بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
صوبوں کی کار کردگی مثبت انداز میں ہونی چاہیے
نیشنل ایکشن پلان کا نفاد۔۔۔ ایک جائزہ۔۔۔۔ قوم کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے کیلئے سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر کام کرنا ہو گا
بابر خان:
پچھلے دنوں 24 دسمبر کو ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی جسے قانونی حیثیت دے کر نافذ کیا گیا۔اس قومی پلان کے بیس نکات کے نفاذ کے ضمن میں حکومت نے زور شور سے بات کا اعادہ کیا کہ اس پلان کے نفاذ اور عملد رآمد کے لئے انتظامیہ کو جو بھی کرنا پڑا اس سے گریز نہیں کیا جائے گا ۔ ملک کی ساری صوبائی حکومتوں کو پابند کیا گیا کہ دہشت گردی جی لعنت سے مکمل نجات کے لئے اس مندرج جملہ تجاویز پر عملدرآمد میں وہ وفاق کی مددکریں۔
اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے سب سے پہلے پاکستان کے عسکری ہیڈ کوارٹر اور بعد ازاں صوبوں کے صدر مقامات پر اجلاس منعقد کیے اس پر عملدرآمد کی رفتار کاجائزہ لیا اور اجلاس کے شرکاء نے اپنا یہ عزم دہرایا کہ ہر حالت میں دہشت گردی کے عفریت سے نجات کے لئے اس قومی دستاویز پر عمل کیا جائے گا۔ قومی پریس میں اس ضمن میں کافی اعداد وشمار شائع ہوئے جس سے یہ عیاں ہو رہا ہے کہ ملک بھر کی انتطامیہ یکسو ہو کر ان تجاویز کو آگے بڑھا رہی ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعی حکومت اپنے اس عزم کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے یا اس کی کاوشوں میں بہتری کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی کی جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پوری قوم کو دلجمعی سے اس مجوزہ پلان کے نکات پر عمل کرنا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز عمل کرنے کے لئے آئین میں ترمیم عدالتوں کے قیام کی تجویز پر عمل کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کی گئی ہے۔
ملک بھر میں متشدد کارروائیوں کے ملزمان کو جو پھانسی کی سزا کے منتظر تھے تختہ دار پر لٹکایا جاتا تھا۔ تقریباََ آٹھ سے دس ایسے ملزمان کی سزاوں پر عم کر دیا گیا ہے جبکہ درجنوں ایسے ملزمان کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان کاجلد فیصلہ کروا کر ان کی سزاوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے تاکہ اس سزا کا تاثر پوری طرح قائم ہو۔
پلان میں دوسری اہم شق کے مطابق جن جہادی تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے ان کودیگر ناموں کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا جاتا ہے لیکن متعدد ایسی تنظیمیں پابندی کے باوجود دیگر ناموں کے ساتھ فیلڈ میں موجود ہیں۔
ان تنظیموں کے رہنما بڑے طمطراق کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کرتے نظر آرہے ہیں اور ہماری اطلاعات کی منسٹری سیاست میں الجھی دکھائی دیتی ہے۔وزیر اطلاعات کو اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ اسلام آباد کے ایک مشہور مدرسے کے منتظم اعلیٰ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملوں کی حمایت کرتے رہے۔ حکومت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے لیکن ان کی گرفتاری سے گریز کیا جار ہے ہے۔

وزیر داخلہ نے امریکہ کے دورے کے دوران یہ اعلان کیا ہے کہ ا ن کی گرفتاری سے ہشت گردوں کی انتقامی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے کیا اس طرح نیم دلانہ اقدامات سے مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے ؟ بعض اسلامی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ابھی تک حکومت کے اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سیاست پر ہر چیز قربان کی جارہی ہے اور قوم کے سب سے بڑے مسئلے پر صرف اشک شوئی کی حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔
ان لوگوں میں سے اکثر حکومت کے سیاسی حلیف ہیں یا وہ برسراقتدار طبقے کے قریب ہیں جب تک ان سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر کام نہیں کای جائے گا قوم کو اس عفریت سے نجات نہیں ملے گی ۔ ہمیں مصلحتوں سے آزاد پالیسی پر عملدرآمد کی ضرورت ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی قومی تنظیم(نیکٹا) کو مزید فعال کیا جائے گا لیکن اس ضمن میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اس تنظیم نے وزارت خزانہ سے جوفنڈز طلب کئے ہیں وہ ابھی تک ورگزار نہیں کیے گئے۔

حکومت کی خاموشی او ر تساہل پسندی سے اس جنگ کے نتائج کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جب تک مصلحتوں سے پاک سنجیدہ کاوشیں نہیں کی جائیں گی ہماری آئندہ نسل کا مستقبل محفوظ نہیں ہوگا۔ حکومت کو سیاست سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے اقدامات کرنے ہوں گئے۔ مدرسوں او ر مذہبی مکاتب کی کار کردگی کے بارے میں اس دستاویز میں ایک نکتہ موجود ہے۔
کیا اس حقیقت سے انکار ہو سکتا ہے کیا حکومت کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود نہیں ہیں کہ بعض مدرسوں سے دہشت گردوں کی بھرتی ہوتی رہی ہے اور گرفتار ملزمان نے جا انکشاف کیے کیا وہ جشم کشا نہیں ہیں۔ ایسی ناقابل تردید شہادت کے بعد کیا کسی مزید اطلاع کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ جب تک مذہبی مدرسوں اور تعلیمی اداروں کے بارے میں یکساں قومی پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی اس جنگ میں کامیابی سراب ہی رہے گی۔

پرویز مشرف کے دورمیں ان مدرسوں کے جملہ کوائف جمع کئے جا چکے ہیں اور جملہ اعداد وشمار حکومت کے پاس موجود ہیں۔ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ان اداروں کے اس گھناوٴ نے کھیل میں شمولیت کے ثبوت موجود ہیں۔ا س کے برعکس حکومت سیاسی مصلحتوں کے تابع ہوکر صحیح سمت میں ایکشن لینے سے گریزاں ہے جب تک اس سمت میں خوف سے مبرا او ر سیاست سے پاک پیشرفت اور غیر متزلزل طور پر آگے بڑھنا ہو گا وگرنہ سارے اقدامات صرف اشک شکوئی پر محمول ہوں گے اور آئندہ نسل کا مستقبل بھی محفوظ نہیں ہوگا تویہ غلط نہیں۔
لاوٴڈ سپیکر کے استعمال کی خلاف ورزی پر اقدامات ضروری ہیں لیکن مکمل نہیں ہیں۔ صوبوں کی کار کردگی مثبت انداز میں ہونی چاہیے۔پوائنٹ سکورنگ کا سہارا لینے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومت کو خوف کے ماحول سے باہر آنا ہوگا اور بھر پور اقدامات کرنے ہوں گئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-12

(0) ووٹ وصول ہوئے