بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پولیس ناکام کیوں ہے؟
دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے مقابلے میں ہماری پولیس کے بنیادی اسباب میں تربیت کی کمی، جدید اسلحہ کی عدم موجودگی، وی آئی پی شخصیات کیلئے 25فیصد پولیس کی تعیناتی اور سیاسی مداخلت شامل ہیں۔
مصنف : سید بدر سعید
سید بدر سعید:
دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے مقابلے میں ہماری پولیس کے بنیادی اسباب میں تربیت کی کمی، جدید اسلحہ کی عدم موجودگی، وی آئی پی شخصیات کیلئے 25فیصد پولیس کی تعیناتی اور سیاسی مداخلت شامل ہیں۔ جب تک یہ خرابیاں دور نہیں ہوگی پولیس اسی طرح ناکام اور بے بس رہے گی۔
خطرناک بات یہ ہے کہ سکیورٹی کے حوالے سے عوام کا پولیس پر سے اعتماد اٹھتا چلا جارہا ہے۔
طالبان کی جانب سے جیلوں پر کامیاب حملوں کے بعد سے عام شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس شدید ہوچکا ہے۔ پولیس کا بنیادی کام عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے لیکن عوام اور پویس کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم ہوجائے تو پھر عوام پولیس سے مدد لینے یا اُسکی مدد کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
عام طور پر ہماری پولیس کو انتہائی سُست، مطلب پرست، کرپٹ، حاکمیت پسند، بے زار اور غیر تربیت یافتہ سمجھا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کوئی ہے؟ دراصل پولیس کی روایتی نااہلی کی ذمہ داری اور بھی کئی طبقوں پر عائد ہوتی ہے۔ عموماََہمارے ہاں پولیس میں بھرتی ہونے والوں میں خدمت سے زیادہ ایک مخصوص سوچ کا عمل دخل ہوتا ہے۔موٴثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور انکا بنیادی مقصد خدمت سے زیادہ رشوت کے ذریعے پیسہ کمانا اور اپنے علاقے میں لوگوں پر رعب جمانا ہوتا ہے۔

محکمہ پولیس میں بھرتیوں سے لے کر مختلف تھانوں میں تبادلوں تک سیاسی عمل دخل جاری رہتا ہے۔ سیاست دانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے علاقے میں ان کی مرضی کا تھانیدار تعینات کیا جائے جو ان کے مخالفین کو دبانے میں ان کی مدد کرسکے۔ اسی طرح مختلف مقدمات میں بھی سیاسی دباؤ سامنے آتا رہتا ہے ۔ ان حالات میں پولیس اہلکار کیلئے غیر جانبداری سے کام کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

امن وامان کی خراب صورتحال اور پولیس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ آبادی کے تناسب سے اہلکاروں کی تعاداد انتہائی کم ہے اس وقت پنجاب میں ایک لاکھ ستر ہزار اہلکار موجود ہیں لیکن آبادی 82ملین سے بھی زائد ہے۔اسی طرح سندھ میں ایک لاکھ پانچ ہزار پانچ سو اہلکار موجود ہیں جبکہ آبادی 46ملین سے متجاوز ہے۔ یاد رہے ان اہلکاروں میں ریزرو فورس بھی شامل ہے جو صرف ضرورت کے وقت بلائی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا کی پولیس فورس پچھتر ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے جبکہ آبادی 20ملین سے زائد ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں صرف چھیالیس ہزار اہلکار موجود ہیں۔ یوں اوسطاََ 800سے لے کر 1000افراد کی حفاظت کیلئے ایک پولیس اہلکار دستیاب ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لگ بھگ 25فیصد اہلکار چند وی آئی پی شخصیات کی حفاظت پر تعینات ہیں جسکی وجہ سے عوام کے تحفظ کیلئے بھرتی کیے گئے اہلکاروں کا تناسب مزید کم ہوجاتا ہے۔

عموماََ پولیس اہلکار چاک و چوبند نظر نہیں آتے اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کے اوقات بہت طویل ہیں ۔ ڈیوٹی کے بعد انہیں صرف اتنا وقت مل پاتا ہے کہ چند گھنٹے سو سکیں۔ اس لئے اکثر اہلکاروں کی سوشل اور گھریلو زندگی تباہ ہوتی جارہی ہے۔ انہیں اکثر تہوار بھی اپنے خاندان سے دور گزارنے پڑتے ہیں۔ محرم، رمضان، عید اور دیگر مواقعوں پر ان کی چھٹیاں منسوخ کردی جاتی ہیں۔
کم تنخواہ، مسلسل ڈیوٹی اور چھٹیوں کی منسوخی پولیس اہلکاروں کے اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ اس کا بدلہ معاشرے سے لینا شروع کردیتے ہیں۔ مسلسل تھکاوٹ اور بے آرامی کا شکار رہنے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں ختم ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس فورس کی تعداد بڑھائی جائے اور ان کی ڈیوٹی کے اوقات اس حد تک مقرر کیے جائیں جن میں ایک نارمل شخص چاک و چوبند رہ کر کام کرسکتا ہے۔

پاکستان کو دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ دہشت گردوں کے سامنے پہلی صف پولیس اہلکاروں کی ہی ہوتی ہے۔ آبادی میں گشت سے لے کر ناکوں تک پولیس اہلکار ہی ذمہ داریاں سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اس حساب سے تربیت یافتہ دہشت گردوں کا سامنا کرسکیں؟ کیا انہیں اتنا جدید اسلحہ دیا جاتا ہے جس سے وہ دہشت گردوں کے دستی بموں اور راکٹ لانچروں کا مقابلہ کرسکیں؟ اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پولیس اہلکاروں سے زیادہ نااہلی پالیسی سازوں کی ہے۔
اس سلسلے میں ایلیٹ فورس متعارف کروائی گئی لیکن اس کی اکثریت اب صرف وی آئی پیز کے ہمراہ نظر آتی ہے۔ پولیس میں مسلسل ٹریننگ کورسز کا اہتمام یقینی بنانے کیلئے اہلکاروں کی ترقی اس سے منسلک کردی جائے تو بہت جلد مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔موجودہ حالات میں ایسی پولیس فورس کی اشد ضرورت ہے جو کمانڈرو ٹریننگ کی حامل ہو۔ نشانہ بازی سے لے کر جسمانی لڑائی تک مختلف کورسز متعارف کرانے کی ضروری ہیں۔
پولیس کو زنگ آلود ہتھیاروں کی جگہ جدید اور معیاری اسلحہ اور اسکے استعمال کی مکمل تربیت بھی دی جائے۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں نہ صرف آن لائن نظام قائم کرنا چاہئے بلکہ تمام اہلکاروں کی کسی جگہ موجودی ٹریکر سسٹم کے ذریعے ماسٹر کمپیوٹر کے ریکارڈ پر ہونی چاہئے۔ تھانوں میں تعینات عملہ کو عوام سے رابطے کیلئے پبلک ڈیلنگ کی خصوصی تربیت دی جانی چاہئے۔ یاد رہے کہ پولیس کے موجودہ نظام کے بنیادی ڈھانچے پر منفی طور پر اثر انداز ہونے والے عوام کے خاتمے کے بغیر اس اہم ترین قومی ادارے کو حقیقی معنوں میں کار آمد نہیں بنایا جاسکتا۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان