بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پولیو مہم، غیر ملکی واویلا سے مشکوک ہوگئی!

کیا اس بنیاد پر پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔۔۔۔اس ساری مہم کا مقصد پاکستان پر پابندیوں لگا کر اسے افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی سے قبل انڈیرپریشر لانا ہے۔ پولیو بہر حال ایک مرض ہے
اسرار بخاری:
پولیو بہت سے امراض کی ایک مرض ہے اور اس سے انسانوں کا تحفظ حکومت اور خود انسانوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کی ذمہ داری اس مرض سے بچاؤ کیلئے تدابیر کو عملی شکل دینا ہے اور انسانوں یعنی عوام کی ذمہ داری ان تدابیر کو عملی شکل میں بھرپور تعاون ہے اپنی جہالت ، کم علمی اور منفی پروپیگنڈہ کے تحت بعض افراد کی جانب سے اس کے خلاف مذاحمت کی خبریں آتی رہی ہیں۔
منفی پروپیگنڈہ میں کہا گیا کہ پولیو کے قطرے میں بعض حرام اجزاء شامل ہیں اسی پروپیگنڈہ نے جس طرح پورے ملک میں اثرات مرتب کئے اس کا مطلب ہے کہ یہ پروپیگنڈہ بہت منظم انداز میں کیا گیا ۔ اب تک نہ تو یہ ظاہر ہوا کہ یہ پروپیگنڈہ کس نے کیا کیونکہ حکومتی یا غیر حکومتی سطح پر یہ بات جاننے کیلئے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا البتہ بعض این جی اوز نے پاکستان میں پولیو کی خوفناک صورتحال پر بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہ اسی بات سے پولیو کے حوالے سے پاکستان پر بعض شرائط عائد کرنے اور معاملہ پابندیوں تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پولیو کے حوالے سے بہت زیادہ پروپیگنڈ کا ہدف صوبہ خیبر پی کے اور بالخصوص قبائلی علاقے بنے اس پروپیگنڈہ کے پھیلنے کے بعد این جی اوز کی جانب سے سڑکوں پر واک ، سیمینار اور مظاہروں وغیرہ کا سلسلہ تیز کیا گیا اور اس ماحول میں میڈیکل ٹیمیں بنا کر ان علاقوں میں اینٹی پولیو مہم چلائی گئی جہاں اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے ارکان یا طالبان کی موجودگی کا شبہ تھا، ایبٹ آبادمیں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سربراہی میں مہم چلا کر اسامہ بن لادن کی موجودگی اور پھر اسے آپریشن کا جواز بنایا گیا پھر اسامہ کی گرفتاری کا دعویٰ اور پھر اس کی لاش سمندر برد کرنے کی داستان سنا دی گئی بہر حال یہ سب شکوک و شبہات پر مبنی معاملات ہیں جو ایک نہ ایک دن ضرور بے نقاب ہوجائیں گے اور لوگ اس کی حقیقت سے آگاہ ہوجائیں گے۔
پولیو مہم کے حوالے سے ایک رائے یہ ضرور ہے ممکن ہے اسے زیادہ پزیرائی نہ ملے کہ یہ کمبل چرانے کیلئے میلہ سجانے والا معاملہ ہے اس ساری مہم کا مقصد پاکستان پر پابندیوں لگا کر اسے افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی سے قبل انڈیرپریشر لانا ہے۔ پولیو بہر حال ایک مرض ہے اور اس سے تحفظ کیلئے عملی اقدامات حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے فاٹا سے بدوبستی علاقے میں آنے والوں کے تمام بچوں کو پولیو ویکسین دینے کی ذمہ داری فوج کو تفویض کی ہے ۔
یہ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں عملی قدم ہی سمجھا جائے گا۔ وزیر اعظم نے دیگر تمام اداروں کو بھی پولیو کے خلاف جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پاکستان کیلئے بہت حساس اور غیر معمولی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے ۔ پاکستان میں 2012ء میں پولیو کے 51کیس سامنے آئے تھے جو سال رواں تک 91ہوگئے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں پویو کا ایک اور کسی سامنے آیا ہے جس سے پولیو کیسز کی تعداد فاٹا میں 48ہوگئی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمہ کیلئے جو بھرپور کوششیں جاری تھیں قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیو ٹیموں پر حملوں کے نتیجے میں ادھوری رہ گئی تھی اگرچہ کچھ عرصہ قبل حکومت کی جانب سے پولیو ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کی گئی مگر یہ ناکافی ہونے کی وجہ سے اس مہم میں پیش رفت نہ ہوسکی اور عالمی ادارہ صحت نے پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو تین ماہ کیلئے پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔
پاکستان پر پولیو سرٹیفکیٹ کی پابندی کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں نے یہ موٴقف اختیار کای ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جن ممالک میں پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں وہ وائرس پاکستان سے ہی منتقل ہوا ہے جس پر دنیا بھر کے ممالک کو تشویش ہے۔ جینوا میں ہونے والے عالمی ادارہ صحت کے ایک غی رمعمولی اجالس میں پاکستان پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں پولیو وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے جبکہ خیبر پی کے دارالحکومت پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا ڈپو ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے اس وائرس کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آرہا۔
یہ الزامات عائد کرنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے جو کے بعد حکومت نے اس جانب سے پہلے سے زیادہ توجہ دی ہے اگر یہ پاکستان کو کسی وجہ سے دباؤ میں لانے کی کوشش ہے تب بھی عالمی ادارہ صحت کو ہماری سستی اور غفلت شعاری کی وجہ سے یہ موقع مال ہے۔ جب پولیو ٹیمون پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو تو ناکافی سکیورٹی کی وجہ سے اسے ادھورا چھوڑنے کی بجائے پولیو رضاکاروں کو زیادہ سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔
س میں کوئی شک نہیں قبائلی علاقوں میں سکیورٹی ک ی صورتحال مخدوش ہے اسی کے پیش نظر وزیراعظم میاں نوازشریف نے فاٹا اور بدوبستی علاقوں کی سرحد پر پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری فوج کے سپرد کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال رواں کے پہلے چار ہفتوں پولیو کے 56کیسز کی تصدیق کی گئی جبکہ گزشتہ سال اپریل تک صرف پولیو کے 8کیسوں کی تصدیق ہوئی تھی۔
نیشنل پولیو سیل کے مطابق پچھلے سال کی نسبت یہ 6سو فیصد اضافہ ہے۔ بعض شدت پسند عناصر نے پولیو کے قطروں کو مسلمان بچوں کے خلاف یہودیوں کی سازش کا پروپیگنڈہ کر کے اس مہم کو بندوق کے ذریعہ روکنے کی کوشش کی اس صورتحال میں اور طالبان سے مذاکرات کے معاملے میں ایک حیرت انگیز مماثلت تلاش کی جاسکتا ہے۔ پولیو کے خلاف مہم اور اس کی بڑے پیمانے پر خبروں سے عالمی سطح پر پاکستان کیلئے منفی صورتحال جنم لے سکتی ہے اس طرح حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرا کی ناکامی پاکستان کیلئے منفی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان کیلئے ہر دوصورتوں میں پاکستان کیلئے منفی صورتحال پیدا کرنے والے کیا پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے اور جو پاکستان کے دوست نہیں ہیں وہ پاکستان کے دشمنوں کے دوست ضرور ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف جو سازش یا متشددانہ مہم چلائی گئی اسے بنیاد بنا کر اگر پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہ ہوگی۔
اس لئے وزیراعظم کی جانب سے اس سلسلے میں بھرپور توجہ وقت کا تقاضہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر معاملات خوہ کتنے سنگین ہوں یا عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ہوں وہ توجہ اور سنجیدگی حاصل نہیں ہوتی اور کا اندازہ وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومتی رٹ کمزور ہے۔
وزیر داخلہ مذاکرات میں طالبان سے پولیو کا معاملہ اٹھائیں گے۔ صوبوں نے بھی پولیو مہم کے حوالے سے غلط بیانی کی اور حکومت کو من گھڑت اعداد و شمار کیا وزیر اعلیٰ نے پیش کیے؟ ہرگزنہیں بلکہ متعلق ادارہ ممکنہ حد تک صوبائی محکمہ صحت نے پیش کئے ہوں گے۔ جب وفاقی حکومت پر یہ حقیقت روشن ہوگئی ہے تو پھر ساتھ ہی یہ خبر آنی چاہیے تھی کہ اس ذمہ دار افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی گئی ہے یہ افراد یا حکام اس اعتبار سے قومی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں کہ ان کی وجہ سے وفاقی حکومت وہ اقدامات نہ کرسکی یا احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرسکی جو اس مرض سے نجات کیلئے ضروری تھے اور جن کی من گھڑت رپورٹوں نے نوبت یہاں تک پہنچا دی ہے کہ پاکستانیوں پر غیر ملکی سفر کیلئے پابندیاں لگ گئی ہیں۔
اگر صوبائی حکومتیں یا متعلقہ ادارے صحیح اعداد و شما ر پر مشتمل رپورٹیں ارسال کرتے اور ان رپورٹوں کی روشنی میں ضروری اقدامات کئے جاتے تو آج سفر پابندیوں کی نوبت نہ آتی ۔ پولیو کے حوالے سے صورتحال اس لئے بگڑی ہے کہ صوبائی حکومتوں نے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجبکہ ہونا یہ چاہیے کہ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ قصبوں دیہات بلکہ چند گھروں پر مشتمل گاؤں ار گوٹھ میں بھی ہر گھر میں پولیو کے قطرے پلانے کا انتظام کیا جاتا اور اسے یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاے ۔
صوبائی حکومتوں بلکہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو غیر معمولی صورتحال میں فوج طلب کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے اس لئے اگر صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں بعض عناصر کی جانب سے اس مہم میں رکاوٹ ڈالی جارہی تھی تو صوبائی حکومتیں یہ صورتحال وفاقی حکومت کے نوٹس میں لاتیں وہ ان کی مدد کیلئے رینجرز یا فوج کو بھیجتی لیکن سے حد درجہ غیر ذمہ داری کا مظاہر ہی کیا جاسکتاہے کہ صوبائی حکومتوں نے اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دی نہ تو وفاقی حکومت کو صحیح اعداد و شمار بھیجے اور نہ ہی فوج طلب کی۔
اس غیر ذمہ داری کاافسوسناک نتیجہ یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں کمسن بچے اپاہج ہورہے ہیں جو ساری زندگی کا روگ ہے۔ مزید افسوسنا ک بات یہ ہے کہ اس انسانی مسئلہ پر صوبائی حکومتوں کو سیاست سے گریز کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔محترمہ سائرہ افضل تارڑ کی یہ بات کوش آئند ہے کہ ذاتی وزیر داخہ چودھری نثار علی خان بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کے سلسلے میں تحریک طالبان پاکستان سے بات کریں گے۔
انہیں دلیل دے قائل کیا جانا چاہیے کہ قبائلی علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا خود ان کے مفادمیں ہے تاکہ یہ بچے صحیح سلامت اور مضبوط ہاتھ پاؤں کے ساتھ صحت مندانہ انداز میں پرورش پاسکیں ۔ پویلو ویکسین کے سلسلے میں انتظامی اقدمات کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہے۔ علماء کرام کی خدمات حاصل کی جائیں۔ یہ خبریں تھیں کہ پاکستان میں بالخصوص قبائلی خیبر پی کے بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں لوگوں کو پولیو کے قطرے اپنے بچوں کو پلانے کی ترغیب دینے کیلئے امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس کو پاکستان تشریف لانے کی زحمت دی جائے گی تاکہ و ہ ان علاقوں میں ترغیب کی مہم کو موثر بنا سکیں۔
طالبان اور بالخصوص قبائلی عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ اس مہم سے شکیل آفریدی جیسے غداروں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر ایک شخص غداری کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر ایک شخص غداری کا مرتکب ہوا تو اسکی سزا معصوم بچوں کو دینا انصاف نہیں بلکہ ایک لحاظ سے ظلم ہی ہے۔
یہ خوش آئند ہے کہ سندھ میں دوبارہ پولیو مہم شروع کردی گئی ہے اور اندرون سندھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں۔
ادھر پولیو کے حوالے سے فاٹا ملک کا سب سے خطرناک علاقہ بن چکا ہے اس کیلئے یہاں کے لوگوں کیلئے پولیو ویکسین ناگزیر ہوچکی ہے۔ یہ حکومت ہی نہیں عوام کا بھی فرج ہے کہ پاکستان کو جتنی جلدی پولیو فری ملک بنا دیاجائے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ پاکستانیوں کو سفری پابندیوں سے نجات ملے اور وہ کسی بھی ملک میں کسی مشکل کے بغیر آجاسکیں۔ اس سلسلے میں عوام کیلئے آگاہی پروگرام بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
عوام کو مختلف معاملات سے آگاہ کرنے کیلئے جو سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں یا سڑکوں پر واک وغیر ہ کی جاتی ہے یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے کیونکہ یہ عام طور پر این جی اوز کے تحت کئے جاتے ہیں اور این جی اوز کا جہاں تک تعلق ہے ان کے حوالے سے مختلف کہانیاں تو ضرور گردش کرتی ہیں مگر کوئی ٹھوس نتیجہ ان کی سرگرمیوں کا سامنے نہیں آیا اس لئے حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں علماء کرام کی خدمات حاصل کرے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-22

(0) ووٹ وصول ہوئے