بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پانی ہے نہ بجلی، گیس پریشر بھی کم اوپر سے مہنگائی
روزہ کیسے رکھیں، افطار کیسے کریں۔۔۔۔ ۔ افطاری کے وقت شہری کے برف ڈپووٴں پر تالے لگ جاتے ہیں کہ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے باعث برقی آلات بند رہتے ہیں فریج اور فریزر کام نہیں کرتے پریشان حال افراد افطار کے لئے برف خریدنے لگے
الطاف احمد خان مجاہد
رمضان المبارک، نیکیوں کا موسم بہار، نوافل ثواب میں فرض کے برابر اور فرائض کا ستر گنا اجر ، سب باتیں اپنی جگہ مگر خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے 11 کروڑ پاکستانی نہیں بلکہ مڈل کلاس آبادی بھی پریشان ہے کہ وہ روزہ کیسے رکھے۔ افطاری کیسے کرے۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے اور کسی سے کنٹرول نہیں ہو رہا۔
کراچی کے کمشنر شعیب صدیقی، ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو، میونسپل کمشنر سمیع صدیقی، ڈپٹی کمشنر ملیر قاضی جان محمد، ڈپٹی کمشنر جنوبی سلیم راجپوت، ڈی سی وسطی افضل زیدی، ڈی سی غزنی محمد علی شاہ، ڈی سی کورنگی آصف جان اور ڈی سی آغا پرویز، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی عائشہ ابڑو، ایڈمنسٹریٹر ترقی فلاح الدین، ایڈمنسٹریٹر کورنگی قراة العین اور ایڈمنسٹریٹر غزلی سجاد میمن سمیت تمام ضلعی اور ڈویڑنل عمال کا دعویٰ ہے کہ قیمتوں میں کمی کے اقدامات جاری ہیں لیکن عام شہریوں کا موقف ہے کہ ناجائز منافع نرخوں کی لوٹ مار ختم نہیں ہو رہی طلب اتنی ہے کہ سبزی منڈی میں بھارت سے لائے گئے کیلے اور نیوزی لینڈ سے در آمد شدہ سیب بالترتیب 130 روپے درجن نیز 3 سو روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں افسران سینکڑوں میں ہیں لیکن کراچی کے ڈھائی کروڑ شہریوں کو ریلیف نہیں مل رہا وہ حصول انصاف کیلئے کس در پر جائیں اور کون سی زنجیر عدل ہلائیں کچھ واضح نہیں۔

سبزی و فروٹ منڈی سپر ہائی وے میں نرخ نسبتاً کم ہیں لیکن کراچی کے 6 اضلاع میں اس کمی کے اثرات نمایاں نہیں اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہوں یا ضلعی اور بلدیاتی حکام وہ شہریوں کو ان منافع خوروں کی من مانیوں سے بچانے میں نا کام ہی نظر آتے ہیں۔ اندرون ملک سے لائے گئے تربوز، جامن، آم، شفتالو، خربوزے، آلو بخارے، سردہ کے نرخ بھی سبزی منڈی سے دوگنے نرخ پر کراچی بھر میں فروخت کئے جا رہے ہیں یہی کیفیت سبزیوں کی ہے۔
آلو، پیاز، ٹماٹر، لوکی، لیموں، اروی، کھیرا، ککڑی، ٹنڈے، کریلے اور ہر مصالحہ کے دام بھی من مانے مقرر ہیں جبکہ گھی، پکانے کا تیل، مشروبات، پکوڑے، کچوریاں، گول گپے، چھولے چاٹ، پانی پھلکے، بھیل پوری فروخت کرنے والے بھی کسی سے پیچھے نہیں وہ بھی دہی بڑے، ربڑی، قلفی اور آئس کریم والوں کی طرح روزہ داروں کو لوٹ رہے ہیں شدید گرمی اورحبس میں روزہ رکھنے والے افطار کے بعد آوٴٹنگ پر نکلتے ہیں کہ اب سڑک واضع دکانوں سے کچھ کھاپی سکیں لیکن ان خاندانوں کو آسمان کو چھوتی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کا کراچی 1843ء سے قبل کے کراچی کا منظر پیش کر رہا ہے جب یہاں بجلی، پانی، گیس کے جدید مروجہ سسٹم موجود نہ تھے۔ میٹھادر اور ڈملوٹی کے کنووٴں سے پانی، تیل کے ہنڈولوں سے روشنی اور لکڑی کے چولہوں پر کھانا پکتا تھا۔ آج 176 برس بعد کراچی میں ماضی کے مناظر عام ہیں۔ بجلی دن کے 24 گھنٹوں میں سے 8 گھنٹے تو لوڈ شیڈنگ کے نام پر غائب رہتی ہے باقی 16 گھنٹے غیر اعلانیہ بریک ڈاوٴن کی زد میں ہوتے ہیں اور پانی کا سلسلہ یہ ہے کہ بجلی نہ ہونے کا عذر تراش کر واٹر بورڈ نے قلت آب کو قانونی بنا دیا ہے۔
اس سے اگلا مرحلہ گیس پریشر میں کمی کا ہے۔ جسکے، باعث گھروں میں کھانے کی تیاری آسان نہیں رہی۔ شہری بلبلا اٹھے ہیں پانی، بجلی اور گیس کا بحران بر قرار ہے۔ الیکٹرک کی کارکردگی اس مرحلے پر انتہائی ناقص رہی ہے جو شہریوں کی توقعات پر پوری نہ اتر سکی دوسری طرف واٹر بورڈ نے ٹینکر سروس کے نرخ بڑھا دئیے۔ اپر گزری، مہران ٹاوٴن، گودام چورنگی پر مظاہروں میں شریک افراد گیس پریشر میں کمی پر سراپا احتجاج تھے یہاں سے گزرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایک طرف حکومت نے سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس وعدے پر عمل نہیں ہو رہا، سحری، افطاری ایک طرف تروایح اور نمازوں کے اوقات میں بجلی جان بوجھ کر بند رکھی جاتی ہے۔
کراچی میں فراہمی آب بھی نہیں نکاسی آب کا نظام بھی تباہ ہو چکا ہے بلدیہ کے عملے کو کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملتی اس لئے وہ کچرہ نہیں اٹھاتے اچھے، بھلے صاف ستھرے علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہیں حکومت نے رمضان پیکج کے نام پر اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاء دستیاب نہیں۔ افطاری کے وقت شہری کے برف ڈپووٴں پر تالے لگ جاتے ہیں کہ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے باعث برقی آلات بند رہتے ہیں فریج اور فریزر کام نہیں کرتے پریشان حال افراد افطار کے لئے برف خریدنے لگے تو برف فروش بتانے لگے کہ 3 سو فیصد طلب بڑھنے پر اس کی تیاری آسان نہیں رہی پیداوار میں کمی کا غصہ شہری بہروف فروشوں پر اتارتے ہیں تو انہوں نے کاروبار ہی سمیٹ لیا۔
برف کی کمی کا نقصان مشروب فروشوں کو بھی ہو رہا ہے جنہوں نے قلفی، مشروبات اور گولے کنڈے کے نرخ بڑھا دئیے ہیں۔ برف کی سل پہلے 350 سے 400 روپے میں ملتی تھی جو آج کل ساڑھے سات سو سے آٹھ سو روپے میں مل رہی ہے۔ اور برف پر کیا موقوف شہر کراچی میں افطار کے وقت دودھ کے برتن اور سحری کے لئے میٹھے کی تیاری میں دودھ کی کھیت بڑھی تو ڈیری فارمز نے دودھ کی قیمت میں یکا یک اضافہ کردیا پہلے دودھ ڈھائی سے 3 ہزار روپے فی 40 لیٹر دستیاب ہوتا تھا اور شہر میں 84 روپے کلو فروخت ہوتا تھا دہی کے نرخ 96 روپے کلو تھے لیکن اب ایک سو 10 روپے کلو بیچا جا رہا ہے حالانکہ دودھ دہی کے نرخوں کاکیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور سرکاری نرخ 70 روپے کلو ہے ہول سیلرز نے نرخ بڑھائے تو بعض ریٹیلرز نے اضافی دودھ خریدنے سے انکار کردیا کہ اب ڈیری فارمز فی من دودھ کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔
قیوم آباد کے باشندے اور سماجی شخصیت حاجی خلیل الرحمن کہنے لگے کہ شہری انتظامیہ عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے جب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہو تو نادار اور غریب افراد کیلئے سیلانی، چھیپا، ایدھی کے دسترخوان ہی بچے ہیں جہاں وہ روزہ افطار کریں لیکن اس حوالے سے عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کا کام نمایاں ہے جو ماہ رمضان میں یومیہ 5 ہزار افراد کو افطار باکس تقسیم کرتا ہے ٹرسٹ کے ڈائریکٹر تعلقات عامر شکیل دہلوی بتانے لگے کہ یہ بکس کمپیوٹرائزڈ طریقے سے تعلیم القرآن کے مراکز، مساجد، جیل خانوں، شاہراہوں، ٹریفک اہلکاروں اور غریب بستیوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں کراچی میں دفاتر سے گھروں یا کام کی جگہوں پر بر وقت پہنچنا آسان نہیں رہا کہ گاڑیوں کا ہجوم، سڑکوں پر تجاوزات سے ٹریفک جام ہی رہتی ہے ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر امیر بخش شیخ کے انتظامات بھی ہوا میں اڑگئے کہ ابتدائی دو تین دن تو گرمی کے باعث ٹریفک کم تھی لیکن جیسے ہی موسم بدلا سڑکوں، چراہوں پر تجاوزات کی بھر مار کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

پاکستان کے کمرشل کیپٹل کے باشندے دہرے تہرے عذاب میں مبتلا رہے کہ پہلا افطار ہی مہنگائی کا پھلوں پر وار ثابت ہوا آلو بخارے نے شہر اقتدار کو بخار چڑھا دیا اورشدید گرمی کے باعث جب بجلی پانی اور گیس بھی میسر نہ ہوئی تو سب سوچنے لگے، روزہ کیسے رکھیں، افطار کیسے کریں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان