بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آپریشن ضرب عضب‘ دوست ملک کا شکوہ بھی دور!
آپریشن ضرب عضب میں ازبکوں کے ساتھ ساتھ مشرقی اسلامک موومنٹ کو بھی بے دخل کردیا گیا۔۔۔۔۔ طالبان کی طرف سے مذاکرات اور لڑائی ساتھ ساتھ رکھنے کی بات کی گئی جو امن مذاکرات کے ساتھ مذاق تھا
محمد رضوان خان:
شمالی وزیرستان میں امریکہ ایک عرصے سے آپریشن کا تقاضا کررہا تھا اس کا الزام تھا کہ حقانی نیٹ ورک کی جڑیں اسی علاقے میں موجود ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں امریکیوں کو کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ امریکہ نے اپنے اس دیرینہ مطالباے کی تکمیل کیلئے کافی پاپڑ بیلے لیکن شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں افواج پاکستان کا موقف بڑا واضح تھا کہ وہ اس آپریشن کیلئے تیار ہیں لیکن اس کیلئے وقت کا چناؤ وہ اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے۔
اس بارے میں اگر ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو پاکستان نے کبھی بھی اس آپریشن سے انکار نہیں کیا لیکن اسے وہاں آپریشن کیلئے کوئی جواز بھی تو درکار تھا۔ پاکستان نے اس علاقے میں مجاہدین کے ساتھ امن معاہدہ بھی کررکھا تھا جس پر من و عن عمل بھی ہو رہا تھا اور حافظ گل بہادر اینڈ کمپنی جو اس معاہدے پرپوری طرح کاربند تھی تو کوئی جواز نہیں بنتا تھا کہ وہاں صرف امریکہ کو خوش کرنے کیلئے خون کی ندیاں بہادی جائیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے تو یہ راز بھی فاش کردیا کہ ماضی میں کئی بار شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فوج نے سوچا لیکن سابق چیف جنرل (ر) کیانی نے اس ضمن میں پس و پیش سے کام لیا ۔ کیانی اس پس و پیش کا معاملہ بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران کے ذریعے قوم کے سامنے آچکا ہے۔ کہنے کامقصد یہ ہے کہ فوج نے کبھی بھی امریکہ کے مطالبے کی یکسر نفی نہیں کی تھی تاہم جنرل کیانی کا یہ موقف بالکل درست تھا کہ اس آپریشن کیلئے مناسب وقت درکار تھا اور جس وقت امرکہ پاکستان پر آپریشن کیلئے زور دیے جارہا تھا تو ملک میں یہ بحث چل رہی تھی کہ یہ جنگ ہماری ہے بھی کہ نہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں جب سیاسی طور پر اس جنگ کو اپنا ماننے کے بارے میں بحث چلی رہی تھی کہ یہ ملک کی جنگ ہے کہ نہیں تو آپریشن کو عوامی قبولیت نہ ملتی اور شمالی وزیرستان امن معاہدے کی پاسداری کے ساتھ ساتھ یہی وہ دوسرا بنیادی نقطہ تھا کہ جنرل کیانی نے اس اقدام سے احتراز کیا۔
حکومت پاکستان ان مشکلات کے باوجود بیرونی دباؤ پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کو کلی طور پر نظر انداز تو نہیں کررہی تھی لیکن شائد زیادہ محتاط رویے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوتی گئی حتیٰ کہ ملک میں پہلے سیاسی اور عسکری قیادت میں تبدیلی واقع ہوئی جس کے بعد قومی مفادات کی فہرست کو ازسر نو کنگھالا گیا تو اس آپریش سے قبل ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت دونوں نے مل کر امن کو قائم کرنے کیلئے مذاکرات کو ایک موقع دیا جس کی ملک بھر کیس سیاسی قیادت نے حمایت کی۔
29ستمبر 2013ء کو آل پارٹیز کانفرنس نے مذاکرات کے حق میں مینڈیٹ دیا جس کے بعد مذاکراتی ادوار ہوئے توہم اسکے دوران طالبان نے اس قسم کی غلطیاں کیں کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی راہ ہموار ہوگئی۔
شمالی وزیرستان میں 2014ء میں آپریشن کا ہونا تو ایک ایسے مقام پر طے ہو گیا تھا کہ جب مذاکرات کے دوران طالبان کی طرف سے مذاکرات اور لڑائی ساتھ ساتھ رکھنے کی بات کی گئی ظاہر ہے کہ یہ ایسا عمل تھا کہ جو امن مذاکرات کے ساتھ مذاق کے مترادف تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ کی نظر سے دیکھا جائے تو اتنی دیر کے بعد ہی سہی شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع تو ہوا پھر اسے خوشی کیوں نہ ہوئی؟ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کیا صرف امریکہ ہی ایسا چاہتا تھا یا پھر کوئی اور دوست بھی پاکستان کے کان میں سرگوشی کررہا تھا کہ وہ ابھی اس علاقے سے متاثر ہورہا ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ سرحد پار افغانستان میں صدارتی انتخابات بھی ایک ایسے منظر نامے میں ہورہے تھے کہ جب مشرقی سمت ہندوستان میں ایک ایسی سرکار آگئی تھی جس نے وزیراعظم پاکستان سے مزید بات چیت کرنے کے بجائے انہیں الٹا ممبئی حملوں کی چارج سیٹ تھمادی تھی۔
اس تناظر میں اگر مغربی سمت عبداللہ عبداللہ کی سرکار آجاتی تو پاکستان تو دونوں اطراف سے مشکل میں گھر جاتا۔ ان محرکات کی وجہ سے پاکستانی حکومت نے شمالی وزیرستان آپریشن قدرے سرعت کا مظاہرہ کیا کیونکہ ایک تو طالبان کی اندرونی چپقلش نے آپریشن کا موقع دے دیا تو دوسری طرف کراچی ایئرپورٹ کے تانے بانے جاکر یہاں مل رہے تھے جس نے دنیا بھر میں پاکستان کی کافی سبکی کروائی۔
اس آپریشن کی جلدی ابتداء اس بناء پر بھی ہوئی کہ افغان صدارتی انتخابات کیلئے سرحد کے دونوں اطراف حفاظتی اقدامات کی غرض سے نقل و حمل کی جارہی تھی جس کا علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کو بھی علم تھا کہ حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس موقع کو غنیمت جانا گیا اور ساتھ ہی آپریشن ضرب عضب کا آغاز کر دیا یا جس کے پہلے مرحلے میں فضائی کارروائی شروع کی گئی۔
اس مرحلے کے بعد آپریشن ضرب عضب جب دوسرے مرحلے میں داخل ہوا تو وہاں دہشت گردوں کے جو نیٹ ورکس کی باقیات ملیں اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پاکستان کے کان میں جو دوست ملک سرگوشی کررہا تھا وہ بیجانہ تھی۔ اس دوست ملک کے ایک صوبے میں مبینہ طور پر مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ بروئے کار تھی۔ ذرائع کے مطابق اس تنظیم کی وجہ سے پاکستان کے دوست کو اپنے ایک صوبے میں مشکلات پیش آرہی تھیں جس کی وجہ سے دونوں میں کچھ دوری بھی پیدا ہوئی تاہم اس دوست کے کہنے پر پاکستان کو شمالی وزیرستان میں ایکشن لینا پڑا جس کے دوران بعض امور پر شائد یوٹرن بھی دیکھنے میں آئے ہوں لیکن ایسا کرنا ناگزیر تھا۔

آپریشن ضرب عضب میں جیسے بلا امتیاز دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جارہا ہے اور ان کی تنظیم کو ہی ختم کیا جارہا ہے وہیں مشرقی ترکستان اسلاک موومنٹ کو بھی مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔ اس آپریشن میں ازبک جنگجوؤں کو بھی چن چن کر ٹرگٹ بنایا گیا اور شنید ہے کہ اس دوران کراچی ایرپورٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی مارا جاچکا ہے۔ اس آپریشن میں امریکیوں کی سوئی ابھی بھی حقانی نیٹ ورک پر ہی اٹکی ہوئی ہے اور ان کی طرف سے باربار یہ کہا جارہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں ایک بار پھر حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
امریکہ اس الزام کے برعکس میران شاہ میں جب پہلی بار آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد میڈیا ٹیمیں وہاں گئیں تو اس آپریشن کے نگران افسر ظفر علی نے اس سول کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس انداز سے آپریشن ضرب عضب میں فضائی کا رروائی کی گئی ہے اس کے بعد شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی ہی خارج از امکان ہے۔ اس وضاحت کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کے کہنے پر یقین کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ الٹا تمام تر کارروائی کو شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔
اس شک کی ایک وجہ سمجھ میں یہ ضرور آرہی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کیلئے پاکستان نے امریکہ سمیت کسی ملک سے رقوم نہیں مانگی جس کے باعث یہ خیال کیا جارہا ہوگا کہ یہ کارروائی کوئی نمائشی کارروائی ہے جو سرا سر غلط ہے کیونکہ پاکستان کو امریکہ نے ابھی تک ان آپریشن کے بھی واجبات ادا نہیں کئے جن کی ادائیگی کی اس نے باقاعدہ یقین دہانی کرائی تھی اور اس یقین دہانی کی بنیاد پر ہی پاکستان اپنا خرچہ کرچکا ہے۔
امریکہ کی دادا گیری کا عالم یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر حسب منشاء نتائج نہ حاصل ہونے پر رقم فراہم نہیں کررہا تاہم اس بار جس ملک نے آپریشن کا کہا تھا اس نے ساتھ ہی وسائل بھی مہیا کئے۔ یہ وسائل اس قدر ہیں کہ ان کی وجہ سے آپریشن ضرب عض ب کے متاثرین اپنے گھروں سے زیادہ وسائل حاصل کرررہے ہیں۔ وسائل کی اس بہتات کا عالم یہ ہے کہ نہ صرف انسانوں کیلئے ہر چیز کافی ہے بلکہ متاثرین اپنے ساتھ جو مویشی لے کر آئے ہیں انہیں بھی وافر مقدار میں چارہ وغیرہ میسر ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فوجی جوان ان متاثرین کی جس قدر خدمت کررہے ہیں اس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ایسی خدمت کی نظیر ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔
آپریشن ضرب عضب کے متاثرین اور مقامی لوگ اس امر پر ایک رائے رکھتے ہیں کہ فوجی جوانوں نے متاثرین کی اس قدر خدمت کی ہے کہ انہیں ان کے گھر کی یاد ہی بھلا دی ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں ملک بھر سے ایک بار پھر متاثرین کیلئے ہم وطنوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا جس میں سب سے زیادہ جوش اہل پنجاب نے دکھایا جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا جس کی سرزمین پر متاثرین خود موجود تھے وہاں کے لوگوں نے سب سے کم جوش و خروش دکھایا جو حیران کن بھی ہے۔
بہر حال اب یہ سلسلہ بھی تاریخ کا حصہ بننے کو ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ ان متاثرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہوجائے لیکن ابھی تک اس ضمن میں عسکری حلقوں کی طرف سے کوئی تاریخ نہیں دی جارہی۔ البتہ آرمی چیف کے حوالے سے یہ خبر منظر عام پر آئی ہے کہ کلیئر ہونے والے علاقوں میں متاثرین کی واپسی زیر غور ہے او ردوسری اہم بات یہ ہے کہ فوج شمالی وزیرستان میں زیادہ دیر نہیں رکے گی۔
یہ دونوں باتیں بڑی اہم ہیں خاص کر ایک ایسے موقع پر کہ جب متاثرین پر یہ آفت آن پڑی ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ جن جن سکولوں میں رہائش پزیر ہیں انہیں 10اگست تک کالی کر کے کہیں اور منتقل ہوجائیں کیونکہ جنوبی اضلاع کے سکول گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد یکم ستمبر سے کھل رہے ہیں۔ بنوں، کرک، لکی مروت، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریبا ایک ہزار سکولوں میں انیس ہزار سے زیادہ خاندان مقیم ہیں۔
سکولوں میں رہائش پزیر متاثرہ افراد کی تعداد د سے تین لاکھ بتائی جاتی ہے۔ بنوں میں مقامی انتظامیہ نے متاثرین سے کہا ہے کہ وہ کیمپ میں منتقل ہوجائیں یا کرائے کے مکان حاصل کرلیں۔ اس ہدایت پر متاثرین نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں کچھ کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں متبادل رہائش فراہم نہیں کی جاتی تب تک وہ سکول خالی نہیں کریں گے۔
بعض متاثرین نے تو حکومت کو دھمکی دی ہے کہ متاثرین کیلئے قائم کیمپ ہرگز نہیں جائیں گے جبکہ بنوں شہر میں کرائے کے مکان ناپید ہیں اس لئے وہ کیمپوں میں جانے کی نسبت سڑکوں پر کیمپ لگا کر رہنے کو ترجیح دیں گے۔ واضح ہو کہ بنوں شہر میں دو کمرے کا مکان پندرہ سے بیس ہزار روپے کرائے پر ملتا ہے جو متاثرین کے مطابق اان کی دسترس میں نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاثر درست نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کو سب کچھ اس قدر وافر مقدار میں مل رہا ہے کہ وہ اپنے لئے کرائے کا گھر بھی لے سکتے ہیں لیکن وہ خود اس کیلئے تیار نہیں جس کے پیچے ان کی ”کفائت شعاری“ کار فرما ہے۔
سردست تو 10اگست کی تاریخ گزر گئی ہے تاہم اب اس ضمن میں بتدریج دباؤ بڑھایا جائے گا تاکہ 31اگست تک سکولوں کو خالی کرایا جاسکے۔
آپریشن ضرب عضب کے ان متاثرین کے ساتھ آنے والے طلباء اور طالبات کی تعلیم کو جاری رکھنا بھی ایک گھمبیر مسئلہ ہے جس کے لئے صوبائی حکومت نے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد متاثرین جہاں جہاں مقیم ہیں وہاں کے قریبی سکولوں اور کالجوں میں ان بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے صوبے کے جنوبی اضلاع میں پندرہ سو سے زیادہ سکولوں میں اس وقت شمالی وزیرستان کے متاثرہ افراد رہائش پزیر ہیں جس میں نقل مکانی کرنے والے لاکھوں بچوں اور بچیوں کو ان تعلیمی اداروں میں تعلیم فراہم کی جائے گی جس کیلئے کوششیں بھی شروع کردی گئی ہیں۔
اس مقصد کیلئے متاثرہ طلبا اور طالبات کے علاوہ ویزستان سے نقل مکانی کرنے والے اساتذہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی مدد کریں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کس علاقے میں کتنے بچے اور کتنے اساتذہ موجود ہیں۔ اس ضمن میں صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ جن سکولوں میں جگہ ہوگی متاثرہ بچوں کو ان سکولوں میں خیموں سے کلاس رومز بنائے جائیں گے اور اگر زیادہ ضرورت محسوس ہوئی تو علیحدہ عمارتیں کرائے پر بھی حاصل کی جائیں گی۔
واضح ہوکہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں تقریباََ ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ بچے اور پونے تین لاکھ سے زیادہ خواتین گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ سکول بنوں میں متاثرہ افرادکے زیر استعمال ہیں جبکہ دیگر شہروں جیسے لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک میں بھی بڑی تعداد میں متاثرہ افراد سکولوں میں رہائش پزیر ہیں۔ تاہم بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے صوبائی حکومت متاثرین طلبا اور طالبات کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے کے علاوہ دیگر تنظیموں کی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اس مقصد کیلئے دوست کا تعاون بھی حاصل ہوگا جو بہت اہم ہے۔ آپریشن ضرب عضب کئی اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل ہے جس کے نتائج آگے چل کر مزید آشکار ہوجائیں گے۔ اس آپریشن سے نہ صرف شمالی وزیرستان میں فوج کو ٹوچی کی مرکزی شاہراہ کے اطراف میں رکاوٹیں ختم کرنے کا موقع مل گیا ہے جو بڑا کٹھن مسئلہ تھا۔ ذرائع کے مطابق اس کامیابی کے بعد علاقے میں فوج کی نقل و حمل کافی آسان ہوجائے گی۔ آپریشن ضرب عضب کے بیرونی دنیا کے فوائد پاکستان کیلئے زیادہ ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے دیرینہ دوست کو اپنے مزید قریب کر لیا ہے اور غلط فہمیاں جو پنپ رہی تھی وہ ختم ہوگئی ہیں جو خوش آئند ہیں اور خاص کر مستقبل میں اس کے اچھے اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان