بند کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیشکش کے بعد فورسز پر حملوں کا جواز؟
غیر معمولی اقدامات کا فیصلہ، وزیر اعظم کو غیر ملکی دورہ منسوخ کرنا پڑا طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں نے ”مذاکرات کے عمل“ کو سبوتاژ کر دیا ہے
نواز رضا:
نواز شریف حکومت کو قائم ہوئے 8 ماہ ہونے کو ہیں لیکن وہ ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کی بجائے خود ہی اس میں دھنستی جا رہی ہے ایک طرف سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ”پناہ“ لے کر حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے دوسری طرف طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں نے ”مذاکرات کے عمل“ کو سبوتاژ کر دیا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف جو پیر کو عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لئے ڈیوس جا رہے تھے لیکن بنوں چھاوٴنی میں ایف سی کے قافلے پر بم حملے سے 26 اہلکاروں کی شہادت کے بعد اپنا دورہء ڈیوس منسوخ کر دیا، اگلے ہی روز راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب خودکش حملے میں 14 کی شہادت نے رہی سہی کسر نکال دی، دہشت کی وارداتوں سے طالبان سے ”مذاکرات کا خواب“ منتشر ہو گیا۔
وزیراعظم محمد نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال ہْوا، ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے آئندہ لائحہ عمل تیار کیا۔ اتوار کی شام وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ہاؤس میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس طلب کر رکھی تھی لیکن بنوں میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد انہیں پریس کانفرنس منسوخ کرنا پڑی تاہم انہوں نے پریس کانفرنس کے شرکاء سے ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کی۔
چوہدری نثار علی خان طالبان سے مذاکرات کی کوششوں کو شدید دھچکا لگنے سے خاصے افسردہ دکھائی دیتے تھے انہیں اپنی تمام کوششیں رائیگاں ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں مذاکرات کا آپشن ”آپریشن“ میں تبدیل ہوتا دیکھ کر ان کی پریشانی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے قومی سلامتی کی پالیسی کی منظوری کے لئے پیر کو وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بْلا رکھا تھا لیکن بنوں اور راولپنڈی میں دہشت گردی کے واقعات نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی سلامتی کی پالیسی کو ثانوی حیثیت دے دی اگرچہ وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کی پالیسی کی اصولی طور پر منظوری دے دی لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی کابینہ کا اجلاس ادھورا چھوڑ کر بنوں چلے گئے جہاں انہوں نے دہشت گردی کے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی قومی سلامتی کی پالیسی پر بحث بھی ہو سکی اور نہ ہی قومی سلامتی کی پالیسی پر میڈیا کو بریفنگ دی جا سکی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بعض وزراء نے قومی سلامتی کی پالیسی میں اپنی تجاویز پیش کیں جن کو پالیسی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اب قومی سلامتی کی پالیسی کو حتمی منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 7 ماہ کی شبانہ روز محنت کے بعد قومی سلامتی کی پالیسی کا مسودہ تیار کیا تھا لیکن وہ اس پالیسی کا بوجوہ اعلان نہ کر سکے، یہ بات قابل ذکر ہے جب وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی سلامتی کی پالیسی کا مسودہ پیش کیا گیا تو اس پر ایک نوٹ چسپاں تھا ”اسے پڑھ کر واپس کر دیا جائے۔
“ اجلاس میں بیشتر وزراء پورے مسودے کا مطالعہ ہی نہیں کر پائے تھے کہ ان سے مسودہ واپس لے لیا گیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ملک کو سکیورٹی کی ”غیر معمولی“ حالات کا سامنا ہے اور ”غیر معمولی صورتحال“ سے نمٹنے کے لئے ”غیر معمولی فیصلے“ کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اے پی سی کے فیصلوں کی تمام جماعتوں نے توثیق کی ہے اور سب نے اس کے فیصلوں کو سیاسی مفاد کے لئے استعمال نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد کئی چیزیں وقوع پذیر ہوئی ہیں اور حکومت کی ان پر گہری نظر ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ”ہم سیاسی جماعتوں کو اس بارے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ رکھیں گے اور حکومت انہیں اعتماد میں لے گی۔“ لیکن یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے اپوزیشن کی دو جماعتوں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی طرف سے حکومت پر مسلسل یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ طالبان سے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی جبکہ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے وزیراعظم نواز شریف کی طالبان سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ عمران خان طالبان کے ایشو پر اپنی سیاسی دکان چمکا رہے ہیں۔ بنوں اور راولپنڈی میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے حکومت میں طالبان سے مذاکرات کی حامی آواز کو ”کمزور“ کر دیا ہے اب حکومتی حلقوں میں بھی طالبان سے ”کھلی جنگ“ کی بات کی جا رہی ہے۔
طالبان کے خلاف آپریشن کے حامی عناصر حکومت پر حاوی ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے اب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے لب و لہجے میں بھی سختی آ گئی ہے وزیراعظم ”غیر معمولی“ حالات میں ”غیر معمولی“ اقدامات کرنے کی بات کر رہے ہیں وفاقی وزیر داخلہ نے بھی مذاکرات سے انکار کرنے والوں سے ”کھلی جنگ“ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بنوں اور راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو فوری طور پر بنوں بھیج دیا جبکہ اگلے ہی روز وزیراعظم دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے لئے راولپنڈی کے فوجی ہسپتال پہنچ گئے اب تو وفاقی وزیر داخلہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مذاکرات کا عمل جاری رکھنا حکومت کی کمزوری نہ سمجھی جائے۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ بعض گروپ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں لیکن دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے مذاکراتی عمل کو سبوتاڑ کر دیا ہے۔
بنوں میں پیش آنے والے واقعہ کے فوراً بعد گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شمالی وزیرستان میں میر علی کے مقام دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہبنانا شروع کر دیا تھا ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں جن کے مطابق شمالی وزیرستان میں بمبار طیارے بھی کام میں لائے گئے ہیں۔ طالبان کی طرف سے دہشت گردی کے دو واقعات کے بعد مسلح افواج نے طالبان کے ٹھکانوں پر جوابی حملہ کر دیا ہے حکومت میں طالبان سے مذاکرات کے حامی عناصر نے بھی اس صورتحال میں ”خاموشی“ اختیار کر لی ہے ایسا دکھائی دیتا ہے حکومت اور مسلح افواج طالبان کے خلاف کارروائی کے معاملہ پر ایک ہی سوچ رکھتے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی طرف سے مذاکرات کی حکومتی پیشکش قبول کرنے کے اعلان کا حکومت نے مثبت جواب نہیں دیا ہے، بلکہ خاموشی اختیار کر لی ہے اور وہ طالبان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔ اگر ”مذاکرات کی کنجی“ کہیں کھو گئی ہے تو یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا۔ ایک طرف طالبان کے ترجمان کی مذاکرات کیلئے پیشکش ،دوسری جانب دہشتگردوں کے حملے اس صورتحال میں وفاقی وزیر داخلہ بھی مذاکرات کی ”کنجی“ تلاش کرنے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے شمالی وزیرستان میں کھیلی جانے والی آگ اور خون کی ”ہولی“ وہیں ختم ہو جائے گی یا پورے ملک کو اس رد عمل برداشت کرنا ہو گا۔ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-24

(0) ووٹ وصول ہوئے