بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں جمہوریت کا مطلب صرف لوٹ مار ؟
کہایہ جاتا ہے کہ بار بار الیکشن ہوں گے تو پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔جس طرح گھاس کاٹنے والی دانتری سے انسانی شیو نہیں بنائی جاسکتی ہے اسی طرح کرپٹ خائن اور جعلی ڈگریوں کے حامل سیاست دانوں سے پاکستان کو عظیم اور ترقی یافتہ ملک نہیں بنایا جاسکتا
اسلم لودھی:
کہایہ جاتا ہے کہ بار بار الیکشن ہوں گے تو پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔جس طرح گھاس کاٹنے والی دانتری سے انسانی شیو نہیں بنائی جاسکتی ہے اسی طرح کرپٹ خائن اور جعلی ڈگریوں کے حامل سیاست دانوں سے پاکستان کو عظیم اور ترقی یافتہ ملک نہیں بنایا جاسکتا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت ایسے امیدواروں کو میدان سیاست میں اتارتی ہے جن کیخلاف دس دس ایف آئی آر درج ہوتی ہیں جن پر کرپشن کے الزامات اور آٹھ دس قتل کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہو۔
جب بھی مسلم لیگی حکومت بنتی ہے تو راناثنا اللہ ،خواجہ آصف، شاہدخاقان عباسی ، سعد رفیق ، چوہدری نثار ، پرویز رشید جیسے لوگوں کے ہاتھوں پرپاکستانی قوم کا مقدر تھما دیا جاتا ہے۔یہ سب لوگ اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ انہیں تبدیل کرنے کا رسک نوازشریف بھی نہیں لیتے۔یہی عالم پیپلز پارٹی کا ہے وہاں بھی گنے چنے چہرے سامنے آتے ہیں۔ عمران کرپشن کیخلاف باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا بیشتر سیاسی سکریپ (لیٹرے) تحریک انصاف میں پناہ لے چکے ہیں جو ہر جلسے میں عمران کے اردگرد کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ فصلی بیٹرے ہواکا رخ دیکھ کر پرواز کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سو سے زیادہ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ماسٹر ڈگریاں حاصل کرکے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں انہیں ہر جگہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اسی ملک میں ایف اے پاس کرپٹ ترین شخص صدر پاکستان اور وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہ چکا ہے۔
وہ آڈیٹر جنر ل جو خوداپنی تنخواہ میں اضافہ کرسکتا ہے اس کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی رہی کہ اسے نہ تو پیپلز پارٹی کی کرپشن دکھائی دی اور نہ ہی مسلم لیگ ن کی ۔ایک جائزے کے مطابق ہر مہینے پانچ سے دس لاکھ نوجوان پاکستان میں اپنے تاریک مستقبل کو دیکھتے ہوئے جائز اور ناجائز طریقے سے پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔غیر قانونی طریقوں سے جانیوالے لوگ کچھ سمندروں میں ڈوب کر مرجاتے ہیں تو کچھ کسی دوسرے ملک کی جیلوں میں قید ہوجاتے ہیں۔
بہت کم لوگ منز ل مقصود پر پہنچتے ہیں۔ پاکستانی حکمران جن کا اپنا مستقبل بہت روشن ہے وہ چین کی بانسری بجا کر ملک کی نوجوان نسل کو برباد ہوتا دیکھ رہے ہیں۔نواز شریف پاکستانی قوم کے بہت ہمدرد لیڈر تصور کیے جاتے ہیں لیکن ان کے غیرملکی دوروں پر اب تک ایک ارب خرچ ہوچکے ہیں جہاز بھربھر کے غیر ملکی دوروں پر لے جایا جاتاہے۔شنید ہے کہ ہمارے سیدھے سادھے پریذیڈنٹ نے بھی اپنے غیر ملکی دورے میں لاکھوں ڈالر ٹپ میں دے کر غریب قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی مکمل جستجو کی ہے۔
وزیر مشیر وزیر مملکت اور ایڈوائزوں کی تعداد 100 تک پہنچ چکی ہے جن پر صرف غریب پاکستانی قوم کے سالانہ بارہ سے پندرہ ارب روپے خرچ ہورہے ہیں۔جبکہ اتنے ہی پیسے سابقہ حکمرانوں بیورو کریٹوں اور جرنیلوں کی سیکورٹی اور پروٹوکول پر خرچ کیے جارہے ہیں۔ کوئی ایسی جماعت نہیں جس کے پاس پاکستانی مسائل کی تفصیل اوراس کا حل بھی موجود ہو۔ ہم پاکستانی عوام شخصیات (بھٹو ۔
نواز شریف ۔ عمران ۔ الطاف حسین )کے اس قدر اسیر ہوچکے ہیں کہ ووٹ دینے سے پہلے امیدوار کے کردار اخلاق ۔ دیانت داری اور اہلیت کو بھی نہیں دیکھتے اور آنکھیں بند کرکے تیر ، شیر اور بلے پر مہر لگادیتے ہیں۔پہلے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے بارے میں ایسی خبریں سننے کو ملتی تھیں اب مسلم لیگ ن کے امیدوار چوری ڈاکے قتل اور ناجائز قبضہ کرنیوالوں میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔
اگر عوام امیدواروں کے کردار کو دیکھنے کی بجائے صرف لیڈروں کی شکلیں ہی دیکھیں گے تو پھر انکے مسائل کیسے حل ہوں گے جسے کندھ چھری سے بکرا ذبح نہیں ہوتا جسے بجلی کے بغیر پنکھا نہیں چلتا اسی طرح اچھے اور صالح کردار کے حامل عوامی نمائندوں کی موجودگی میں فلاحی اور اسلامی پاکستان نہیں بن سکتا۔نہ پیپلز پارٹی کو اپنے وعدے یاد رہے اور نہ مسلم لیگ ن کو۔
عمران بھی مرغے کی طرح بانگیں دیتا ہوا ہر روز نئی سے نئی کہانی سنا کر جھوٹ بول رہاہے اس نے بھی خیبرپختونخواہ میں عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں اگر 68 سال گزرنے کے باوجود پاکستانی قوم کے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔امیر وں اور غریبوں کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔میں جوہر ٹاؤن میں ایک اکیڈمی کے سامنے سے گزر رہا تھا جہاں اتنی بڑی تعداد میں کاریں کھڑی تھیں جن پر امیر زادے اکیڈمی میں پڑھنے آئے تھے۔
ایک طرف پیسے کی ریل کا یہ عالم تو دوسری جانب دو کروڑ بچے پیسے نہ ہونے کی بنا پر سرکاری سکول پڑھنے سے بھی قاصر ہیں۔ اس میں ہمارے کرپٹ خائن اور جعلی ڈگری والے نمائندوں اور سیاست دانوں کا ہی قصورنہیں بلکہ اس جرم میں عوام بھی برابر کے شریک ہیں۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ آمریت میں چند افراد لوٹ مار کرتے ہیں لیکن جمہوریت میں لیٹروں کی فوج ظفر موج چاروں ہاتھوں سے قومی خزانے کو لوٹتی ہے۔
جس کا اہم ثبوت غیرملکی بنکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر سے زائد کا ہونا ہے۔مہذب ملکوں میں بیشک جمہوریت کا مطلب عوام کی خدمت ہوگالیکن پاکستان میں تو جمہوریت کا مطلب کاروبار ہے۔دس لاکھ لگاؤاور ایک کروڑ کماؤ۔خود بھی خوش اور سیاسی لیڈر بھی خوش۔ عوام جائیں جہنم میں۔وہ پہلے بھی روتے تھے اب بھی روتے رہیں گے۔ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے سیاسی راہنما اپنے مسائل حل کرکے چلتے بنتے ہیں۔قومی خزانے کو لوٹنے والے کیا پہلے کم تھے کہ دس ہزار بلدیاتی نمائندے بھی قوم کے کاندھوں پر سوار کردیئے گئے ہیں جو پہلے اپنی جیبیں بھریں گے پھر کچھ اور سوچیں گے۔اللہ بچائے ایسی جمہوریت سے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-03

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان