بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پارلیمنٹ میں کالا باغ ڈیم پر بحث کی ضرورت
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بھارت نے خود کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لئے نولاکھ کیوسک کا ریلا چھوڑنے کا اعلان کیا تو حکومت کو اس وقت ہی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی
احمد کمال نظامی:
پاکستان میں سیلاب کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے قیام پاکستان سے ہم ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں سے کوئی سبق نہیں سیکھ سکے اور نہ ہی بلاامتیازِ فوجی و سول حکومت کسی نے ایسے اقدامات اٹھائے کہ زمانہ سیلاب میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کیسے ہو بلکہ ہر سال مون سون کی جب طوفانی ہوائیں چلتی ہیں اور بالائی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو سیلاب کا آنا لازم ہو تا ہے۔
ایک زمانہ میں پاکستان اور بھارت میں بیک وقت سیلاب آیا کرتے تھے لیکن بھارت نے ایسی منصوبہ بندی کی اور مون سون کی بارشوں کے پانی اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے پانی کی گزرگاہوں پر ڈیم تعمیر کر کے اس جن کو بوتل میں بند کرنے کی جو سبیل کی وہ کامیاب رہی۔ یوں بھارت نے خود کو بڑی حد تک محفوظ کر لیا۔ جب بھی سیلاب کا زمانہ آتا ہے تو خصوصی طور پر پنجاب کے بعض اضلاع ہی سیلاب کی زد میں آتے ہیں اور تباہی و بربادی کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور حکمرانوں کو یہ پیغام دے جاتے ہیں انتظار کریں میں پھر آوٴں گا۔
اگر میرا راستہ روک سکتے ہو تو روک کر دکھاوٴں۔ بھارت نے تو رات روکا ہی نہیں بلکہ اس نے اپنی قومی دانش مندی اور بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے سیلاب کو پاکستان کا راستہ دکھا دیا۔ امسال بارش اور سیلاب کے جس قہر سے پورا پنجاب اور آزاد کشمیر زد میں ہے اس میں بھارت کی پاکستان دشمنی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بھارت کی یہ قومی پالیسی ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اگر کوئی موقع ہاتھ آئے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو کمزور سے کمزور کیا جائے۔
لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ وہ امن کی آشا کے دیپ جلانے اور بھارت سے قومی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سرگرم ہیں۔ غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاری کے نتیجے میں پنجاب کے بہت سے شہر سیلابی ریلہ کی زد میں ہیں۔ قدرتی آفات میں سیلاب بھی قدرتی آفات میں شامل ہے اور سیلاب کی صورت حال سنگین سے سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ فیصل آباد ڈویڑن کے اضلاع جھنگ، چنیوٹ اور دیگر علاقوں میں جو تباہ کاری ہو رہی ہے اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ چنیوٹ کے ایک سو سے زیادہ دیہات میں سیلابی ریلہ داخل ہو چکا ہے انسانی ہلاکتوں کے ساتھ زیرسیلاب سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں اور مویشی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ جھنگ جو پسماندہ ضلع ہے دریائے چناب کے سیلابی ریلا نے ریلوے ٹریک شاہ جیونہ، پل شاہ جیونہ شہر واجد آباد اور جھنگ شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور یہ امر بھی بڑا غور طلب ہے کہ آٹھ لاکھ پچاس ہزار کیوسک پانی کا ریلا فیصل آباد ڈویڑن میں قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا ہے اور بھارت نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیلابی ریلے کی پاکستان کو جو غلط اور حقائق کے برعکس اطلاع دی تو ہمارے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن کے ماہرین نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے بھارت کی فراہم کردہ معلومات درست قرار دیا اور ان اطلاعات کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
اگر ہم یہ کہیں کہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن کی نااہلی کی وجہ سے انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے اور عوام کی بڑی تعداد بعض علاقوں میں چار سے پانچ فٹ طوفانی پانی میں ڈوب رہی ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستانی اداروں کے سربراہوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو حکومت نہ سہی اس کا سپریم کورٹ اس نااہلی اور غفلت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے لاکھوں روپے ماہوار تنخواہیں حاصل کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرتی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بھارت نے خود کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لئے نولاکھ کیوسک کا ریلا چھوڑنے کا اعلان کیا تو حکومت کو اس وقت ہی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی لیکن ہمارے حکمران اور ان کے ہمنوا اپنے سومنات کی حفاظت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ڈی سی او نورالامین مینگل نے فیصل آباد میں شدید اور طوفانی بارشوں کے باعث جو حادثات رونما ہوئے اور ان حادثات میں پانچ غریبوں کی جانیں بھی گئیں ان کے ورثا کو پانچ لاکھ روپیہ کی امدادی رقم فراہم کی جو سیاسی حالات کے پیش نظر حکومت نے بڑھا کر سولہ لاکھ کر دی۔
گویا حکمرانوں نے قدرتی آفات سے بھی اپنے سیاسی مفادات کو اولیت دی۔ ہمارے پیارے ہمسائے حسب روایت پیار کی ریت بناتے ہوئے اپنا سارا زائد پانی ہمارے دریاوٴں میں ڈال دیا وہی راوی جو ایک نالہ کی شکل اختیار کر چکا تھا پرجوش اور پرشور دریا کی شکل اختیار کر گیا جس کے پانی نے دیہات کے دیہات کا صفایا کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جس کی پاکستان دشمنی اور مسلم دشمنی ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے اور مودی اس وقت جبکہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں اپنے نکتہ عروج کو چھو رہی ہیں وہ خود کو حالات جنگ میں سمجھتا ہے اور ہم اسے آموں کی پیٹیاں تحفہ بھجوا رہے ہیں کہ تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔
فیصل آباد ڈویڑن ہی نہیں بلکہ پنجاب کے لاکھوں افراد سیلابی پانی میں ڈوب چکے ہیں کوئی آج کا المیہ نہیں ہر سال یہ المیہ پیش آتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ امسال گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں المیہ گہرا ہے اور جب پانی سر سے گزرنے لگتا ہے تو عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی خاطر پہونچے اونچے کر لیتے ہیں اور سارا سال وہ اقدامات اور انتظامات نہیں کرتے جن کے باعث سیلاب کو روکا جا سکتا ہے یا اس کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس وقت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں بڑی بڑی تقریریں ہو رہی ہیں۔ لیکن کوئی اس پہلو پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے کہ سیلاب کی جس تباہی سے ہم گزر رہے ہیں ہم نے اپنے پاوٴں پر خود کالاباغ ڈیم جیسے قومی منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی سیاست کے سیلاب ڈوبا ہوا ہے اور اپنے دشمن آپ ہیں۔ حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاری ہمیں پیغام دے رہی ہے کہ تمام سیاسی م فادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پیپلزپارٹی عوامی نیشنل پارٹی یا کوئی اور جماعت مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں قرارداد پیش کرتی کہ سیلاب کی تباہ کاریو ں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے موخر کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر بلاتاخیر عمل درآمد کیا جائے۔
آج اگر کالاباغ ڈیم بنا ہوتا تو ہم پورے یقین بلکہ یقین کامل سے دعوے کرتے ہیں کہ سیلاب سے اتنی تباہ کاریاں نہ ہوتیں اور جو پانی ہم سمندر کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں یہ کالاباغ ڈیم میں سٹور کر لیتے تو نہ ہمیں بجلی کی کمی ہر آنسو بہانے پڑتے اور نہ ڈوبتی ہوئی معیشت پر ماتم کرتے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور موقع دیا ہے کہ ہم قومی یکجہتی کا فقیدالمثال مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی قرارداد پیش ہی نہیں بلکہ متفقہ طور پر پاس کریں ورنہ یاد رکھیں کہ ایسے ایسے ہمارا مقدر قرار پائیں گے جن سے اس وقت ہم گزر رہے ہیں اور بھارت جو ایک طرف پاکستان کے دریاوٴں کا پانی روک کر پاکستان کو ریگستان بنانے کے منصوبہ پر کاربند ہے اور دوسری طرف موقع ملتے ہی آبی دہشت گردی کو اپنا حق قرار دیتا ہے اس کا جواب نہیں دے سکیں گے اور اس آفت کی گھڑی میں پاک فوج کو تاریخی کردار ادا کر رہی ہے ہم سیلاب پیش کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-12

(0) ووٹ وصول ہوئے