بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نیشنل ایکشن پلان میں تیزی
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد کا سو فیصد کریڈٹ فوج اور رینجرز کو جاتا ہے ورنہ کراچی کی جو صورتحال تھی اس میں بلدیاتی انتخابات پرامن طور پر ہونے کا تصور بھی محال تھا۔
خالد کاشمیری:
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد کا سو فیصد کریڈٹ فوج اور رینجرز کو جاتا ہے ورنہ کراچی کی جو صورتحال تھی اس میں بلدیاتی انتخابات پرامن طور پر ہونے کا تصور بھی محال تھا۔ چنانچہ اپنے حالیہ دورہکراچی کے موقع پر عساکر پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے اس حوالے سے بجا طور پر کراچی میں قیام امن کی خاطر سربکف فوج اور رینجرز کے دستوں کی کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اپریشن سراسر غیر سیاسی اور بلاتفریق ہے اور یہ اپریشن جاری ر ہے گا۔

اپریشن کے آغاز سے قبل ارض وطن کے سب سے بڑے شہر عروس البلاد کراچی میں امن و امان کی ناگفتہ بہ حالت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ معمول کی بات بن چکی تھی۔ بھتہ مافیا نے کراچی کے شہریوں کا جینا محال کر رکھا تھا۔ روزانہ بیسیوں شہریوں کا خون مٹی میں ملتا رہتا تھا۔ مائیں بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے گھبراتیں اور ان کی خیر و عافیت کے ساتھ واپسی کی دعائیں مانگتی رہتی تھیں۔
سرمایہ دار اور کارخانہ دار خوفزدہ ہو کر ملک بالخصوص کراچی چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگے تھے۔ کسی قسم کی پوچھ گچھ اور جانچ پڑتال نہ ہونے کے باعث کراچی پولیس غنڈہ اور شرپسند عناصر کی سرپرست بنی ہوئی تھی۔ شریف شہریوں کی شکایات سننے والا کوئی نہ تھا۔ اسی قسم کے حقائق و حالات کو عوامی امنگوں کی روشنی میں سنوارنے کیلئے وفاقی حکومت نے قومی سلامتی کے ادارے کو اپنا فرض ادا کرنے کیلئے کراچی تعینات کیا اور اس مقصد کے حصول کی راہ میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں وہ ان گنت جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کا ثمر ہیں۔
عسکری قیادت کے تحت کراچی میں رینجرز کا اپریشن اگرچہ اپنے آغاز ہی سے غیر سیاسی اور بلاتفریق ہو رہا ہے۔ جرائم پیشہ افراد خواہ کسی بھی لبادے میں ہوں۔ کسی نیم سیاسی‘ سیاسی یا کالعدم تنظیم کے پرچم تلے ہوں۔ رینجرز اور سکیورٹی ادارے کا ہدف رہے ہیں اور رہیں گے اور ایسے عناصر کی گرفتاریوں کا بلاتفریق سلسلہ جاری ہے۔ رینجرز کی ایسی ناقابل فراموش کارکردگی کو بھی بعض سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں کی طرف سے نشانہ تنقید و تضحیک بنایا جاتا رہا ہے۔
جس کا مقصد ایسے حلقوں کی طرف سے مخصوص مقاصد کے تحت کراچی اپریشن کو روکنا اور نقصان پہنچانا ہے جبکہ اپریشن ہی کے نتیجے میں بعض نیم سیاسی اور سیاسی گروہوں کے ایسے ایسے پیشہ ور ٹارگٹ کلرز‘ بھتہ خوروں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا بوجوہ جن پر عوام ہاتھ ڈالنے کا تصور نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ایسے لوگ بااثر اور بے پناہ اثر و رسوخ کے حامل گردانے جاتے تھے۔

رواں سال کی ابتدائی سہ ماہی میں بھی کراچی کے بعض مخصوص حلقوں کی طرف سے امن و امان کے حامل کراچی اپریشن کو ہدف تنقید بنایا گیا تو 29 اپر یل کو جنرل راحیل شریف نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ کراچی اپریشن بلاتفریق منطقی انجام تک جاری رہے گا تمام مافیا کا خاتمہ کریں گے‘ اسی طرح جنرل راحیل شریف نے 26 اگست کو دورہ کراچی کے موقع پر کور ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی میں دہشت گردوں مجرموں اور بدعنوانوں کا شیطانی گٹھ جوڑ توڑا جائے۔
یہ بدعنوان کون ہیں؟ اس کی وضاحت وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیرصدارت کراچی میں منعقدہ حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ دہشت گردوں‘ ان کے معاونین‘ سہولت کاروں مالی مددگاروں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ گویا اب ایسے معاشی دہشت گردوں تک اپریشن کا دائرہ بڑھے گا جو کسی نہ کسی ناجائز ذرائع سے قومی دولت لوٹتے اور لوٹ رہے ہیں اور اس لوٹی گئی رقوم سے ان عناصر کی اپنی مقصد براری کیلئے مالی مدد کرتے ہیں جو انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں شرپسندوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں میں یقیناً ملکی دولت کو ناجائز ذرائع سے بیرون ملک پہنچانے والے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بقول جنرل راحیل شریف بدعنوانوں کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ کراچی میں فوج اور رینجرز ایسے ہی اپریشن میں سرگرم عمل ہیں اور اس راہ میں حصول مقصد کی خاطر بیشمار قربانیاں دے چکی ہے۔
ان کی اس جدوجہد اور قربانیوں کا مقصد پاکستان کے سب سے عظیم شہر کے عوام کو امن و امان سے عبارت فضا مہیا کرنا ہے تاکہ وہ سکون اور چین سے زندگی بسر کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں جاری فوج اور رینجرز کے غیر سیاسی اور بلاتفریق اپریشن کو مذاق کا نام دینا حقائق کا منہ چڑاتا ہے۔ ملک کو چھوڑ کر دبئی کی پرکیف فضاوٴں میں شب و روز گزارنے والے سابق صدر مملکت کو اپریشن کے حوالے سے شاید امن کی اتنی فکر دامن گیر نہ ہو جس قدر انہیں یہ فکر ستائے ہوئے ہو گی کہ کراچی اپریشن کی زد میں اب معاشی دہشت گرد بھی آئیں گے ”منی لانڈرنگ“ کے چیمپیئن کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔
جنرل راحیل شریف تو کھلے لفظوں میں اس عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہ حقائق بھی تو زبان زدعام ہو چکے ہیں کہ اپریشن کے منطقی انجام تک پہنچائے جانے کا واضح مطلب یہ ہے کہ دہشت گردوں‘ مجرموں اور بدعنوانوں کا شیطانی گٹھ جوڑ توڑا جائے گا۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی ہونے والی ان گنت وارداتیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔
اپریشن کا رخ اب معاشی دہشت گردوں کی طرف ہو گا‘ جن میں دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے سہولت کار‘ قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک پہنچانے والے شامل ہیں۔ یقیناً ایسے عناصر میں وہ سبھی بزرجمہر شامل ہیں جو منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستانی دولت کو دبئی‘ لندن‘ امریکہ‘ سوئٹزرلینڈ وغیرہ میں پہنچا کر اپنی جائیدادیں بنا رہے اور کاروبار چلا رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کو اس حقیقت سے اغماض نہیں برتنا چاہئے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کے خلاف سازش پاور بروکر نے نہیں کی بلکہ ”منی بروکرز“ نے کی۔ جو ملک و قوم کا سرمایہ ہر ناجائز طریقہ سے حاصل کر کے منی لانڈرنگ کے ذریعے دوسرے ممالک میں بھیجتے رہے۔ چنانچہ سندھ کی طرح یا کراچی کی طرح پنجاب بھر میں بھی اسی طرز کا بلاتفریق اپریشن ہو گا اور یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اب کے ایسے اپریشن میں بڑے بڑے منی لانڈرنگ کے صف اول کے چیمپیئن قوم کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔

جہاں تک سابق صدر آصف زرداری کی طرف سے پیپلز پارٹی کے خلاف پاور بروکرز پر سازش کا الزام عائد کرنے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے انہیں یہی کہا جا سکتا ہے۔
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
تاریخ اشاعت: 2015-12-12

(0) ووٹ وصول ہوئے