بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آپریشن ضربِ عضب
قیامِ اَمن کیلئے فیصلہ کُن قدم۔۔ اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ” آپریشن ضرب عضب“ ماضی کے آپریشنز کی نسبت زیادہ بڑا اور بھرپور ہے۔ ا س میں نہ صرف راستے کاٹ کر شمالی وزیرستان کو الگ کر دیا گیا
مصنف : سید بدر سعید
پاک طالبان مذاکرات کا سلسلہ 9ماہ بعد اختتام کو پہنچ گیا۔ یہ مذاکرات بری طرح ناکام ہوئے۔ اس سلسلے میں طالبان نے بھی باضابطہ طور پر جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتے کے اعلان کے بعد معمول کی کاررائیاں جا ری رہیں لیکن کراچی ائر پورٹ پر حملے نے صورتحال بدل دی اور حکومت نے طالبان کے خلاف مکمل آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کا بھی اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ پلان اے یعنی مذکرات کامیاب نہ ہوئے تو پھر پلان بی یعنی فوجی آپریشن شروع کیاجائے گا۔ کراچی ائرپورٹ پر حملے اور طالبان کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کی لینے کے بعد پاک فوج نے 14اور 15جون کی درمیانی شپ 1بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے علاقے دیگان میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی ۔
جیٹ طیاروں کی یہ کارروائی لگ بھگ20منٹ جاری رہی اور اس دوران ازبک شدت پسندوں کے 8ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ۔یہ کراچی ائر پورٹ پر حملے کا واضح جواب تھا۔ جن ٹھکانوں پر حملے کئے گئے، وہاں 200 شدت پسند مزید کارروائی کی منصوبہ بندی کے لئے اکٹھے ہوئے تھے جن میں سے 150جاں بحق ہوگئے جن میں کراچی ائر پورٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل تھا۔
شمالی وزیرستان پر ہونے والی یہ کارروائی بظاہر معمول کی کارروائی تھی لیکن اگلے ہی روز فوج کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا اعلان کر دیا تھا۔
اِس سے قبل اسلام آباد کی داخلی سیکورٹی فوج کے سپرد اور حساس مقامات پر فوج کے کمانڈو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پاک فوج کی جانب سے شروع کئے گئے اس آپریشن کے لئے فوج ایک سال سے تیار تھی لیکن مذاکرات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اس آپریشن کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے حکومت کی ہدایت پر شمالی وزیرستان ایجنسی میں چھپے غیر ملکی اور مقامی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کی شروع کر دیاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آپریشن کی اطلاع فوج کی جانب سے دی گئی۔جبکہ وزیراعظم نے اگلے روز پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جس پر اپوزیشن کے راہنماوٴں نے اعتراض اُٹھایا کہ اس آپریشن کی اطلاع حکومت کی جانب سے کیوں نہیں دی گئی۔آپریشن ”ضرب عضب“ طویل عرصہ بعد شدت پسندوں کے خلاف مکمل اور بھرپور آپریشن ہے۔ وزیردفاع کا کہنا ہے کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔
دوسری جانب فورسز نے بھی سب سے پہلے شمالی وزیرستان ایجنسی کا محاصرہ کر لیا اور وزیرستان کے داخلی راستے مکمل طور پر سیل کر دئیے تا کہ نہ وہاں موجود شدت پسندوں کو کمک مل سکے اور نہ ہی وہ فرار ہو سکیں۔اس آپریشن کے دوران فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے تا کہ شدت پسندوں کی نقل وحرکت پر بھی نظر رکھی جائے۔ اس آپریشن کے آغاز سے ہی فوج نے حساس مقامات اور شہروں کی سکیورٹی سنبھال لی ہے ۔
اسلام آباد نے ساتھ ساتھ کراچی میں بھی دستے بھیج دیئے گئے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاوٴس، گورنر ہاوٴس اور جی ایچ کیو سمیت حساس جگہوں اور بڑے شہروں کے داخلی راستوں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ کور کمانڈر لاہور نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور اُن کے اہل خانہ کی سیکورٹی کیلئے بھی فوج بھیج دی۔ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہواہے۔اس آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں ہائی الرٹ کر دیا گیا اور خصوصاََ سفارت کاروں اور غیر ملکیوں کو نقل و حمل محدود رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ” آپریشن ضرب عضب“ ماضی کے آپریشنز کی نسبت زیادہ بڑا اور بھرپور ہے۔ ا س میں نہ صرف راستے کاٹ کر شمالی وزیرستان کو الگ کر دیا گیا بلکہ بے گھر ہونے والوں اور نقل مکانی کرنے والوں کیلئے شیلٹر اور دیگر انتظامات بھی کئے گئے ہیں جبکہ ہتھیار ڈالنے والوں کیلئے سرنڈر پوائنٹس ضرب عضب شروع ہوتے ہی شمالی وزیرستانی کے عام شہریوں نے پاکستان سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا دیے ہیں۔
اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے وفادار ہیں۔ اسلئے فضائی آپریشن کے دوران ان گھروں کا نشانہ نہ بنایا جائے جو پاکستانی پیرچم لہرا رہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کو قومی اسمبلی میں مکمل حمایت حاصل ہے اور اس کے حق میں قرارداد بھی منظور ہو چکی ہے۔ لگ بھگ سبھی سیاسی جموعتوں نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ البتہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی(ف) نے اس قرار داد کی مخالفت کی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نے اس آپریشن کی نگرانی کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آر ایس پی آر، ڈی جی ایم او کے ساتھ ساتھ، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، گورنر خیبر پختونخواہ اور سیکرٹری انفارمیشن شامل ہیں ۔ یہ کمیٹی باقاعدگی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کو آپریشن کی بدلتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ فوج کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ اصل ٹارگٹ ایسٹ ترکمانستان موومنٹ اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ہیں۔ یہ دونوں غیر ملکی گروہوں پر مشتمل گروہ ہیں جو تحریک طالبان پاکستان کی چھتری تلے آچکے ہیں۔ یہ وسط ایشائی ریاستوں کے گروہ ہیں جن کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ان کے لیے کسی قسم کی معافی یا چھوٹ نہیں ہو گئی۔
اس سلسلے میں مذاکرات میں اہم کرردار ادا کرنے والے متعدد گروہوں نے بھی حکومت کو تعاون کا یقین دلا دیا ہے ۔ آپریشن سے ایک ہفتہ قبل اتمان زی گرینڈ جرگہ کی کور کمانڈر پشاور اور گرونر خیبر پختونخواہ سردار مہتاب عباسی سے بھی نتیجہ خیز ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں بتایا گیا کہ غیر ملکی جنگجووٴں میں سے 90 فیصد عرب جنگجو علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور دیگر ممالک کا رُخ کر چکے ہیں اور اب شمالی وزیرستان میں وسط ایشیائی ریاستوں کی چھوٹی موٹی تنظیموں کے علاوہ صرف یہ دو بڑے گروہ ہی متحرک ہیں۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے بیشتر گروہوں نے ان غیر ملک جنگجو گروہوں کی حمایت ترک کر دی ہے۔ البتہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ بد ستور اُن کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل گل بہادر گروپ کی جانب سے غیر ملک جنگجووٴں کو پُر امن رہنے یا پھر علاقہ چھوڑ دینے کا بھی حکم دیا گیا تھا، بصورت دیگر اُن کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔

پاک فوج کی جانب سے کئے جانے والے آپریشنز کے نام خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان ناموں کی وجہ سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ آپریشن کس حد تک اور کس نوعیت کا ہو گا۔ 2008 ء میں مالاکنڈڈویژن اور سوات میںآ پریشن ” راہ حق“ ہوا جس کا مقصد شدت پسندوں کو حق کی راہ پر لانا تھا۔ اس کے بعد 2009ء میں آپریشن ” راہ راست“ کیا گیا۔ اس کا اصل مقصد بھی یہی تھا۔
حالات درست نہ ہوئے تو 2010ء میں جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ”راہ نجات“ کیا گیا۔ 2009ء والے آپریشن میں مالاکنڈ سے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے تباہ کر دیے گئے تھے، آپریشن ” راہ نجات“ بھی بھر پور قسم کا تھا۔اب پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا ہے۔ یہ نبی کریم کی تلوار سے منسوب ہے جس کا مطلب ہے کہ اب تیزی سے وار کرتے ہوئے بھر پور حملہ کا جائے گا۔
فی الحال ہی محسوس ہو رہا ہے کہ اب کی بار ہونے والا آپریشن پہلے سے مختلف ہے۔ پاک فوج کے ماضی کے آپریشنز میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب جب فوج حملہ کرتی تھی طالبان افغانستان کی طرف فرار ہو جاتے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ امیربھی سوات آپریشن کے دوران افغانستان فرار ہو گئے اور ابھی بھی وہیں ہیں۔ اس لئے بار افغانستان کو بھی باضابطہ طورپر کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرحد سیل کر دے اور پاکستان سے فرار ہونے والے شدت پسندوں کو پناہ نہ دے ۔
اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں موجود ان عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کابھی کہا ہے جو وہاں بیٹھ کر پاکستان پر حملے کروا رہے ہیں۔ ا س بار پاک فوج کے سربراہ نے خود بھ افغان سفیر سے بات کی ہے ۔ اس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کی سپلائی لائن کاٹنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت نے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے اُن مدارس اور افراد کی بھی نگرانی کی جار ہی ہے جو عسکریت پسندوں سے رابطے میں تھے یا اُنہیں مدد فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان اب تک شدت پسندی کی اس جنگ میں پچاس ہزار سے زائد عام شہریوں کی لاشیں اُٹھا چکا ہے۔ طالبان کے اپنے حلقے اور اہم کمانڈر اب یہ الزام لگا رہے تھے کہ اب جہاد کی بجائے بھتّہ خوری ، اغوا برائے تاوان، بنک ڈکیتیاں اور دیگر جرائم تحریک طالبان پاکستان کی پہچان بن گئے ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد یہ آپریشن ناگزیر تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طالبان کے نام پر ملک دشمن عناصر بھی سر گرم ہو چکے تھے اور بھارت اُنہیں باقاعدہ فنڈنگ مہیا کر رہا تھا۔
پاک فوج کو اسی لیے یہ کارروائی کرنی پڑی ۔ یہ آپریشن بہت اختیاط اور باریک بینی سے تیار کیا گیا ہے اور شمالی وزیرستان کی مقامی آبادی بھی اس کا ہدف نہیں ہے۔ مقامی آبادی کو مختلف تاریخیں بتا دی گئی ہیں جن میں اپنی رجسٹریشن کروا کر محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔ پاک فوج تیزی سے اپنے اہداف پورے کر رہی ہے اور اب تک 50 فیصد سے زیادہ علاقہ کلیئر کر کے محفوظ بنایا جا چکا ہے اور پاک فوج کو عوام اور سیاسی جماعتوں کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔
البتہ یہ بھی سچ ہے کہ طالبان کے اہم کمانڈر اس سے پہلے ہی یا توافغانستان کا رُخ کرچکے تھے یا شہری علاقوں میں منتقل ہو چکے تھے۔ شمالی وزیرستان کے اس آپریشن کے بعد اگر شہروں اور سرحدوں کی محفوظ نہ بنایا گیا تو اُنہیں دوبارہ پھلنے پھولنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی طرح شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کو بروقت سہولیات مہیا کرنا اور اُن کی آباد کاری بہت ضروری ہے۔ قبائلی علاقوں کے عوام محب وطن پاکستانی ہیں جو ہر مشکل میں پاکستان کا ہراول دستہ ثابت ہوئے ہیں۔ اُنکا احترام، حقوق اور سہولیات حکومت کی ذمہ داری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-28

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان