بند کریں
پیر فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوبل انعام جیتنے والی کم عمر ملالہ یوسف زئی
ملالہ یوسفزئی جن کا تعلق پاکستان کے خوبصورت تفریخی مقام سوات سے ہے یہ دوسری پاکستانی شہری ہیں جنہیں نوبل پرائز سے نوازا گیا ہے انہیں بھارت کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر یہ ایوارڈ دیا گیا
مظہر حسین شیخ:
حال ہی میں دْنیا کی کم ترین عمر میں ملالہ یوسفزئی کونوبل پرائز سے نوازا گیااس سے قبل وہ درجنوں ایوارڈ حاصل کر چُکی ہیں،بین الاقوامی شہرت کی حامل پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی جن کا تعلق پاکستان کے خوبصورت تفریخی مقام سوات سے ہے یہ دوسری پاکستانی شہری ہیں جنہیں نوبل پرائز سے نوازا گیا ہے انہیں بھارت کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر یہ ایوارڈ دیا گیاجبکہ نوبل پرائز کے ساتھ ملنے والی انعامی رقم بارہ لاکھ ڈالردونوں میں مساوی تقسیم کی جائے گی،اس سے قبل پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام پہلے پاکستانی ہیں جنہیں1979ء میں انہیں غیر معمولی کارکردگی کے صلہ میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کیلاش ستیارتھی سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے وزیراعظم نریندر مودی اور میں پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے درخواست کروں گی کہ وہ نوبل انعام دیے جانے کے موقع پر موجود ہوں۔ملالہ رواداری، تحمل پر یقین رکھتی ہیں اور دونوں ملکوں کی ترقی چاہتی ہیں دونوں ممالک میں امن اور اچھے رشتے کی خواہش رکھتی ہیں تاکہ دونوں ممالک امن امان کی فضاقائم رکھتے ہوئے ترقی کرسکیں۔

جب جمعہ کے روز نوبل امن انعام دینے والی کمیٹی نے سستیارتھی اور ملالہ کو 2014 کا امن کا نوبل انعام مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیاتو ساتھ ہی انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کو تعلیم اور ترقی کے میدان میں اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ملالہ نے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ اپنا انعام اشتراک کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے بارے میں بھی بات کی۔
وہ کیلاش ستیارتھی کے کام سے بے حد متاثر ہیں۔ کہتی ہیں کہ نوبل امن انعام سے بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کی ترغیب اور حوصلہ ملا ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ دنیا کا ایک ایک بچہ اسکول جائے۔وہ اپنے والد کی شکرگذار ہیں انہوں نے ہر قدم پر تعاون کیا اوران کی رہنمائی فرمائی۔
آخر کارپاکستان کی بیٹی ملالہ یوسف زئی نے امن کا نوبل انعام جیت ہی لیا جس کی انہوں نے پہلے بھی خواہش کی تھی۔
ملالہ یوسف زئی کیلئے نوبل امن انعام میں ان کے ساتھ بچوں کے حقوق کے علمبردار 60 سالہ بھارتی کیلاش سیتارتھی شراکت دار ہیں،
ملالہ یوسفزئی12جولائی1997ء کوسوات مینگورہ میں پیدا ہوئی ان کے والد کا نام ضیاالدین یوسفزئی ہے،ملالہ نے کم عمری میں بڑی شہرت پائی ملالہ نے ایجوکیشن فنڈ کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے،اس فنڈکابنیادی مقصد لڑکیوں میں تعلیم فروغ کا رجحان پیدا کرنا ہے۔
طالبان نے جب 2009ء میں لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی تو ملالہ بھی ان میں سے ایک تھی جس کی سکول جانے پر پابندی تھی۔اس وقت ملالہ کا تعلیمی کیریئر شدید متاثر ہوا جب سوات میں 2009ء میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو ملالہ کئی دن سکول نہ جا سکی جس کااسے دلی افسوس تھا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی ہم عمردوستوں کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرتی رہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملالہ نے ”گل مکئی“کے نام سے اپنی ڈائری لکھنا شروع کی،جس سے اسے کافی شہرت ملی اس دوران اسے کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے حوصلے بلند تھے اور کوشش جاری رکھتے ہوئے اپنی ڈائری میں سوات کی ساری صورتحال کا ذکر کیا جب سوات میں امن ہوا تو ملالہ کئی ٹی وی چینلز پر رونما ہوئی اور اس کے بیانات اور آرٹیکلز نے مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں تہلکہ مچا دیا۔

2011ء میں ملالہ کوبچوں کے عالمی امن ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا۔اس وقت وہ یہ انعام تو نہ جیت سکی لیکن اس کیلئے یہ اعزاز بھی کم نہ تھا کہ وہ پوری دنیا سے اس ایوارڈ کے لئے نامزد کی جانے والی چند لڑکیوں میں شامل تھی۔ تاہم حکومت پاکستان اور مقامی این جی اوز کی طرف ملالہ کو کئی ایوارڈز اور انعامات سے بھی نوازا گیا۔
9 اکتوبر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کیلئے افسوسناک دن ثابت ہوا جب ملالہ پر سوات میں سکول سے واپس گھر آتے ہوئے حملہ کیا گیا۔
مسلح افراد نے اس کی سکول بس پرحملہ کیا۔جس سے پورا پاکستان لرز اٹھا۔ ملالہ کو ابتدائی طبی امداد کیلئے سیدو شریف منتقل کیا گیا لیکن بعدازاں ملالہ کو پشاور اورراولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔حملے کے دس دن بعدتک ملالہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہی،گیارہویں دن ملالہ قومہ سے باہر آئی اور آنکھیں کھولیں۔ ازاں بعد برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زیرعلاج رہی ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہو جائے گی۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔ملالہ کی تعلیمی کوششیں بچیوں کیلئے مشعل راہ ہیں،ملالہ ہمت اور عظمت کی وہ روشن مثال ہے جس کی معصوم کوششوں نے سوات کی بچیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کیلئے شعور پیدا کیا۔ آج اگر سوات کی ہر بچی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کسی بھی طوفان سے ٹکرانے کیلئے پرُعزم ہے تو اس کا سہرا ملالہ یوسف زئی کے سر ہے جس نے اپنی جان پرکھیل کربھی ہمت نہیں ہاری‘ پہاڑ جیسی پریشانی بھی اس کو اپنا مشن جاری رکھنے سے نہ روک سکی۔
ملالہ 2009ء میں طالبان کے دور میں گیارہ یا بارہ سال کی بچی تھی۔طالبان لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کے حق میں نہ تھے چنانچہ انہوں نے سکول بند کر دئیے۔ تعلیمی سفر جاری ر کھنے کے لئے ملالہ نے آوازاٹھائی اوراسے عملی جامہ پہنانے کے لئے بچیوں کو اکٹھا کیا اورتعلیم کاسفر جاری رکھنے کا عزم کیا۔
جیسا کہ پہلے لکھ چکے ہیں کہ ملالہ نے ”گل مکئی“ نام سے ایک ڈائری لکھناشروع کی۔
غیر ممالک میں اس کی ڈائری اخبارات کی زینت بنی اورپھر دیکھتے ہی دیکھتے ملالہ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگی۔
2011ء کے انٹرنیشنل چلڈرن ایوارڈ کے لئے 245 ممالک سے صرف پانچ بچیاں چنی گئیں ملالہ یوسفزئی ان پانچ بچیوں میں شامل تھی۔قسمت نے اس وقت اس کا ساتھ نہ دیااوروہ یہ ایوارڈ حاصل نہ کرسکی البتہ یہ بین الاقوامی شخصیت ضرور بن گئی۔حکومت پاکستان نے اسے 19 دسمبر 2011ء کو امن ایوارڈ سے نوازا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بچی ملک میں تبدیلی کا نشان تھی۔
زخمی ہونے کے دوران پاکستانی قوم کے ساتھ عالمی برادری ملالہ کی جلد صحت یابی کے لئے دعاگو رہی۔ پوری دنیا میں ملالہ پر بزدلانہ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے اورریلیاں بھی نکالی گئیں۔سکولوں میں خاص طورپر دعائیہ تقریبات منعقدکی گئیں۔قوم کی دعائیں رنگ لائیں اور ملالہ کی صحت کچھ بہتر ہوئی توعرب امارات نے ایئر ایمبولینس بھیجی جو ملالہ کو برطانیہ لے کر گئی جہاں معصوم سی بچی کو کوئین الزبتھ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔
ملالہ کی صحت جیسے ہی سنبھلی تو اس نے پوری قوم کے ساتھ ساتھ پوری عالمی برادری کا شکریہ اداکیا اور اس بات کاعہدکیا کہ وہ ہرحال میں اپناتعلیمی مشن جاری رکھے گی۔ نڈرملالہ کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس کو نوبل پرائز سے نوازنے کیلئے 10 نومبرکو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ”یوم ملالہ“ منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں بچوں نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ملالہ کے مشن کو جاری رکھنے کا پختہ عزم کیا۔
کوئی بھی ملک صحیح معنوں میں اس وقت ترقی کر سکتا ہے جب وہاں کی نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار نہ لائے جائیں۔چند بنیاد پرست عناصر کیلئے آج ملالہ جیسی ایک معصوم بچی اگر ایک ہدف ہے تو پھر مستقبل کے حوالے سے پوری قوم کو سوچنا ہوگا کہ تنگ نظری پرمبنی اس قسم کے رویوں کو ختم کئے بغیر ملک وقوم کی آئندہ ترقی ممکن نہیں ہو سکتی اس کے لئے امیر‘ غریب‘خواندہ ناخواندہ اوربلا امتیاز مذہب و عقیدہ سب کو متحد ہو کر بنیاد پرستی کی سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبل انعام ملنے پر اسلام آباد سمیت ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اسلام آباد کے مختلف سکولوں کی طالبات نے تعلیم کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے اور ان خدمات کے صلے میں ملالہ کو امن کا نوبل انعام ملنے پر بے حد خوشی کا اظہار کیا۔اسلام آباد کے مختلف سکولوں اور کالجز کی طالبات نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی پاکستانی طالبات کیلئے ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہیں، ہر ایک کی خواہش ہے کہ ملالہ یوسفزئی نے جس طرح گھٹن کے ماحول میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو نہ صرف خود جاری رکھا بلکہ اپنی دیگر ساتھی طالبات کو بھی پڑھنے کا حوصلہ دیا جو کہ ہمارے لئے قابل فخر اور قابل تقلید ہے۔
آج ملالہ کا نام پوری دنیا میں محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے اس پر حملہ کرنے والے ختم ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ ملالہ کے حوصلے اور جرأت نے قبائلی علاقوں سمیت دور افتادہ دیہات میں رہنے والی بچیوں کو بھی تعلیم اور حق مانگنے کا حوصلہ دیا ہے ہم ملالہ یوسفزئی سے محبت کرتے ہیں اور امن کا نوبل انعام لینے پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دنیا کاسب سے بڑا اعزاز ”نوبل پرائز“ حاصل کرنے والے ممالک میں امریکہ سرفہرست ہے۔
اب تک امریکہ کی 353 شخصیات یہ اعزاز حاصل کرچکی ہیں، برطانیہ کی 116جرمنی کی 102، فرانس کی 66 شخصیات نے نوبل انعام حاصل کیا۔ بھارت کی 8شخصیات بھی یہ اعزاز حاصل کرچکی ہیں۔ نوبل پرائز کی تاریخ میں 1901سے لے کر 2014تک 47 مرتبہ خواتین کو ”نوبل پرائز کاحق دار قرار دیا گیا۔ میری کیوری واحد سائنسدان خاتون تھیں جن کو دو مرتبہ ”نوبل پرائز“ کا حق دار قرار دیا گیا۔
اس طرح مجموعی طورپر46خواتین نے ”نوبل پرائز“حاصل کیا۔ خواتین میں پاکستان کی ملالہ یوسف زئی ”نوبل امن پرائز“ حاصل کرنے والی سولہویں خاتون ہیں۔
ملالہ یوسف زئی نے کم عمری میں نوبل پرائز حاصل کرکے یہ انعام حاصل کرنے والی دنیا کی سب سے کم عمرشخصیت کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے۔ نوبل انعام حاصل کرنے والی سب سے معمرشخصیت روس کے لیونڈہروزڑ تھے جنہوں نے 90 سال کی عمر میں 2007 کا نوبل انعام حاصل کیا۔
انہیں یہ انعام مائیکرواکنامک کے شعبے میں دیا گیا تھا۔ نوبل انعام حاصل کرنے والی بیشتر شخصیات کی اوسط عمر61سال ہے۔ ملالہ یوسف زئی طالبات کی تعلیم کی سب سے زیادہ حامی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے انہیں فخر پاکستان کہا ہے۔اگرچہ سوات میں کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی بڑے جشن کا سماں نظر آ رہا ہے، لیکن سوات کے عوام خصوصاً بچوں اور نوجوان طبقے میں اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سوات میں عوام کے چہروں پر خوشی اور فخریہ تاثرات دیکھنے کو ملے۔ ملالہ کے ہم جماعت رہنے والی تحسین محمود نے کہا کہ ملالہ اس انعام کی حقدار تھیں۔ ہمیشہ سے دلیر، سنجیدہ اور محنتی لڑکی رہی ہے۔ وہ اس انعام کی صحیح معنوں میں حقدارتھی۔ وہ چھوٹی عمر سے ہم سب کو کہتی تھی کہ میں سوات اور اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں، اور دیکھیں اس نے کر دکھایا۔
وہ کلاس میں باقی لڑکیوں سے بہت مختلف تھی۔ باقی لڑکیاں شرمیلی تھیں مگر ملالہ بے باک ہے۔ نہ صرف سوات کے لوگ بلکہ پورا پاکستان ہی اس پر فخر کرتا ہے۔
ملالہ پاکستانی خواتین کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر ایک لڑکی حقوق اور سچائی کے لیے کام کرتی رہے تو بہت کچھ کر کے دکھا سکتی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے، ملالہ نے وہ کر دکھایا جو بہت کم پاکستانی مرد کر پائے ہیں۔

امریکی صدر اوبامہ نے ملالہ یوسفزئی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے عزم مصمم کیساتھ لڑکیوں کی تعلیم کیلئے کوششوں کے حوالے سے انسپائر کیا ہے۔ میں ملالہ اور ستیارتھی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے ملالہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اقوام انتہاپسندی اور لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں ملالہ کے ساتھ ہیں، ملالہ بہت بہادر اور امن کی حامی ہیں، وہ اقوام متحدہ کی بیٹی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے ملالہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ غیرمعمولی طور پر بہادر خاتون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نوازشریف، مودی اور پاکستانی عوام کی خوشیوں میں شریک ہیں۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے بھی ملالہ کو مبارکباد دی ہے۔صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام جیتنے پر مبارک باد دی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملالہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہیں انہوں نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ملالہ کی کامیابی بے نظیر ہے دنیا بھر کے لڑکوں اور لڑکیوں کو ملالہ کی جدوجہد سے جلا لینی چاہیے۔ صدر ممنون حسین نے ملالہ کو امن کا نوبل انعام حاصل کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ملالہ نے اپنے والدین، اپنی ساتھیوں، بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے علمبرداروں اور درحقیقت پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
اپنے مبارک باد کے پیغام میں صدر نے ملالہ یوسف زئی کی جرأت کو سراہا جو انتہا پسندوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئیں اور بچیوں کی تعلیم کے حق کیلئے ا پنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ جرأت اور عزم کی علامت ہے۔ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے بھی ملالہ کو مبارک باد دی ہے۔لندن سے وقار ملک کے مطابق ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے کہا کہ یہ ایوارڈ پاکستان کی ملکیت ہے ہم نے اپنے آپ کو پاکستان اور پاکستانی قوم کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ہم پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے ملالہ یوسف زئی کو ملنے والے ایوارڈ پر یو۔کے میں مقیم پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-16

(0) ووٹ وصول ہوئے