بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہوئے تم دوست جس کے اسکا دشمن آسماں کیوں ہو؟
پاکستان کی چین اور روس سے قربت پر امریکہ پریشان۔۔۔۔۔ پاکستان ماضی میں دویسے اتحادوں کا رکن رہا ہے جن میں سیٹو اور سنیٹو شامل ہیں۔ دونوں ہی بلاکس کا حصہ بننے کی وجہ امریکہ رہا ہے
سلیم بخاری:
دنیا بھر میں اتحاد اور بلاک بنتے رہے ہیں بن رہے ہیں اور مستقبل میں نئے زاویں سے نئے بلاکس بنتے نظر آرہے ہیں۔ بنیادی طور پر ایسی عالمی گروپ سازی کا مقصد رکن ممالک کے مشترکہ مفادات سے ہوتا ہے پاکستان ماضی میں دویسے اتحادوں کا رکن رہا ہے جن میں سیٹو اور سنیٹو شامل ہیں۔ دونوں ہی بلاکس کا حصہ بننے کی وجہ امریکہ رہا ہے جس سے ہم دوستی کا دم بھرتے رہے ہیں اور چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک واشنگٹن کے ہر جائز و ناجائز فیصلہ کو آنکھیں بند کر کے تسلیم کرتے رہے مگر اس خدمت گزاری کا ہمیں کیا صلہ ملا وہ سب جانتے ہیں۔
وہی بھارت جو طویل عرصے تک امریکہ مخالف سوویت یونین کا حصہ بردار رہا آج امریکی قیادت کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے بھارت جو ہمارا ازلی دشمن ہے اسے صدر اوبامہ اب اس خطے کا چوہدری بنانے پر تلا ہوا ہے۔ ہم نے امریکہ کی خواہش پر ستمبر 1954ء میں قائم ہونے والے روس مخالف اتحاد سیٹو میں شرکت اختیار کی، اس اتحاد میں پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، فرانس، نیوزلی لینڈ، فلپائن، تھائی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ بھی شامل تھے۔
یہ اتحاد 30 جون 1977ء کو اس لئے اپنی موت مرگیا کیونکہ رکن ممالک نے اس میں دلچسپی لینی ختم کر دی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ 1955ء میں بننے والے اتحاد سینٹوکی رکنیت بھی پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر حاصل کی۔ اس اتحاد کو معاہدہ بغداد کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اس میں ہمارے علاوہ ایران، عراق، ترکی اور برطانیہ میں رکن تھے۔ امریکہ ابتدائی طور پر اس میں اسرائیل نے ناراض ہونے کے خدشے کے تحت شامل نہیں ہوا تاہم 1958ء میں وہ اس اتحاد کی فوجی کمیٹی کارکن بن گیا تھا۔
یہ اتحاد بھی 1979ء میں دم توڑ گیا۔ یہاں یہ درج کرنا ضروری ہے کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1971ء میں اقتدار سنبھالتے ہی ان دونوں اتحادوں کو خیر باد کہہ دیا تھا ان کا یہ عمل روس کے لئے ایک اچھا پیغام تھا۔ امریکہ کی طرح روس نے بھی ایسے ہی اتحاد قائم کئے جن میں معاہدہ وارسا نمایاں تھا اور اسے نیٹو کی طرز پر تشکیل دیا گیا تھا۔ اس اتحاد کے رکن ممالک میں البانیہ، بلغاریہ، چیکو سلوا کیا، جرمنی، ہنگری، پولینڈ، رومانیہ اور سویت یونین شامل تھے۔
نیٹو کی تشکیل کا مقصد سویت یونین کے ارد گرد کے ممالک میں اسکے بڑھتے ہوئے اثرور سوخ کو روکنے کے لئے ایک حصار قائم کرنا تھا۔ کولڈ وار کے عہد کے سارے اتحاد آہستہ آہستہ اپنی حیثیت کھوتے گئے۔ آج دنیا ہرچند گلوبل ویلج بن گئی مگر ایک بار پھر نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں چین کی روز افزوں بڑھتی ہوئی اقتصادی اور فوجی قوت امریکہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے ایک بار پھر کولڈ وار کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔
امریکہ کے بہت بڑے سفارت کار اور دانشور ہنری کسنجر نے درست کہا تھا امریکہ مستقل دوست یا دشمن نہیں۔ اس کی دوستی صرف اس کے مفادات سے ہے یہ بہت حد تک درست ہے کیونکہ جیسا کہ پہلے اظہار کیا جا چکا ہے کہ ہم نے اپنی ہمت سے بڑھ کر امریکہ کی خدمت کی اس کا سب سے بڑا ثبوت افغان جنگ ہے جو امریکہ کی خواہش پر پاکستان نے لڑی اور اس کے نتیجے میں روس نہ صرف افغانستان سے نکل گیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکرے ہو گئے اور یوں دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔
ستم ظریفی دیکھیں کہ وہ بھارت جو ہر لحاظ سے اس وقت روس کا ہمنوا تھا آج امریکہ کے سر کا تاج ہے اور وہ اسے اس خطے کا چوہدری بنانے پر تلا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ بھی امریکہ اپنے مفاد کی خاطر کر رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ چین کا اثر و رسوخ اس خطے میں اتنا بڑھ جائے کہ اسے یہاں سے اپنا بستر گول کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے چین کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مل کر اکنامک کا ریڈور بنانے اور 45 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی بات شروع ہوئے ہے اتحاد ثلاثہ کے تینوں ارکان امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور وہ ہر حربہ استعمال کرکے اسے ناکام بنانے کی سازش میں مصروف ہو گئے ہیں پاکستان کے لیے یہ منصوبہ صرف اکنامک کا ریڈور نہیں بلکہ یہ صنعتی، تجارتی اور سٹریٹجک کاریڈور کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ پاکستان اور چین ایک نیول اشتراک کے ذریعے بحر ہند میں تحفظاتی تعاون بڑھائیں اور سمندر میں ہونے والی کارروائیوں پر نظر رکھیں اس مقصد کے لیے چین نے پاکستان کو آٹھ آبدوزیں بھی فروخت کی ہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی اہل ہیں یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک گوادر او ایک بہت بڑی نیول بیس بنانے کے لیے بھی مصروف کار ہیں اور چین کے طرف سے پہلے بحری بیڑے پر کام مکمل ہو چکا ہے جس کے عرشے سے ہوائی جہاز پروازیں بھرتے دکھائی دیں گے اور یوں امریکہ کی نیول برتری کے دعویٰ کی قلعی بھی کھل جائے گی ان حوالوں سے جہاں امریکہ پریشان ہے وہیں بھارت اور اسرائیل بھی تلما رہے ہیں۔
ابھی اتحاد ثلاثہ کے ممالک کو اسی پریشانی سے نجات نہیں ملی تھی کہ ان کے لیے ایک اور خبر افتاد بن کر گری کہ حال ہی میں روس نے پاکستان کے خلاف اسلحہ کی فروخت پر عائد پابندی اٹھالی ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ ماسکو پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے سرمایہ کرنے کا خواہاں ہے بات یہاں رکی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار روس کے اشتراک سے فوجی مشقیں بھی ہو رہی ہیں۔
کچھ سفارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس کی طرف سے یہ پیش رفت امریکی صدر بارک اوبامہ کے حالیہ دورہ بھارت اور نریندر مودی کے یورپی ممالک کے دوروں کا ردعمل ہے۔ چین بھی ان جنگی مشقوں میں بھرپور حصہ لے رہا ہے چینی وزیر اعظم لی کی جیانگ نے اپنے دو روزہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی سینٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سے چین کی دوستی کو چین کی تیزرفتار ترقی سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔
اسی بنیاد پر اکنامک کا ریڈور کا منصوبہ تشکیل پایا ہے۔ امریکی صحافی مارک مذاٹی کے مطابق 2011ء کے بعد پاکستان اور چین کے تعلقات پاک، امریکہ تعلقات کے مقابلے میں زیادہ سٹریٹیجک ہوتے جا رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کے اس صحافی کے مطابق اوبامہ انتظامیہ کی سخت ترین پالیسیاں پاکستان سے دوری کا سبب ہیں۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادتیں روس سے تعلقات میں گرم جوشی لانے کے لیے مصروف کار ہیں ان تعلقات پر کولڈ وار کے زمانے گہری برف جمی تھی۔
ظاہر ہے امریکہ کی بھارت سے قربت کے پیش نظر اسلام آباد نئے دوست تلاش کر رہا ہے اور چین کے بعد روس ایک بہترین انتخاب ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف دو مرتبہ روس کا دورہ کر چکے ہیں جہاں ان کا پرجوش خیز مقدم کیا گیا تھا۔ حال ہی میں شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی غرض سے وزیراعظم نواز شریف نے روسی شہر افوکا دورہ کیا جس کے دوران صدر پوٹن سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔
گزشتہ سال نومبر میں روسی وزیر دفاع سرجی شوویگو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ایک دفاعی معاہدہ بھی ہوا۔ پاکستان روس سے ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز خریدنے کا خواہش مند ہے جس پر روس کے جانب سے رضا مندی کا اظہار کر دیا گیا ہے۔ روس کی طرف پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینئر سفارتکار نے بجا طور پر کہا تھا کہ امریکہ بھارت قربت کے بعد ہم سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنا نہیں چاہتے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم نے روس کے خلاف افغانستان میں جنگ لڑی جس کے نتیجے میں ہمیں دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات جیسی لعنتیں ملیں لہٰذا اب وقت ہے کہ اس تاریخی غلطی کا ازالہ کیا جائے اور روس سے دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
عالمی منظر نامہ اور ہمارے خطے کی صورت حال میں ایک اور تبدیلی واقع اس وقت ہوئی جب عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان نیو کلیئر معاہدہ ہوگیا جس پر دنیا بھر نے نہ صرف سکھ کا سانس لیا بلکہ اس پر بہت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس دہائی کی سب سے بڑی فتح قرار دیا گیا۔
صرف ایک ملک اسرائیل کے وزیراعظم ناتن یاہو نے اسے بہت بڑی عالمی غلطی قرار دیا جبکہ بھارت نے اس پر خاموشی اختیار کی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ نیو دہلی میں برسراقتدار بی جے پی اور اس کے انتہا پسند وزیراعظم مودی بھی اندر سے خوش نہیں۔ یہ سب تبدیلیاں ہر لحاظ سے ابھی تک پاکستان کے لئے مثبت پیش رفت ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سفارتکاری کے ذریعے اس سے کچھ حاصل کر سکیں، نواز شریف مصروف آدمی ہیں انہیں غیر ملکی دورے کرنے ہیں۔
لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ جلد ایک وزیرخارجہ مقرر کریں جو وزارت خارجہ کو فعال بنانے کی اہلیت رکھتا ہو اگر ہم نے یہ موقع ایک بار پھر ضائع کردیا تو آئندہ نسلیں اس کی سزا بھگتیں گی، ہماری قیادت کو اب امریکہ کی مسلسل بے وفاقی اور بے حسی سے سبق سیکھنا ہوگا، اب وہ دور بیت گیا کہ امریکہ ہم سے F-16 طیاروں کی رقم لے کر جہازوں کی فراہمی منسوخ کردے اور رقم کی واپسی نقد کی صورت کی بجائے اصرار کرے کہ اس کے بدلے گندم خرید لو۔
وہ زمانہ بھی گیا جب پاکستان نے مشرقی حصہ چھٹے بحری بیڑے کے انتظار میں کھودیا۔ دوستی کے بدلے اقتصادی پابندیاں نافذ کرنے کا عہد بھی اب قصہ ماضی ہے۔ وہ دن بھی ہوا ہوئے کہ ہمیں افغان جنگ میں جھونک کر اپنے مقاصد حاصل کر کے ہمیں اس کی سزا بھگتنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا گیا اب ہماری آنکھیں کھل چکی ہیں اب ہم نے وہ عینک اتار دی جس میں سے ہمیں امریکہ کے سوا دنیا میں کوئی دوست نظر نہیں آتاتھا۔ اب ہم اپنے فیصلے کرنے کے قابل ہوتے جا رہے ہیں بس دعا یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ایک اور تاریخی غلطی کرنے سے گریز کرے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-17

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان