بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پولیس‘ سیاسی امیدواروں اور وکلاء کی محاذ آرائی
موجودہ بلدیاتی الیکشن کے دوران ننکانہ شہر سے ملحق شاد باغ و کینڈا کالونی میں پولیس گردی کے واقعات سے جہاں ضلع بھر میں خوف ہراس پایا جاتا رہا وہیں حکومت مخالف بلدیاتی امیدوار اس واقعہ کو ہائی لائٹ کر کے حکومتی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور پولیس کے خلاف عوام میں نفرت کے آلاؤ بڑھانے میں کوشاں رہے
باؤ ظفر اقبال ملک:
خود سوزی کی دھمکی دے کر جھوٹے مقدمات در ج کروانے اور ان کو اکسانے والوں کے خلاف پولیس کے سخت غیر قانونی اقدامات سے اس رجحان کی حوصلہ شکنی ممکن ہے ،ڈی پی او ننکانہ احتیاط سے کام لیں۔ موجودہ بلدیاتی الیکشن کے دوران ننکانہ شہر سے ملحق شاد باغ و کینڈا کالونی میں پولیس گر دی کے واقعات سے جہاں ضلع بھر میں خو ف ہراس پایا جاتا رہا و ہیں حکومت مخالف بلدیاتی امیدوار اس واقعہ کو ہائی لائٹ کر کے حکومتی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور پولیس کے خلاف عوام میں نفرت کے آلاؤ بڑ ھا نے میں کو شا ں رہے۔
واقعات کے مطابق25 روز قبل شاد باغ کالونی کی رخسانہ جبیں کے خلاف تھانہ سٹی ننکانہ میں فراڈ کا مقدمہ درج ہوا جس کے جواب میں خاتون نے اپنے مخالف رشتہ داروں کے خلاف تھانہ صدر ننکانہ میں اپنی بیٹی کے اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے کے لیے پولیس کو در خواست دی پولیس نے مقدمہ جھوٹا سمجھتے ہوئے خاتون کو ٹر خایا تو خاتون نے اپنے وکیل میاں لیاقت کو کہا کہ میں مقدمہ درج کروانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کروں میاں لیاقت ایڈووکیٹ نے اسے رٹ پٹیشن دائر کرنے کا کہا جبکہ وکیل آفس میں موجودہ دوافراد نے اسے ڈی پی او آفس کے سامنے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی دھمکی کا مشورہ دیا جس پر خاتون نے چند صحافیوں کو بھی اطلاع کروا دی اس ڈرامے سے پریشان ڈی پی او ننکانہ نے اس کے مخالف فریق کے خلاف مقدمہ در ج کرنے کے احکامات جاری کر دیئے دوران مقدمہ اندراج پولیس کو شک پڑ نے پر انہوں نے خاتون کوبھی خوف ناک اور عبرت ناک انجام سے ڈرا کر تفتیش کی تو اس نے اپنے وکیل میاں لیاقت و دیگر افراد کے نام بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے ان افراد نے خود سوزی پر اْکسایا میں نے اپنے اوپر پٹرول کی بوتل چھڑک لی جبکہ میری ساتھی خواتین و مر دوں نے مجھے اپنے حصار میں لے رکھا تھا تاکہ کسی سگر ٹ نوش کی وجہ سے سچی مْچی نہ آگ لگ سکے یاد رہے کہ پانچ ماہ قبل تھانہ صدر ننکانہ میں شبانہ بی بی نے جھوٹا مقدمہ درج کروانے کے لیے ایسا ہی ڈرامہ کیا جو اسکی جان لے گیا جس پر وزیر اعلی پنجاب نے اس وقت کے ڈی پی او ملک کامران یوسف سمیت کئی افسران کو معطل و تبدیل کر دیا ننکانہ پولیس کے اعلی حکام نے سابقہ اور موجودہ واقعات بارے مزید معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ ایسے ڈرامے کرنے والی خواتین بارے محلہ دار ان اور ان کے خاندانوں میں اچھی رائے نہیں پائی جاتی جبکہ تھانہ و ضلع کچہری میں گھومنے والے ٹاؤٹ اور نام نہا د چو ہدری جھو ٹے مقدمات درج کروانے والی خواتین کو خود سوزی کا ڈرامہ کرنے کی ہی تر غیب دیتے پائے جاتے ہیں باخبر ذرائع کے مطابق موجودہ کیس میں بطور ملزمان وکلا ء و دیگر معروف افراد کے ناموں کی وجہ سے اعلی ٰ ضلعی افسران میں طے پایا کہ اس منفی رجحان کے خاتمہ کے لیے پولیس کو بھی سخت اور غیر قانونی اقدامات سے گریز نہ کر نا چاہیے پولیس نے بھاری نفری کے ہمراہ ایلیٹ فورس سمیت سرکل افسران کی قیادت میں شاد باغ کالونی میں رہائش پذیر ایڈ ووکیٹ میاں لیاقت کے بھائی اور کینڈا کالونی کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم رانا مکھن کے بھائی رانا طیب جس نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا کے گھروں کے در وازوں کو کلہاڑیوں سے توڑ کر اندر داخل ہوئے اور وہاں موجو دہ قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ و اہل خانہ کوسنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر خو ف زدہ کیا جس کے رد عمل میں پی ٹی آئی اور آزاد امیدوارں سمیت ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن ننکانہ میں احتجاج و ہڑتال کی قرار داد پاس کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ کے تبادلہ اور مقدمات کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا جواب ا ٓں غزل کے طور پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر بلدیاتی امیدوار ڈاکٹر محمد افضل اور رہنما میاں عبدالر شید ایڈووکیٹ نے شاد باغ کالونی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثبوتوں کے ساتھ مخالفین کے الزامات کی تر دید اور پولیس گر دی کی مذمت بھی کی ڈی پی او ننکانہ شہزادہ سلطان نے تقریبا چار ما ہ کی تعیناتی کے دوران اپنی سخت گیر ایمانداری اور محنت کو مخصوص طبقہ میں تو ثابت کر دیا مگر ضلع بھر کے زیادہ تر کر پٹ ترین پولیس افسران نے عوام میں ان کی نیک نامی کو اْجا گر نہیں ہونے دیا اوپر سے ہر وقت چہر ے پر تناؤ کی کفیت والے ڈی پی او نے عوامی و سماجی رہنماؤں پر اچھا تاثر بھی بننے نہیں دیا حالانکہ ضلعی افسران کا ایمانداری کے ساتھ خوش خلق ہونا بھی ضروری ہے تاکہ پولیس اور عوام میں اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
ننکانہ پولیس کے ان غیر قانونی اقدامات کی مخالفت کے باوجود سمجھا جاتا ہے کہ آئندہ سے ضلع ننکانہ میں خود سوزی کا ڈرامہ کرنے اور انہیں اکسانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور اس رجحان میں واضع کمی دیکھنے میں آئے گی کیونکہ ڈی پی او ننکانہ نے وکلاء اور حکومت مخالف سیاست دانوں کے تمام تر دباؤ کے باوجود ” اْکسانے والوں “کے خلاف ہتھ ہولا رکھنے سے انکا ر کر دیا ہے اس فیصلہ سے مستقبل میں ایسے لوگوں کو ڈر اور خوف رہے گا ہماری ضلع ننکانہ کے اعلی ٰ پولیس افسران سے در خواست ہے کہ جھوٹے مقدمات درج کروانے والی خواتین کے مقدمات کی تفتیش خود ایس ایچ او ہی کرے کیونکہ جھوٹے مقدمہ کے اندراج کے بعد تفتیش کسی اے ایس آئی کو دی جاتی ہے جو چمک کے لالچ میں بے گنا ہ افراد کو ذلیل و رسوا کرنا ضروری سمجھتے ہیں علاوہ ازیں مذکورہ خاتون کے بیانات کوصحیح نہ سمجھا جائے اس کے بیان کئے گئے تمام ملزمان گنا ہ گار نہیں ہیں آئندہ غیر قانونی اقدامات چادر اور چار دیواری کا تقد س پامال کرنے جیسے واقعات سے احتراز کیا جائے کیونکہ ضلعی پولیس افسران نے اپنے مقاصد تو تقریبا حاصل کرہی لیے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-04

(0) ووٹ وصول ہوئے