بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستانی سیکولرازم
اکثر لوگ مفہوم نہ جاننے کے باوجود مخالفت کرتے ہیں۔۔۔۔جدید سیکولرازم کا نظریہ پہلی بار سولہویں صدی میں انقلاب فرانس کے دوران سامنے آیا تھا
ایان خان:
کسی بھی دوسرے نظریئے کی طرح سیکولرازم کے بارے میں بھی مختلف سوچ اورتصورات پائے جاتے ہیں جن پر تقافتی ، معاشی اور سماجی عناصر کا بہت زیادہ عمل ہوتا ہے۔ تاہم سیکولرازم کا بنیادی تصور وہی رہتا ہے یعنی چرچ اور ریاست کی علیٰحدگی یا مذہب اور ریاست کا الگ الگ ہونا ۔ تاہم پاکستان میں سیکولرازم ک مذہبی رہنماوں بلکہ بعض اوقات حکومتی سطح پر بھی ایسا نظریہ قرار دیا جاتا ہے جو مذہب کے خلاف اور خدا کے وجود سے انکار کرتا ہے۔
اس طرح کے دعوے کرنے والے سیکولرازم کے اصل مفہوم، اُس کی تاریخ اور ابتدا کے حوالے سے بالکل نہیں جانتے اور محض سُنی سنائی باتوں کی بنیاد پر سیکولرازم کو مذہب سے متصادم ایک چیز قرار دیتے ہیں۔
جدید سیکولرازم کا نظریہ پہلی بار سولہویں صدی میں انقلاب فرانس کے دوران سامنے آیا تھا۔ اس نظریے کے تحت چرچ کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی طرف سے عام لوگوں کے استحصال کا ذیعہ قرار دیا گیا تھا۔
تاہم اُنیسویں صدی میں یورپی سیکولرازم کا نظریہ سامنے آیا اور اسے جمہوریت کے اہم ستون کے طور پر متوازن بنایا گیا۔ اس کے تحت مذہب کو چرچ کو حدود اور کسی شخص کی ذات تک محدود قرار دیا گیا۔ تاہم اس بارے میں یہ اصول بہت واضح ہے کہ سیکولرازم مذہب کی نفی نہیں کرتا بلکہ یہ کسی بھی فرد کے مذہب پر عمل کے حق کا تحفظ کرتا ہے، جب تک کہ وہ اس سے اظہار کو مذہبی عبادات کے لیے مخصوص مقامات تک محدود رکھے یا اپنے گھر میں عمل کرے اور جب تک اُس کے مذہبی عقائد اور نظریات دوسرے لوگوں کے نقصان نہیں پہنچاتے یا تشدد وفساد کا باعث نہیں بنتے، سیکولرازم کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
مغربی سیکولرازم معاشرتی زندگی کے معاملات میں مذہب کے کردار کو بھی تسلیم کرتا ہے مگر یہ اس کردار کو سیاسی شکل دینے کی اجازت نہیں دیتا کیو نکہ اس کے مطابق ایسا کرنے سے جدید سائنسی ، معاشی اور منطقی نظریات متاثر ہوتے ہیں۔ یہ وہ سیکولرازم ہے جس پر گزشتہ ایک صدی سے بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ سے مغربی ممالک عمل پیرا ہیں۔
اس کے برعکس اُن ممالک میں اُبھرنے والا سیکولرازم جو کارل مارکس ( اور بعدازاں لینن اور ماوٴ) کے نظریات پر عمل پیرا رہے ۔
وہ سولہویں صدی کے انقلاب فرانس کے بعد اُبھر کر سامنے آنے والے نظریہ پر عمل کرتے رہے۔ انہوں نے حقیقتا مذہبی عقائد اور ان پر عمل کے خاتمے کی کوششیں کیں۔ ان نظریات کے حامل ممالک مذہب کو انقلاب کے خلاف تصور کر تے ہیں۔ تاہم مغربی سیکولرازم کو بتدریج جدید نظریات سے ہم آہنگ کیا گیا اور جب یورپی اقوام نے معاشی طور پر ترقی کرنا شروع کی تو یورپ میں دیگر جمہوری اصولوں کے ساتھ سیکولرازم بھی ایک مضبوط اصول کے طور پر رائج ہو گیا۔

اُس وقت سیکولرازم کی کامیابی اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مختلف خطے کے ماہرین ار سکالرز نے بھی اپنے خطے کے لوگوں کو ان معاشی فوائد اور ثمرات سے مستفید کرانے کے لیے جو مغرب اُن نظریات سے حاصل کر رہا تھا، اپنے ہاں بھی سیکولر نظریات کو اس طرح پروان چڑھانا شروع کیا کہ اُن کے معاشرتی اور سماجی ڈھانچے پر ضرب نہ پڑے ۔مثال کے طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں کچھ مسلم اور ہندو اصلاح پسندوں نے ایسے نظریات پھیلانے شروع کیے جن میں ظاہر کیا گیا کہ اُن کے مذہب میں پہلے سے جدید ترقیاتی اور سائنسی اصولوں پر عمل کے لیے زور دیا گیا ہے۔
بعض ہندو اصلاح پسندوں نے کہا کہ ہندومت تو پہلے ہی اجتماعیت کا قائل ہے جبکہ مسلمان دانشوروں کی طرف سے یہ نظریات سامنے آئے کہ اسلام کو سیکولرازم ورثہ میں ملا ہے، گویا ہندو اور مسلم دونوں مذاہب کے سکالرز سے سیکولرازم کے حوالے سے اپنے انظریات پیش کیے جو اُن سے مذہب سے مطابقت رکھتے تھے چنانچہ جب کوئی بنیاد پرست یا سخت عقائد رکھنے والا سیکولرازم کو خدا یا مذہب کے خلاف قرار دیتا ہے تو اُس کی یہ بات دو وجوہات کی بنا پر غلط ہوتی ہے۔

ایک تو یہ ہے کہ مغربی سکولرازم محض مذہب اور ریاست کہ معاملات کو الگ کرتا ہے نہ کہ مذہب کی نفی اور دوسری وجہ یہ کہ پاکستان اور بھارت میں موجود سیکولر لوگوں میں ایسے مفکر شامل ہیں جو مذہب اور سیاست کو الگ کرنے کو اس لیے درست سمجھتے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں اُن کے مذہب میں ایسی تقسیم کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
پاکستان میں سیکولر عقائد زیادہ تر اُنیسویں صدی کی تعلیمات پر مبنی ہیں۔
سر سید احمد خان نے سب سے پہلے یہ بتایا تھا کہ سائنسی نظریات اور منطق کو کس طرح اسلامی اصولوں کی توجیح میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ اس طرح کی وضاحت حقیقتا اسلام کی روح کے مطابق ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی ترقی ہی روحانی ترقی کا باعث بنتی ہے۔
پاکستان میں بھی بیشمار رہنما اور مفکرین سیکولرازم کے حق میں دلیل دیتے رہے ہیں اور اسے مذہب سے متصادم نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں ۔
بعض مفکرین اسے میثاق مدینہ کی مثال دے کر اسلامی تعلیمات میں شامل کر دیتے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود بعض علماء کا سیکولرازم کے حوالے سے نظریہ تبدیل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ مذہبی رہنما اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اسے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اسی لیے اس کی شدومد سے مخالفت کرتے ہیں۔ دوسری طرف عام لوگوں کی اکثریت سیکولرازم کی حقیقت سے واقفیت نہ رکھنے کے باوجود مذہبی رہنماوں کی تقلید میں اسے خلاف اسلام اور دینی تعلیمات سے متصادم تصور کرتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان