بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

بنوں

نوزائیدہ بچوں کی اموات میں پاکستان سرفہرست
ایک عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے 40.7 بچے یا تو مردہ پیدا ہوتے ہیں یا وہ پیدا ہونے کے دن ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی یہ اموات دنیا بھر میں پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں
صابر بخاری:
وطن عزیز پاکستان میں صحت کے میدان میں زبوں حالی اور حکومتی نا اہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان مردہ بچے پیدا ہونے اور پیدائش کے دن فوت ہو جانے والے بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ بچوں کے لئے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے 40.7 بچے یا تو مردہ پیدا ہوتے ہیں یا وہ پیدا ہونے کے دن ہی فوت ہو جاتے ہیں۔
بچوں کی یہ اموات دنیا بھر میں پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کے بعد افریقہ کا ملک نائیجریا ہے جہاں ایک ہزار میں سے 32.7 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں یا وہ پیدائش کے دن ہی فوت ہو جاتے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور مصر نے بچوں کی اموات کی شرح میں 1990ء سے لے کر 2012ء تک 60 فیصد تک کمی لائی ہے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں پاکستان کا پہلا نمبر حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
نوزائیدہ بچوں کی اموات کی کئی وجوہات ہیں۔ طبی ماہرین سے حمل کے دوران ماں کا معائنہ خاص اہمیت کا حامل ہے مگر پی ڈی ایچ ایس کے 2013 ء کے سروے کے مطابق 52.5 فیصد زچگی طبی ماہرین کے مطابق ہو رہی ہے جبکہ ابھی بھی 47.5 فیصد حاملہ خواتین غیر تربیت یافتہ دائیوں اور عطائی حضرات کے ہتھے چڑھ رہی ہیں جوحمل کے دوران خطرناک علامات جانچنے کی صلاحیت سے محروم ہیں کیونکہ دائیوں اور عطائیوں کو ان خطرناک علامات کو جاننے کی تربیت نہیں ہوتی انہی وجوہات سے لاکھوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
زیادہ تر ہسپتالوں میں ماہر کارکنان صحت نہیں ہیں‘ جہاں طبی ماہرین موجود ہیں تو وہاں ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ کئی دیہی علاقوں میں لیڈی ہیلتھ ورکرز موجود نہیں ہیں اگر ہیں بھی تو وہ اتنی دور کہ ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہاں تک جاتے ہوئے بچے کی موت ہو جاتی ہے اور بعض اوقات ماں اور بچہ دونوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
لیڈی ہیلتھ ورکر کے ہونے کی وجہ سے دور افتادہ علاقوں کی حاملہ ماؤں کے لئے دوران حمل خطرناک علامات کا پتہ لگانا ناممکن ہوتا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں اتنی بھاری فیسیں ہوتی ہیں کہ مزدور طبقہ ان کی فیس برداشت نہیں کر سکتا جس کے بعد وہ دائیوں اور عطائیوں کے پاس جانے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔ ماں کے حاملہ ہونے سے زچگی تک لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیڈی ہیلتھ ورکر نے حاملہ ماں کو مہینے میں دو بار چیک کرنا ہوتا ہے۔
اس کودوران حمل خطرناک علامات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے فولاد اور خون کی کمی سے بچاؤ کی گولیاں دینی ہوتی ہیں۔ حاملہ کی صحت اور غذا کے متعلق احتیاطی تدابیر بتاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی ویکسینیشن اور دوران حمل قریبی مرکز صحت جا کر باقاعدہ معائنہ کرانا بھی حاملہ خاتون کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
جن علاقوں میں لیڈی ہیلتھ ورکرز موجود ہیں وہاں حاملہ خواتین ان کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
پنجاب میں تقریباً 70 فیصد دیہی علاقوں میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں جبکہ ابھی بھی تقریباً 30 فیصد دیہی علاقے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سہولت سے محروم ہیں ان علاقوں میں حاملہ ماؤں کو دوران حمل خطرناک علامات سے آگاہ کرنے کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔ مگر حکومت لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہی۔
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت کینسر کے مریضوں اور جگر کی پیوندکاری کے لئے ہسپتال بنائے گی۔ یہ ایک بہتر فیصلہ ہے مگر کینسر اور جگر کی پیوندکاری کے مریضوں کے اعداد و شمار نوزائیدہ بچوں کی اموات سے کہیں کم ہیں۔ مگر حکومت اس حساس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ کینسر اور جگر کی پیوندکاری کے لئے حکومت کو چاہئے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جگر کی پیوندکاری اور کینسر کے ہسپتال بنائے جائیں۔
اس طرح حکومت نوزائیدہ بچوں کی اموات سے بچاؤ کے حوالے سے خاطر خواہ انتظامات کر سکتی ہے‘ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے 2002ء میں قانون سازی کی گئی۔ پروٹیکشن آف بریسٹ آرڈیننس کے بعد بھی حکومت نے اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہا اور آج پاکستان نے نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پہلا نمبر حاصل کر لیاہے۔
18 ویں ترمیم کے بعد صوبے میں Infant Feeding Board بننا تھا۔ اس کے ممبر بننے تھے اور اس کی رولنگ اسمبلی سے پاس ہونا تھی اب جبکہ وفاق اور باقی تینوں صوبوں نے اس کو لاگو کرنے میں پیش رفت کی ہے پنجاب ابھی بھی اس رول کو لاگو کرنے میں کافی پیچھے ہے اور اس حوالے سے ابھی تک کوئی خاص پیش رفت بھی نہیں ہوئی۔ اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 4 کروڑ مالیت کا پاؤڈر درآمد کیا جاتا ہے۔
فارما سیوٹیکل کمپنیز طب کے شعبہ میں کام کرنے والے مختلف محکموں اور عناصر کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں اور پاوڈر ملک نوزائیدہ بچوں کو نسخوں کی شکل میں تجویز کیا جاتا ہے خواہ بچوں کو اس کی ضررت ہے کہ نہیں۔ 2013ء کے پی ڈی ایچ ایس کے سروے کے مطابق 6 ماہ کی عمر کے اڑھتیس فیصد بچوں نے ماں کا دودھ پیا۔آرڈیننس کیمطابق فارماسیوٹیکل کمپنیز کو پاؤڈر ملک کی فروخت اور بے جا تجاویز پر بھی پابندی ہے۔
مگر افسوس ہمارے اہل اقتدار کے مفادات ان کمپنیز سے جڑے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاؤڈر ملک کی فروخت جاری ہے۔ خیبر پی کے حکومت نے حال ہی میں ایک بل پاس کیا ہے جس میں 6 ماہ کی عمرتک کے بچوں کے لئے پاؤڈر ملک تجویز کرنے پر پابندی لگا دی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ 2013ء کے سروے کے مطابق Nipple سے بوتل فیڈنگ کی شرح 6 ماہ سے کم عمر کے بچوں میں 34 فیصد تک پہنچ گئی ہے جوکہ 2006-7 کے سروے کے مطابق سات فیصد زیادہ ہے۔
گذشتہ کئی سالوں سے پنجاب میں صحت کا وزیر نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز کا فوکس صرف انفراسٹرکچر پر ہے‘ صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے نوزائیدہ بچے کی جان بچانے کے لئے حمل کے پہلے دن سے ہی ماں کا خیال رکھنا ہو گا نہیں تو نوزائیدہ بچوں کی اموات کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان