بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ناکام زرعی پالیسی
کسانوں کا سڑکوں پر احتجاج۔۔۔کسان حکومتی پالیسی سے سخت بیزار سراپا احتجاج ہیں اور سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ موجودہ زرعی پالیسی پر جسے کسان دشمن پالیسی قرار دیا جارہا ہے، مکمل نظر ثانی کرے
امان اللہ چٹھہ:
چاول کی فصل کی تما م تر اہمیت کے باوجود حکومت جامع چاول پالیسی تشکیل دینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کر رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تین ارب ڈالر سالانہ غیر ملکی زرمبادلہ کی برآمدی تجارت مکمل جمود کا شکار ہے۔ ماہ اگست ستمبر کے دوران جب پچھلا سیزن اختتام پذیر اور نئے سیزن کا آغاز ہورہا ہوتا ہے، چاول کی قیمت انتہائی بلندی کو چھورہی ہوتی ہے لیکن امسال یہ کیفیت دیکھنے میں آئی ہے کہ 386قسم کے چاول کی قیمت گرتے گرتے 1300/-روپے فی من تک آپہنچی۔
جبکہ سیزن کے آغاز میں دھان (چاول کا خام مال)اسی نرخ ( 1300/-روپے من) پر فروخت ہوتی رہی ہے جس سے ایک طرف چاول کے تاجروں کو ناقابل برداشت خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف کاشتکار مکمل معاشی تباہ حالی کے خطرہ سے دوچار ہیں۔ جن کی جنس کا گزشتہ سیزن کی نسبت 50فیصد کم قیمت پر بھی کوئی خریدار مارکیٹ میں نظر نہیں آرہا۔ گزشتہ دو سال سے چاول کا سٹاک پڑا ہوا تلف ہو رہا ہے۔
رائس ڈیلروں، برآمد کنندگان کا سرمایہ منجمد ہے۔ ظاہر ہے جب سرمایہ گردش میں نہ ہونے سے خرید کی طلب (Demand)ہی ناپید ہوگی تو نئی جنس کی منڈی آمد(Supply)پر اس کا برا حشر ہوگا۔ کسان پچھلے سال بھی دوہرے خسارے کے زیر بار ہوچکے ہیں۔ سپر باسمتی دھان کے بیج کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی اور تحقیقاتی اداروں کی طرف سے نیا بیج متعارف نہ کرانے کی وجہ سے جہاں فی ایکڑ پیداوار میں 50فیصد کمی آئی وہاں نرخوں میں گراوٹ کے نتیجہ میں 2500/-روپے من میں بکنے والی باسمتی دھان 1500/-روپے آگئی۔
اس طرح 1000/-روپے من کے حساب سے کاشتکاروں کو کم از کم 25000/-روپے ایکڑ کا نقصان ہوا۔ کاشتکاروں کی تحریک پر وزیر اعظم نواز شریف نے خود 5000/- روپے فی ایکڑ زراعانت دینے کا اعلان کیا جو بعد میں بہت سے دوسرے دعووں کی طرح ہوا میں تحلیل ہوکر رہ گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار اور وزیر فوڈ سیکورٹی سکندر حیات بوسن پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اس معاملہ پر کچھ ابتدائی کام کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
مگر حکمرانوں کے وعدوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہی رہاہے۔
دھان کی کاشت۔۔۔ سنگین مسائل
دھان کی کاشت پر ہونے والے اخراجات میں بھاری اضافہ ہو چکا ہے۔ بجلی اس قدر مہنگی کر دی گئی ہے کہ طویل لوڈ شیڈنگ کے باوجود ٹیوب ویلوں پر 60ہزار سے ایک لاکھ روپے کے بل آرہے ہیں جس کا غریب کسان متحمل نہیں ہوسکتا۔ تیل کی قیمت عالمی منڈی میں 110ڈالر بیرل سے40ڈالر تک آجانے کے بعد بھی ہمارے حکمرانوں نے پچیس تیس فیصد سے زیادہ کمی کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔
اسی طرح کیمیاوی کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے علاوہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زرعی ادویہ کے نرخوں میں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کے کے باعث جب کاشتکار کو خون پسینہ کی کمائی کے معاوضہ میں 50فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑے گا تو 70فیصد زرعی آبادی کی معاشی تباہ حالی کی شدت کا ابھی سے اندازہ لگا لینا چاہیے۔
اس سے موجودہ حکمرانوں کے بارے میں اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ اپنے دوراقتدار میں زراعت اور زراعت پیشہ آبادی (کسان، مزدور)کو بری طرح نظر انداز کرتے ہیں۔اب توچاول کے تاجر، شیلر مالکان اور برآمدکنندگان بھی اسی بحران کی لپیٹ سے محفوظ نہیں رہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ سرکاری خزانہ کو قریباً 3ارب ڈالر سالانہ غیر ملکی زرمبادلہ کے کھو دینے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

بحران کی وجوہات اور حل
چاول کی ملکی پیداوار کا بیشتر حصہ برآمد ہوتا ہے لیکن ہمارا چاول دنیا بھر میں منفرد حیثیت کا حامل ہونے کے باوجود اس وقت عالمی منڈی میں پذیرائی حاصل نہیں کر رہا حالانکہ برآمدات کے فروغ کیلئے ٹریڈ ڈیوپلمنٹ اتھارٹی آف پاکستان(TDAP)کے نام پر بھاری بھر کم ادارہ موجود ہے جو سفید ہاتھی ثابت ہورہا ہے۔
وزارت تجارت بھی برآمدی تجارت کی حوصلہ افزائی کیلئے ہی قائم کی گئی ہے۔مگراس اہم جنس کی برآمد میں ناکامی ان اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
چاول کی برآمدی تجارت میں حالیہ جمود کی دو بڑی وجوہات ہیں۔1:بین الاقوامی منڈی میں زبردست مسابقت کی وجہ سے تجارتی مال کی کوالٹی کا عمل دخل بہت بڑھ چکا ہے جو ممالک معیاری مال تیار کرنے پر خصوصی اور مسلسل توجہ دیتے ہیں ان کا مال ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اور اچھی تجارتی ساکھ بھی قائم ہوجاتی ہے لیکن جس ملک کے مال کی کوالٹی مشکوک قرار دے دی جائے اس پر عالمی تاجروں کا اعتبار اٹھ جاتا ہے اور تحفظات پیدا ہوجاتے ہیں۔
بدقسمتی سے اس قسم کا تاثر پاکستانی چاول کے بارے میں بھی پایا جاتا ہے جس کا دور کیا جانا ہمارے تاجروں برآمدی اداروں اور سیاسی قیادت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔2:دوسری وجہ ہماری اجناس کی بھاری پیداواری لاگت (Cost of Production)ہے جس کے باعث وہ دوسرے ممالک کی مقابلتاً سستی اجناس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ جہاں امریکہ اور یورپی یونین کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک اپنے کاشتکاروں کو اربوں ڈالر کی سب سڈی دے رہے ہیں وہاں بھارت جیسا ایشیائی ملک ہماری نسبت اپنے کسانوں کو سستی بجلی کھاد ادویہ مہیا کرکے ہمیں بین الاقوامی منڈی میں بری طرح مات دے رہا ہے۔

اصلاح احوال
اس صورتحال کا نتیجہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 70فیصد زرعی آبادی کے دیوالیہ ہونے کا حقیقی خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ جس کے انتہائی خوفناک معاشی و سماجی (شاید سیاسی بھی)اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کسان حکومتی پالیسی سے سخت بیزار سراپا احتجاج ہیں اور سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ موجودہ زرعی پالیسی پر جسے کسان دشمن پالیسی قرار دیا جارہا ہے، مکمل نظر ثانی کرے۔
وزارت تجارت ٹڈاپ(TDAP)اور سفارت خانوں کو متحرک کر کے چاول کا تمام تر سٹاک ہنگامی بنیادوں پر برآمد کرنے کا ٹاسک دے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موثر نظام بنائے۔خواہ اس پر زراعانت(Subsidy) ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ دھان کی امدادی قیمت 2500/-روپے من اور نان باسمتی 1200/-روپے من مقرر کر کے پاسکو، ٹریڈنگ کارپوریشن (TCP)کے ذریعے خریداری کی ضمانت دے تاکہ70فیصد زرعی آبادی کے معاشی انہدام اورغربت میں مزید اضافے کا جو خطرہ صاف نظر آرہا ہے اس کا بر وقت ازالہ ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-02

(0) ووٹ وصول ہوئے