بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کا پُر امن ایٹمی سفر
عالمی طاقتیں ایٹمی بجلی گھروں کو بھی متنازعہ بنانا چاہتی ہیں پاکستان عالمی برادری پر ثابت کر چکا ہے کہ ہم نے ایٹم بم خطے میں طاقت کا تواز برقرر رکھنے کیلئے بنایا اور یہ پُر امن منصوبہ ہے
مصنف : سید بدر سعید
جس طرح پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک حقیقت ہے اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور بھارت سمیت دیگر سا مراجی قوتوں گھناؤنے عزائم کی راہ میں بھی یہی پروگرام سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر ثابت کر چکا ہے کہ ہم نے ایٹم بم خطے میں طاقت کا تواز برقرر رکھنے کیلئے بنایا اور یہ پُر امن منصوبہ ہے۔ اس کے باوجود پُر امن پاکستانی ایٹمی منصوبہ جات کے خلاف مسلسل منفی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں ایٹمی بجلی گھر کا م کررہے ہیں لیکن عالمی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی بجلی گھر کے منصوبوں کے خلاف بھی پراپیگنڈا کررہی ہیں۔
پہلی مسلم ایٹمی طاقت بننے کیلئے پاکستان کو دنیا بھر کا دباؤ برداشت کرنا پرا تھا ۔ عالمی طاقتوں نے اس منصوبے کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس سلسلے میں دھمکیوں اور مراعات سمیت ہر ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔
عالمی برادری کی جانب سے شک و شبہات کا اظہار بھی کیا گیا لیکن اسکے باوجود پاکستان ایٹمی ملک بننے کا اپنا سفر دھیرے دھیرے طے کرتا رہا ۔ آج اللہ کے کرم سے پاکستان ایٹمی ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تو عالمی طاقتوں کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتیاروں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ خطے میں طاقت کا توازن قائم رکھنے اور امن و امان کی صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کیلئے بھارت کے جواب میں پاکستان کیلئے ایٹم بم بنا نا ناگزیر ہوچکاتھا۔
عالمی طاقتیں ایک عرصہ تک یہ پراپیگنڈا بھی کرتی رہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے لیکن حال ہی میں سامنے آنیوالی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کا ایٹمی پروگرام چین اور پاکستان کی نسبت زیادہ غیر محفوظ ہے۔
پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے استعمال کرنے کا سوچ رہا ہے۔ دنیا کے ایٹمی ممالک اس حوالے سے پہلے ہی کام کررہے ہیں اور حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ ایران کے ایٹمی منصوبے پر پابندی لگانے کے باوجود اسے اتنا یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی جس سے توانائی کا حصول ممکن ہوسکے۔
پاکستان نے ایٹم بم کسی ملک کو تباہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنادفاع کرنے اور دیگر ممالک کو پاکستان پر حملہ کرنے سے روکنے کیلئے بنایا ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے سامراجی عزائم کی راہ میں ہمارا ایٹمی پروگرام سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ایٹم پروگرام کی مخالفت میں یہ طاقتیں اس حد تک جاچکی ہیں کہ اب توانائی کے حصول کیلئے ایٹمی صلاحیت کا استعمال بھی ان کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے چشمہ ری ایکٹر کو اینٹی پاکستان نیو کلئیر پروگرام گروپ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس کے تمام دلائل غلط ظابت ہوئے۔ اب پاکستان کراچی سے باہر ساحلی علاقے میں ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے تو اسے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اس پر ماحولیاتی مسائل سے لے کر آبی جانوروں کے تحفظ اور سمندری زلزلے تک کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر کے اس پروگرام کومتنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے تمام ایٹمی پلانٹس اور پراجیکٹ ائی اے ای اے کی سیکیورٹی اصولوں اور معیار کے عین مطابق ہیں اور اس کی مشاورت اور نگرانی کے تحت بنائے گئے ہیں۔ اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو آئی اے ای اے کے مطابق کم از کم 30ممالک یا تو ایٹمی بھلی گھر تعمیر کررہے ہیں یا پھر اس کی منصوبہ بندی کررہے ہیں یاد رہے کہ یہ 30 ممالک ان کے علاوہ ہیں جو پہلے ہی ایٹم بجلی گھر بنا چکے ہیں۔
اس طرح صرف چین میں ہی 29جوہری پاور پلانٹس زیر تعمیر ہیں۔ جرمنی بھی اس دوڑ میں شامل ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر دنیا بھر کے ممالک ایٹمی بجلی گھر تعمیر کر کے اپنے اپنے ممالک میں توانائی کی صورتحال بہتر بنانے میں مصروف ہیں تو پھر پاکستان کے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹیں کیوں ڈالی جارہی ہیں؟
یہ واضح ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو عالمی طاقتیں نہ صرف ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہیں بلکہ اسے اپنے لیے خطرہ بھی تصور کرتی ہیں۔
اسلامی دنیا پر قبضے اور حکومت کے خواب کی راہ میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف یہ کہ ان طاقتوں کو ہر فورم پر تسلی بخش جواب دے بلکہ ایٹمی بجلی گھر کے منصوبوں کو بھی جلد از جلد مکمل کرے تاکہ اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کا خاتمہ ہو اور قوم کو توانائی کے بحران سے نجات مل سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-01

(6) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان