لئے سوالیہ نشان چھوڑے
گیا پی ٹی وی کی عمارت میں دھاوا بولنے اور قبضہ کرنے کے واقعہ نے صورتحال مزید گھمبیر کر دی اس موقع پر پولیس کا منظر سے غائب رہنا بھی وفاقی دارالحکومت کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے کئی سوالیہ نشان چھوڑے ہیں
عزیز علوی:
وفاقی دارالحکومت کے شاہراہ دستور پر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی قیادت کے دھرنے اور پرائم منسٹرز ہاؤس کے سامنے دھرنا روکنے کیلئے مظاہرین پر پولیس ایکشن کے بعد تصادم بڑھ گیا پی ٹی وی کی عمارت میں دھاوا بولنے اور قبضہ کرنے کے واقعہ نے صورتحال مزید گھمبیر کر دی اس موقع پر پولیس کا منظر سے غائب رہنا بھی وفاقی دارالحکومت کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے کئی سوالیہ نشان چھوڑ دے ہیں پاک فوج اور رینجرز کے دستوں نے پی ٹی وی کی عمارت سے مظاہرین کو نکالا چئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پی ٹی وی پر قبضے کے فوری بعد اعلان کیا کہ یہ ہمارے کارکن نہیں ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے تو اس حملے کی مذمت بھی کردی اس سے قبل صبح کے وقت ڈنڈا بردار کارکنوں نے پرائم منسٹرز ہاؤس کی جانب بھی پیشقدمی کی جسے روکنے کیلئے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے روکا تو عوامی تحریک کے کارکنوں نے ایس ایس پی پر خوب ڈنڈے برسائے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے مظاہرین نے غلیلوں سے پولیس پر پتھر برسائے کچھ وقفے کے بعد مظاہرین پی ٹی وی کی عمارت میں پہنچ گئے لیکن اس دوران پنجاب پولیس کی وہ ٹیم ڈیوٹی سے غائب پائی گئی وزارت داخلہ نے فوری طور پر صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے پاک فوج اور رینجرز کے دستوں کی مدد طلب کرلی پاک فوج کے دستے پہلے پہنچے اور تھوڑے ہی وقت میں پی ٹی وی کی عمارت کا کنٹرول دوبارہ حکومت نے حاصل کرلیا مظاہرین اسلام آباد میں مارگلہ روڈ ، پنجاب ہاؤس ، فضل حق روڈ ، آبپارہ ، بری امام تک کے علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اسلام آباد کے سیکیورٹی انتظامات کے باعث رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باعث سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین بھی آسانی سے اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے میں مشکلات سے دوچار ہیں شہر کے تعلیمی ادارے موسم گرما کی تعطیلات سے بند چلے آرہے ہیں دیگر اضلاع ، آزاد کشمیر اور ریلوے سے منگوائے گئے پولیس دستے اسلام آباد کے سکولوں ، کالجوں کی عمارتوں میں ٹھہرائے گئے ہیں اسلام آباد میں ائرپورٹ روڈ ، آئی جے پرنسپل روڈ ، کلب روڈ اور بلیو ایریا کے ڈی چوک سے قریبی علاقوں میں مشتعل کارکن ٹولیوں کی شکل میں موجود رہے ایکسپریس وے پر گاڑیوں پر پتھراؤ مسلسل تین دنوں سے جاری ہے لیکن علاقے میں متعلقہ تھانے اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے پا رہے راولپنڈی کی جانب سے اسلام آباد آنے والی سڑکیں بھی دوبارہ کنٹینر ز ، ٹرالے اور ٹرک کھڑے کر کے بند کر دی گئی ہیں جس سے شہریوں کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کے بعد ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد محمد علی نیکو کارا بھی چارج چھوڑ گئے اور ان کے بعد ایس پی صدر زون اسلام آباد کیپٹن الیاس نے قائم مقام ایس ایس پی کا چارج سنبھالنے سے انکار کردیا وفاقی پولیس اس خوف میں مبتلا ہوگئی ہے کہ وہ ایکشن کی صورت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسے مقدمے کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن پولیس حکام نے یہ طریقہ کار اپنا کر فورس میں نئی روائت قائم کردی ہے جس کے اثرات فورس میں نیچے تک آئیں گے دوسرے اضلاع سے آئی پولیس نے اسلام آباد پولیس کا طرز عمل دیکھ کر اپنی حکمت عملی بھی بدل لی اور پہلے تحریری حکم ہی طلب کیا جاتا ہے پولیس فورس کی کمانڈ میں ہم آہنگی کے فقدان سے بھی وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات کے سقم سامنے آئے ہیں اسلام آباد کے ڈی چوک میں جب تک دھرنے کے شرکاء موجود ہیں اس وقت تک سیکیورٹی انتظامات کیلئے ہائی الرٹ رہیگاجی فائیو ، جی سکس ،ایف سکس ، جی سیون کے سیکٹروں میں رہنے والے بھی موجودہ صورتحال کا فوری حل تلاش کرنے کیلئے حکومت سے مطالبات کر رہے ہیں بلیو ایریا کی سروس روڈ فضل حق روڈ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ہر وقت پارٹی جھنڈے اٹھائے گھومتے ہیں جو حکومت مخالف نعرے بھی لگاتے رہتے ہیں کئی مقامات پر پولیس انہیں روکتی ہے تو اس سے بھی تصادم کی اطلاعات شہر میں رواں رہتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان