بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پولیو وائرس کا ایک اور سنگین خطرہ
ڈبلیو ایچ اونےحکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے بچوں کوان کے کیمپوں میں پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور اس نادر موقع سے فائدہ اٹھایا جائے جب تمام بچے ایک ہی جگہ پر جمع ہیں
راجہ عابد پرویز:
شمالی وزیرستان جہاں پولیو کے ورکروں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے جون 2012 کو پولیومہم کا خاتمہ کردیاگیا تھامیں سب سے زیادہ پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں، سال 2014میں ابتک پاکستان میں پولیوکے 83کیسزریکارڈ کیے گے ہیں جن میں شمالی وزیر ستان میں پولیووائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 63ہے، شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کے خلاف ’ضرب عضب‘ آپریشن جاری ہے،جس کے نتیجہ میں وہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرگے ہیں جبکہ یہ سلسلہ جاری ہے، حکومتی اعدادشمار کے مطابق ابتک ساڑھے چار لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں جن میں بچوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے بچوں کوان کے کیمپوں میں پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور اس نادر موقع سے فائدہ اٹھایا جائے جب تمام بچے ایک ہی جگہ پر جمع ہیں، جن علاقوں میں پولیو کے ورکر نہیں جاسکے وہاں سے نقل مکانی کرکے آنے والے بچوں کو آسانی سے ان کے کیمپوں میں پولیو کے قطرے پلائے جاسکتے ہیں، اس لئے حکومت کو جلد از جلد آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لئے اقدامات کرنے چاہیے، اسی طرح نقل مکانی کرنے والے افراد کو چیک پوائنٹس اور رجسٹریشن آفسز میں بھی پولیو کے قطرے پلانے کا مربوط انتظام ہونا چاہیے، حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی سے بہت کم تعداد کیمپوں میں رہائش پذیر ہے زیادہ تر لوگ رجسٹریشن کرانے کے بعداپنے اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے گے ہیں، اگر ایسا بھی ہے تو جن علاقوں میں انہوں نے رہائش اختیار کی ہے ان مخصوص علاقوں میں ٹارگٹ کیمپینز شروع کی جاسکتیں ہیں۔

پولیو نے پاکستان کے لئے شدید مشکلات پیدا کردی ہیں اور دیکھا جائے تو اس کا ذمہ دار بھی امریکہ ہے جس نے سی آئی اے کے لوکل ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے پولیو مہم کی آڑ میں اسامہ بن لادن تک رسائی حاصل کی،جس کے بعد فاٹا سمیت شورش زدہ تمام علاقوں میں پولیو ورکروں پر حملے ہونے شروع ہوگے اورکئی ورکروں کو شہید کردیا گیا، نتیجتاً ان علاقوں میں پولیو مہمات کو بند کرنا پڑا، امریکہ نے تو اپنا ٹارگٹ پورا کرلیا مگر پاکستان کو ایک ایسی مشکل میں پھنسا دیا جس سے کئی سال گذرنے کے باوجود نہیں نکلا جاسکا، دنیا کے دیگر ممالک جانے والے پاکستانی مسافروں پر پولیو سرٹیفیکیٹ رکھنے کی پابندی لگ چکی ہے، اگر پولیو پر قابو نہ پایا جاسکاتو خدشہ ہے کہ پاکستان سے بیرونی دنیاکے ممالک مزید فاصلے پیدا کرلیں گے اور پولیو سے پاکستان کی نہ صرف معیشت تباہ ہوجائے گی بلکہ کوئی بیرونی سرمایہ کا بھی یہاں کا رخ نہیں کرے گا،
شمالی وزیر ستان کی آبادی تقریباً 9لاکھ ہے جن میں سے ابتک ساڑھے 4لاکھ نقل مکانی کرچکے ہیں،اگر یہاں سے ہجرت کرکے آنے والے افراد پاکستان کے دیگر علاقوں میں بغیر ویکسینیشن کے منتقل ہوجاتے ہیں تو پھر پولیو وائرس دیگر علاقوں میں پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ جائیں گے اور پہلے جہاں صرف ایک علاقے میں پولیو کا مرض پھیل رہا تھا پھر دیگر علاقوں کے لوگوں میں بھی یہ وائرس منتقل ہونے کے امکانات بڑجائیں گے، اس خوفناک صورتحال سے بچنے کے لئے اگر حکومت نے بروقت، بھرپور اورہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو پھر درپیش آنے والے حالات پر قابوپانا حکومت کے بس کا کام نہ ہوگا، یہ موقع ہے کہ پولیو کے خلاف کاغذی مہمات کا بھی خاتمہ کردیا جائے اور پولیو کے نام پر کروڑوں روپے کمانے والی این جی اوز اور حکومتی اہلکاروں سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے، جب تک پولیو کے خلاف پروگراموں کو خلوص نیت کی بنیا د پر نہیں چلایا جائے گا اور کرپشن سے پاک نہیں جائے گا تب تک ہم اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں ’صحت کا انقلات‘ کے نام سے پروگرام شروع کررکھاہے جس کے تحت ہیلتھ ورکروں نے گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی کئی مہمات مکمل کیں، مگر کیونکہ خیبر پختون خوا میں شمالی اورجنوبی وزیر ستان سمیت فاٹا کے تمام ایسے علاقوں سے لوگوں کا آزادانہ آنا جانا ہے جوکہ شورش زدہ ہیں اور جہاں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جارہے،کی وجہ سے پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکا اور رواں سال ابتک خیبرپختون خوا میں 12نئے پولیو کے کیسز سامنے آچکے ہیں، کے پی کے حکومت کے لئے بھی شمالی وزیر ستان سے نقل مکانی کرکے آنے والوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا نادر موقع ہے۔

شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے بچوں کو کیمپوں اوردیگر پرامن علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانا جہاں ایک نادر موقع تصور کیا جارہا ہے وہاں آئی ڈی پیز پولیو کا وائرس پھیلانے کے حوالے سے پورے ملک کے لئے شدید خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں، پولیو پاکستان کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے، اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے پوری قوم کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا، پولیو کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہمیں بحیثیت قوم تہیہ کرنا ہوگا، سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹی کے طالب علوں کو پولیو کے خلاف ترتیب دیے جانے والے پروگراموں میں شامل کرنا ہوگا،ریلوے اسٹیشنوں، بسوں اور ویگنوں کے اڈوں پر ویکسینیشن کے مستقل پوائنٹ مقرر کرنا ہونگے، پولیو سے متاثرہ علاقوں کی نشاندھی کرکے ہر خاندان اور بچوں کامکمل ڈیٹارکھنا ہوگا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس کو پولیو کی ویکسین پلائی جاچکی ہے اور کون اس سے محروم رہ گیا ہے، ہمارے ہاں بڑے بڑے پروگرام تو ترتیب تو دے دیے جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کے موقع پر اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے غلط اعدادوشمار ڈال دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان پروگراموں کی حیثیت صرف کاغذی رہ جاتی ہے، حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے جہاں پوری قوم اور سیاسی نمائندوں کو اعتماد میں لیا ہے وہاں پولیو کے خاتمہ کے لئے بھی ایک ایسی پالیسی واضع کرنا ہوگی جس سے پولیو جیسی لعنت سے بھی پاکستان کو چھٹکارہ مل سکے، اور اگر موجودہ حکومت نے یہ کردکھایا تو پھردیگر کامیابیوں کی طرح اسے بھی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-27

(0) ووٹ وصول ہوئے