بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان …آگ و خون کی ایک نئی لہر سے نبرد آزماء
ایک طرف دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت طالبان کیساتھ امن مذاکرات کی کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری طرف امن کو موقع فراہم کرنے سے روکنے کے لئے خفیہ ہاتھ بھی پوری طرف سرگرم ہے
مصنف : رحمت اللہ شباب

رحمت اللہ شباب:
وطن عزیز پاکستان میں آگ و خون کی ایک نئی لہر سے نبرد آزماء ہے ، خیبر سے کراچی تک اور بلوچستان سے پنجاب کے مختلف شہروں تک ، بم دھماکے ،خود کش حملے ، ٹارگٹ کلنگ ، اور موت کا پراسرار کھیل عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ ایک طرف دہشت گردی کی جنگ کے خاتمے کے لئے حکومت طالبان کیساتھ امن مذاکرات کی کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری طرف امن کو موقع فراہم کرنے سے روکنے کے لئے خفیہ ہاتھ بھی پوری طرف سرگرم ہے ، ایک طرف پاک فوج کے جوانوں کیساتھ دیگر سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور چند ہی دنوں کے اندر 50سے زایٴد گھرانوں کے جوانوں کے جنازے اٹھ دیے گیے ہیں اور دوسری طرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت وقت اس صورت حال میں مکمل طور پر بے بسی کی تصویر بنی کسی معجزے کے انتظار میں ہے، مرکز اور صوبوں میں نئی جمہوری حکومتوں کا سیٹ اپ تشکیل پانے کے بعد آل پارٹی کانفرنس کے ذریعے تمام جماعتوں نے تحریک طالبان پاکستان کیساتھ امن مذاکرات کے کیلئے حکومت کے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا تو اسے موجودہ دور کی ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا گیا اور اس امر کا بھی امکان پیدا ہو گیا کہ شائد اس مرتبہ ملک میں امن و امان کے لئے کی جانیوالی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہیں لیکن عین اس وقت جب طالبان سے مذاکرات کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں اور حکومتی مذاکرات کار اس مشن پر روانہ ہونے کے لئے تیار بیٹھے تھے اور اس میں چند گھنٹے باقی تھے امریکی ڈرون طیاروں نے میزائل کا حملہ کر کے طالبان کے اس کمانڈر کو نشانہ بنا ڈالا جس کی کوشش سے معاملات اس مرحلے تک پہنچے تھے کہ طالبان او رحکومتی مذاکرات آمنے سامنے بیٹھ کر امن کی بات کریں اگرچہ اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات یقینی طور پر کامیاب ہی ہوں گے لیکن یہ سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس لئے سبو تاژ کر دیا گیا کہ کہیں یہ مذاکرات کامیاب ہی نہ ہوجائیں ۔

دراصل یہ بات سمجھنے کی ہے کہ امریکہ اور اس اتحادی ممالک جن میں پاکستان کے دشمن بھارت اور اسرائیل پیش پیش ہیں کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن قائم ہو بلکہ یہ ممالک تو ایک خاص منصوبے کے تحت پاکستان کو داخلی انتشار میں مبتلا کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں ملک دشمن غیر ملکی خفیہ اداروں کانیٹ ورک اتنے منظم انداز میں پاکستان کو خانہ جنگی کا شکار کرنے کے لئے اپنی کارروائیاں کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ملکی ریاست کے ستونوں کو آپس میں لڑانے کے لئے بھی بڑے منظم انداز میں منصوبہ بندی کی جارہی ہے خاص طور پریہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سیاسی حکومت اور فوی ایسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ بھی باتیں کی جاتی ہیں کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کے معاملے پر حکومت اور فوج کے خیالات ایک جیسے نہیں یہ افواہیں جس تیزی سے پھلائی جا رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے متعدد بار وضاحتی بیان جاری کئے جاچکے ہیں یہاں تک کہ خود پاک فوج کے سربراہ کی طرف سے بھی دو ٹوک انداز میں یہ بیان دیا گیا ہے کہ پاک فوج طالبان کیساتھ امنکیلئے کی جانے والی سول حکومت کی کوششوں کی نہ صرف بھرپور حمایت کرتی ہے بلکہ امن کا ایک موقع دینے کے لئے ہرممکن کوشش کرے گی لیکن اس دوران بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی تازہ لہر نے سارے معاملات کو الجھا دیا ہے ۔
ایک طرف طالبان کی طرف سے کراچی سمیت خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنیکی وجہ امن مذاکرات کرنے کی حکومتی کوششوں پر پانی پھر گیا اور دوسری طرف بعض سیاسی جماعتوں کے متنازع بیانا ت نے جلتی پرتیل کا کام کیا ہے ۔تاہم حکومت کی طرف سے بار بار کہا جارہاہے کہوہ اب بھی مذاکرات کی خواہش مند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ امن کے لئے مذاکرات کس گروپ سے اور کس بنیاد پر کے جائیں ۔
یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایس ایس پی سی آئی ڈی کراچی چوہدری محمد اسلم پر ہونیوالا حملہ جو ابھی تک نہایت پراسرار قرار دیا جارہا ہے اور اس کی تفتیش سے پہلے ہی کراچی پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دی گئی جو اس معاملے کو مذید پراسرار بنا رہا ہے ، اسی دوران پشاورمیں تبلیغی مرکز میں ہونیوالا بم دھماکہ جس کی طالبان نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے ، راجن پور میں خوشحال ایکسپریس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ، کراچی میں ہی جے یو آئی س کے اہم ترین رہنماء سمیت تین افرادکو ٹارگٹ کر کے مار دیا گیا ۔
اسی روز نجی چینلز کی وین کو بھی نشانہ بنایا گیا ، جب کہ پشاور سمیت قبائلی علاقوں میں بھی شدت پسندی کی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے اور اب بنوں میں بھی موت کا کھیل عروج پر پہنچ گیاہے ۔ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو تا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کا نیا موڑ پورے ملک اور ریاست کو کس طرف لے جائے گا ۔خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب حکومت کی طرف سے آج دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے نئی سکیورٹی پالیسی کابینہ کے اجلاس میں پیش ہونے کے بعد منظوری دئیے جانے کا بھی قوی امکان ہے اور اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جنگ یا امن مذاکرات کا بھی فیصلہ متوقع ہے ۔
اور یہ افواہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہیں کہ حکومت کی طرف سے طالبان کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا جو آخری آپشن تھا وہ پہلے آپشن کے طورپر استعمال کرنے کا فیصلہ صادر ہونے کا امکان ہے خاص طور پر بنوں میں ہونے والے المناک واقعہ کے بعد حکومت پر یہ دباؤ بڑھ گیاہے کہ اب وہ طالبان کیساتھ مذاکرات کی بجائے طاقت کے استعما ل کا حتمی فیصلہ کرے جس کے لئے دیگر سیاسی جماعتیں بھی جن میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی شامل ہے اور بعض مذہبی جماعتوں بھی یہی رائے ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آج وفاقی حکومت اس بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ بنوں حملے کی ذمہ داری طالبان کی طرف سے قبول کر نے کیساتھ حکومت کو بامقصد مذاکرات کی بھی دعوت دی دی گئی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر حکومت آج کسی حتمی فیصلہ کا اعلان کرنے کی بجائے شش و پنج کا شکار ہو سکتی ہے ۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ حکومت کی طرف سے فیصلہ کوئی بھی کیا جائے آنے والے دنوں میں ملک کی صورت حال امن و امان کے حوالے سے بگڑتی ہوئی نظر آرہی ہے جس کا نتیجہ حکومت کے حق میں کسی طور بہتر نہیں ہو گا ۔ لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب ایک طرف ملک میں پہلے ہی کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں حکومت وقت نے سابق صدر جنرل ریٹائیرڈپرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا کیس کھول کر اپنے لئے ایک نیا پنڈورا باکس کھول لیا ہے اور حکومت کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ کر غیر متعلقہ امورکی طرف لگ گئی ہے جس کا خمیازہ بہر حال حکومت کو بھگتنا ہی پڑے گا ۔
ہم یہاں ایک بار پھر اس امر کااظہار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے کہ اس وقت سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے سے پورے ملک کے عوام کو کوئی بھی دلچسپی نہیں ۔ انہیں ان کے اپنے اصل مسائل کے حل سے مطلب ہے ۔ جس ملک میں عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہی ہے ۔پورا ملک توانائی کے بحران کی وجہ سے سردیوں کے موسم میں اندھیروں میں ڈوبا ہو اہے ۔
گیس کی لوڈ شیڈنگ سی این جی عدم فراہمی سے نظام زندگی درہم برہم ہے، کاروبار ، بند ، روزگار ناپید ، بدمعاشی او رسینہ زور ی عروج پر ہو ۔ جہاں گھرگھر صف ماتم بچھی ہو ، لوگ ذلیل و خوار ہو رہے ہوں وہاں انہیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں کہ آج سے دس سال پہلے اس ملک میں طاقت کے زور پر حکمران بننے والے آمرنے اس ملک و قوم کیساتھ کیاسلوک کیا ۔ عوام کو اگر غرض ہے تو موجودہ حکومت سے کہ وہ ان کے لئے کیاکر رہی ہے ۔
اور اگر عوام موجود ہ حکومت سے ہی مطمین نہیں تو وہ ایک سابق حکمران تختہ مشق بناکر جمہوریت کو مضبوط بنانے کی خواہش مند حکومت کے لئے کوئی مہم جوئی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے یہ با ت ہمارے حکمرانوں کوکب اور کیسے سمجھ آئے اگر حقایٴق کی نظر سے دیکھا جاے تو اس مسایٴل کا حل نہ حکمرانوں کے پاس اور حزب احتلاف کے پاس ، پپلزپارٹی اور اے این پی کل حکمران کے تھے لیکن وہ اپنے دور اقتد میں مذاکرات کا اختیار کرسکے اور نہ طاقت کے استمعال کا تجزبہ کیا جاسکے ابھی وہی صورتحال ہے اور عوام اسی صورتحال سے بے زر ہوچکے ہیں عوام نے اگر ووٹ دیا تھا تو صرف تبدیلی کے لیے دیا تھا اور تبدیلی کے نعرہ لگانے والے اج ملک اور صوبوں کے حکمران ہیں اور اگر اج بھی قوم کو اسی دلدل نہ نکلا گیا تو انے والے دن قوم کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کے لیے بھی ایک امتخان ہوگا۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-20

(4) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     رحمت اللہ شباب

رحمت اللہ شباب پشاور میں اُردو پوائنٹ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔

رحمت اللہ شباب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان