بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آپریشن ضرب عضب‘افغان اور امریکی رخنہ انداری
شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز ہوتے ہی شدت پسندوں نے افغانستان کا رخ کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔جن علاقوں کو کلیئرکیا گیا ہے وہاں اب بھی سب سے خطرناک مسئلہ دیسی ساخت کے دستی بم ہیں
محمد رضوان خان:
15جون کو نصف شب کے وقت شروع ہونے والا اپریشن ضرب عضب توقعات کے عین مطابق کامیابی کے جھنڈے گاڑتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اس اپریشن کے دوران پہلے میران شاہ کو کلئیر کیا گیا جس کے بعد اب توبویا اور دیگان کو بھی ابتدائی طو ر پر محفوظ قرار دیدیا ہے۔ان تحصیلوں میں بلا شبہ سب سے زیادہ جہا ں حالات کشیدہ تھے وہ میران شاہ کا علاقہ تھا اسی لیے وہا ں زیادہ احتیاط برتی گئی اور یہ میران شاہ ہی تھا جہاں کسی حد تک مزاحمت بھی دیکھنے کو ملی بہرحال شمالی وزیرستان کی ان تینوں تحصیلوں میں گھر گھر تلاشی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کم ازکم ان علاقوں میں اب دہشت گرد چھپے ہوئے نہیں فوج جو ں جوں پیش قدمی کر رہی ہے توں توں کامیابی کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
عسکری حکام کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے دوران سیکورٹی فورسز نے میران شاہ کے بعد عسکریت پسندوں کے اہم مراکزبویا اور دیگان سے بھی ان کا قبضہ ختم کر دیا ہے۔شمالی وزیرستان کے ان دو گاؤں میں مقامی کے علاوہ غیر ملکی شدت پسند بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اس مرحلے میں ماشکی‘ہرمز اور میر علی بازا ر میں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ بھی مکمل کیا گیا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی اور گردونواح میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کی جانب سے راکٹ اور مارٹر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر ہتھیاروں سے حملے کیے گئے تاہم ان حملوں کے باوجود فوج کی پیش قدمی جاری رہی۔جن علاقوں کو کلیئرکیا گیا ہے وہاں اب بھی سب سے خطرناک مسئلہ دیسی ساخت کے دستی بم ہیں جن کی کئی فیکٹریاں آپریشن ضرب عضب کے دوران ملیں۔ ان فیکٹریوں کے بم جا بجا نصب ہیں جو ا س وقت انسانی جان کے لیے بہت خطرناک ہیں۔
آپریشن ضرب عضب کے دوران صرف بویا میں ایک درجن دیسی ساخت کے بموں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ بم بنانے کی ایک فیکٹری دریافت کی گئی اور بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود اور غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی۔ یہ دیسی ساخت کے بم اس لحاظ سے بھی خطرناک ہیں کہ ضروری نہیں کہ انہیں زمین کے اندر دبایا جائے بلکہ ان بموں کو کہی بھی لٹکایا جاتا ہے جہاں یہ ہلکی سی حرکت کی وجہ سے بھی گر جاتے ہیں اور ان کی تباہی کی شدت اتنی ہوتی ہے جس قدر تباہی زمین میں دبی ایک بارودی سرنگ برپا کرتی ہے۔
اس ضمن میں شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان دیسی داختہ بمو ں کوگھروں کے دروازوں کے اوپر اس طرح لٹکا دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی بھی دروازہ کھولے تو ساتھ ہی یہ بم اوپر سے گر جاتے ہیں اور چشم زون میں ہلاکتوں کی داستان رقم کر جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ابتدائی کلئیرنس کے باوجود اب فوجی حکام ان دیسی ساختہ بموں کو تلف کرنے میں مصروف ہیں اور یہ عمل میران شاہ سمیت بویا اور دیگان میں بھی جاری ہے اس عمل کی تکمیل میں کتنا وقت لگے گا اس بارے میں فوج کی طرف سے کوئی ڈیڈ لائن نہی دی گئی اور نہ ہی اس بات کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے کیونکہ فوج جب تک اطمینان نہی کر لیتی کہ شمالی وزیرستان جنگجوؤں سے پاک ہو گیا ہے اس وقت تک وہ علاقے کو کلی طور پر کلئیر قرار نہی دے گی تاہم مشکل یہ ہے کہ مالاکنڈکے مقابلے میں اس آپریشن کی پیچیدگیاں اب بڑھتی جا رہی ہیں۔

ٓآپریشن ضرب عضب کی ان پیچیدگیوں میں سب سے اہم شمالی وزیرستان کا محل وقوع ہے جبکہ اس کا تقابل مالاکنڈآپریشن سے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں جس علاقے میں آپریشن جاری تھا اس کی سرحد کسی دوسرے ملک سے نہی لگتی تھی لیکن شمالی وزیرستان میں تو صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ یہاں افغان سرحد سے وہ علاقہ پیوستہ ہے جہاں آپریشن ضرب عضب جاری ان حالات میں یہ توقع رکھنا کہ سب کچھ ٹھیک ہو گا یا پھر نتائج سو فیصد حاصل ہوں گے کا اخذ کرنا قرین قیاس نہ ہوگا۔
اس کی بنیادی وجہ ہے کہ 15جون سے جب شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز ہوا اسی وقت سے ہی وہ علاقہ جو افغان بارڈر سے پیوستہ ہے کے راستہ شدت پسندوں نے افغانستان کا رخ کر لیا تھا۔اس خدشہ کے پیش نظر پاکستانی حکام نے پہلے ہی افغان فوج سے مدد طلب کر لی تھی لیکن افغانستان نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان سے جانیوالے ان شدت پسندوں کا خیر مقدم کیا بلکہ ہلمند وغیرہ میں ہونے والی کاروائیوں کو بنیاد بنا کر یہ کوشش کی گئی کہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر اس پر حملہ کیا جائے۔
یہ صورتحال انتہائی حیرت انگیز تھی کہ ایک طرف تو پاکستان فوجی آپریشن میں مصروف تھی اور دوسری طرف اس توجہ اس طرح ہٹانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ مغربی سرحد کے پار سے حملے کی تیاریاں کی جاریہ تھی۔اس سازش کا پردہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے چند روز پہلے کیا تھا۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے ان کو اس لیے افغانستان بھجوایا تھا کیونکہ انہیں اطلاعات ملی تھی کہ"ادھر سے کچھ ہونے والا تھا"اور اس صورتحال کو روکنے کے لیے ہی وزیراعظم نے انہیں خصوصی ایلچی بنا کر افغانستان روانہ کیا تھا۔
افغان حلقوں نے بھی اگر چہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ کشیدگی ضرور تھی لیکن وہ اس قدر نہیں بڑھی تھی کہ کوئی حملہ ہو جاتا البتہ ہلمند میں طالبان کی کاروائیوں کے بعدتخت کابل میں اس کی حرارت محسوس کی گئی۔ان حلقوں کے مطابق صدر حامد کرزئی نے اپنے قریبی حلقوں میں ایسی بات کی ہوگی تاہم کوئی اس قدر بڑا معاملہ نہ تھا کہ بات اس قدر آگے بڑھتی بہرحال محمود اچکزئی جو افغانستان میں بڑی قدرومنزلت کے مالک ہیں نے سیکڑٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کے ہمراہ کابل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی اور دیگر افغان حکام سے دو ملاقاتیں کیں ان میں سے ایک ملاقات میں چین اور امریکہ کے افغانستان کے سفیر بھی موجود تھے۔
محمود خان اچکزئی کی اس کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے مغربی سرحد کشیدگی سے بچ گئی تاہم ان کا یہ کہنا کہ"دونوں ممالک کو پوری دنیا کے سامنے یہ کہنا ہوگا کہ ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گا"بڑا معنی خیز ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ غلط فہمیاں بہرحال موجود تھیں جو بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس وقت رفع ہو گئی ہے یا پھر یوں کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم سردست بات دب گئی ہے اور کشیدگی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی اس بہتری کے باوجو د افغان دراندازی کی شکایات دونو ں جانب سے ہیں لیکن اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو اب پاکستان کو مطلوب افراد کی افغانستان میں آؤ بھگت کی بھی اچھی خاصی تاریخ رقم ہو چکی ہے۔ طالبان کے امیر ملا فضل اللہ تو مسلسل افغانستان میں موجود ہیں جبکہ اس سے قبل مالاکنڈ آپریشن کے بعد سے ہی پاکستان افغان حکومت سے باقائدہ آن ریکارڈ یہ مطالبات کرتا چلا آرہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی ہو رہی ہے کیونکہ جو لوگ حکومت پاکستان کو مطلوب ہیں وہ سرحد پار کر کے افغانستان جاتے ہیں تو انہیں وہاں پناہ دی جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان ایجنسیوں کی شہ پر یہ دہشت گرد وقتا فوقتا پاکستان میں چھاپہ مار کاروائی کر کہ واپس افغانستان بھاگ جاتے ہیں۔اس دراندازی کے بارے میں امریکیوں کو بخوبی معلوم ہے جو سٹیلائٹ سے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور اس حقیقت سے بھی باخبر ہیں لیکن اس کے باوجود امریکیوں کو بتانا پڑتا ہے کہ افغان آرمی کا کیا کردار ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کہ سبکدوش ہونے والے خصوصی ایلچی جیمز کو بھی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے افغانستان کی دراندازی کی شکایت کی ہے۔ان شکایات کا بظاہر نتیجہ خیز ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے بہر حال حال ہی میں افغان طالبان میں ہلمند میں جو کاروائی کی اس کے بارے میں افغان کے اندریہ تاثر زور پکڑ گیا ہے کہ کابل سمیت دیگر علاقوں میں طالبان کے حملوں میں اضافے کا بنادی کارن آپریشن ضرب عضب کے دوران افغانستان جانے والے شدت پسند ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے آغاز قبل افغان حکومت اور امریکہ کو کہا تھا کہ وہ اس آپریشن کی کامیابی کے لیے سرحد کی دوسری طرف افغانستان کی حدود میں تعاون کریں لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند خصوصا ان کی قیادت بڑی تعداد میں کاروائی کے آغاز سے قبل ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
ان کا فرار عین ممکن ہے کہ ان متاثرین کی روپ میں ہوا ہوگا متاثرین کا روپ دھار کر وہاں گئے ہوں گے۔ مقام حیرت یہ ہے کہ ان لوگوں کو افغانستان میں داخل تو ہونے دیا گیا لیکن ان کا کوئی ریکارڈ باضابطہ طور پر مرتب کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تاہم ہلمند میں ہونے والے واقعے کے بعد اب افغانستان میں ان شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند جو وہاں پہنچے ہیں کی خاصی تعداد وہاں پہنچی ہے اور حکومت مخالف کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان افغانوں کا استدلال ہے کہ آنے والوں کا شمالی وزیرستان کی طرح کسی ایک مقام پر برسوں تک آرام سے رہنا افغانستان میں ممکن نہیں۔دوتین جگہوں کے علاوہ افغانستان میں ایسے مقام کم ہیں جہاں وہ آرام سے رہ سکے۔ اسی لیے یہ مہمان طالبان بھی افغان طالبان کی طرح مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ ایک دن حملہ کرتے ہیں اور دوسرے دن دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔
ان الزامات لگانے سے قبل افغان یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ افغانستان میں یہ کاروائیاں ویسے ہی معمول سے بڑھ جاتی ہیں۔ہر سال موسم گرما میں ویسے ہی شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ پاکستانی شدت پسندو ں کے لیے افغانستان پاکستان کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہاں شمالی وزیرستان کی طرح کسی ایک مقام پر برسو ں تک آرام سے رہنا ممکن نہیں۔

افغان حکومت اور امریکہ نہ جانے کیوں ان حقائق کو خاطر میں کیوں نہیں لا رہے ستم بالائے ستم یہ کہ افغانستان اگر حملوں کا پلان بنا رہا تھا تو امریکہ نے دتہ خیل میں ڈرون حملہ کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ آپریشن ضرب عضب کو چار تحصیلوں تک محدود نہ رکھے بلکہ دتہ خیل میں بھی آپریشن کیا جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی زیادہ تر توجہ دتہ خیل پر ہی ایک عرصے سے مرکوز رہی ہے اس لیے وہ اس حصار سے آگے ہی نہیں بڑھ رہا جبکہ پاکستان کی طرف سے بار بار یہ کہا جار ہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں کوئی امتیاز نہیں برتا جا رہا۔
اس وضاحت کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکہ خاموشی سے نتائج کا انتظار کرتا لیکن ایسا نہیں ہوا اس کی بے صبری کا عالم یہ ہے کہ اس نے ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں جس کی وجہ سے آپریشن ضرب عضب کو مطلوبہ نتائج کے حصول میں مشکلات آڑے آسکتی ہیں اس لیے امریکہ اور افغانستان دونوں کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی کیونکہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں اس وقت نو لاکھ سے زیادہ متاثرین رمضان المبارک کے دوران اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ان لوگو ں کی قربانی کا ثمر حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ان فیصلہ کن مراحل میں اندرونی اور بیرونی مداخلت سے گریز کیا جائے کیونکہ فوجی حکام نے اپنے اعتبار سے آپریشن ضرب عضب کو پلان کر رکھا ہے اور اس میں اسی حساب سے پیش قدمی کی جائے گی تاہم ایسے ڈرون سے آپریشن میں فرق آسکتا ہے جس کی زمہ داری پھر انہی قوتوں پر عائد ہو گی جو آپریشن ضرب عضب میں اس وقت رخنے ڈال رہی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-07

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان