بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نئے شدت پسندوں کے انسداد کی حکمت عملی کیا ہو گی؟
عرب جنگجوؤں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی اکثریت اب غیر فعال ہو چکی ہے لیکن وسط ایشائی دہشت گرد پوری شدت سے پاکستانی علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔
سہیل عبدالناصر:
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن زور و شور سے جاری ہے۔ فوج کا شعبہ تعلقات عامہ روزانہ دھشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات فراہم کر رہا ہے۔ قومی سطح پر بھی اس آپریشن کی حمائت میں سیاسی جماعتوں کے اعلانات اور دینی جماعتوں کے فتوے سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ فوجی کارروائی کے علاقہ میں بھاری توپخانہ اور ٹینک بھی پہنچا دئے گئے ہیں۔
سفارتی سطح پر بھی آپریشن کے حوالہ سے زبردست سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ قوم پرست پشتون راہنماء محمود خان اچکزئی اور خارجہ سیکرٹری اعزاز چوہدری نے حامد کرزئی کے ساتھ ملاقاتوں کیلئے کابل کا دو روزہ دورہ کیا۔ پاکستان میں متعین افغان سفیر نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ ملاقات کی۔ ملک بھر میں سیکورٹی کے نئے انتطامات کئے گئے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ردعمل کا فوری جواب دیا جا سکے۔
تاہم پشاور ائر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے پر فائرنگ اور ایک مسافر خاتوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن بجا لیکن دہشت گردی کے خونی عفریت کے پنجے ملک بھر میں گڑہے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ملک بھر سے اس عفریت کا کیسے خاتمہ کیا جائے گا اور اس بھی اہم سوال یہ ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے پس پردہ کارفرما وجوہات کا کب تجزیہ کیا جائے گا اور یہ اسباب و وجوہ کب اور کیسے ختم کی جائیں گی۔
اس آپریشن کے نتیجہ میں قومی امید ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک ٹوٹ جائے گا۔ قیادت ماری جائے گی تتر بتر ہو جائے گی لیکن نئے لوگوں کو شدت پسندی کی راہ پر چلنے سے کیسے روکا جائے گا اور زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں کی ذہنی و نفسیاتی تربیت کس طرح کی جائے گی کہ وہ آئندہ اس راہ پر چلنے سے توبہ کر لیں؟
شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والوں کے مسائل اب انسانی المیہ کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں مسلہ کی شدت کا ادراک نہیں کر رہیں۔ بے گھر ہونے والوں کو نقل مکانی کیلئے ٹرانسپورٹ میسر نہیں تھی۔ سرکاری کیمپوں میں انسانوں کے بجائے حشرات الارض کے رہن سہن کیلئے حالات زیادہ سازگار ہیں۔ ان کیمپوں میں اس اعتبار سے بھی نہیں رہا جا سکتا کہ وہاں نہ پردہ کرنا ممکن اور نہ مخلوط قیام سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ دیندار اور غیور پشتون قبائل ایسے ماحول میں کیسے رہ سکتے ہیں؟ بے گھروں کی اکثریت بنوں کا رخ کر رہی ہے جہاں شدید گرمی ہے۔
پینے اور دیگر استعمال کیلئے پانی دستیاب نہیں۔ عورتوں اور بچوں میں تیزی سے بیماریاں پھیل رہی ہیں جو یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ فوجی کارروائی کے آپریشنل پہلوؤں کے بارے میں شائد خوب منصوبہ بندی کی گئی لیکن اس آپریشن کے انسانی پہلو پر کوئی غور نہیں کیا گیا اور متاثرین اب اللہ کے آسرے پر پڑے ہوئے ہیں۔
متاثریں کے انخلاء سے اب شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے قیام کے بارے میں بھی ہوش ربا داستانیں سامنے آ رہی ہیں۔
عرب جنگجوؤں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی اکثریت اب غیر فعال ہو چکی ہے لیکن وسط ایشائی دہشت گرد پوری شدت سے پاکستانی علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے کہ یہ دہشت گرد پہاڑوں اور غاروں کے بجائے گلیوں اور محلوں میں تعمیر شدہ مکانات میں پرتعیش انداز زندگی کے مزے لیتے رہے ہیں لیکن برسوں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ دہشت گرد مقامی افراد کے کرایہ دار تھے۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں گھومتے پھرتے تھے۔ ان کے گھروں میں الیکٹرانکس کا قیمتی سامامان اور فرنیچر موجود تھا۔ برس ہا برس سے وہ پورے اعتماد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقیم رہے لیکن ان دہشت گردوں اور ان کے مقامی میزبانوں کے خلاف کبھی کسی کارروائی کی اطلاع منظر عام پر نہیں آئی اس کے برعکس تاثر یہ ملتا تھا کہ وسط ایشیائی دہشت گرد انتہائی کوش ہیں، چھلاووں کی مانند رہتے ہیں اور ان کا سراغ لگانا اور پیچھا کرنا شائد ممکن نہیں لیکن اب مقامی افراد انکشاف کر رہے ہیں کہ ان غیر ملکی دہشت گردوں کی اپنی بستیاں ،محلے اور گروہ تھے جن کا سراغ لگانا اور ان کا انسداد کرنا ناممکن نہیں تھا۔

بتایا یہ گیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن حکومت کی ہدائت پر شروع کیا گیا لیکن کہیں بھی وفاقی حکومت کا کردار دکھائی نہیں دے رہا۔ آپریشن میں پیشرفت کی اطلاعات تو بہر حال فوج کا شعبہ تعلقات عامہ ہی دے رہا ہے لیکن متاثرین کیلئے امداد کی وصولی، امدادی مراکز کا قیام ، دوست ملکوں کے سفارتخانوں سے روابط،متاثرین کیلئے امداد کی اپیل کہیں بھی وفاقی حکومت کی سرگرمی نظر نہیں آتی اور ہر جگہ آئی ایس پی آر فعال دکھائی دیتا ہے۔
حکومت کو اس آپریشن کی اونر شپ لینے کیلئے آگے بڑھنا ہو گا۔ وزیر اعظم نے سیفران کے وزیر لیفٹننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کو متاثرین کے امدادی کاموں کا نگران مقرر کیا ہے۔ ان کی صدارت میں کچھ اجلاسوں کی خبریں میڈیا میں آئیں لیکن اتنا کافی نہیں ہے۔ اطلاع تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف شمالی وزیرستان کا دورہ کریں گے، شمالی وزیرستان نہ سہی، وزیر اعظم کم از کم بنوں ضرور جائیں جہاں وہ بے گھروں کی حالت زار بچشم خود دیکھ سکیں گے۔

بعض وفاقی وزراء خصوصاً وزیر دفاع خواجہ آصف کے آپریشن ضرب عضب کے حوالہ سے بیانات دیتے ہوئے محتاط رہنا ہو گا ورنہ اس آپریشن کو متنازعہ بنانے اور ایک غیر ضروری بحث چھیڑنے کے ذمہ دار قرار پائیں گے۔ وفاقی وزیر نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ روس کے خلاف افغانستان میں جدوجہد جہاد نہیں تھا بلکہ سی آئی کی فنڈنگ سے لڑی جانے والی لڑائی تھی۔ ان کے بیان پر ردعمل میں آپریشن ضرب عضب کی فنڈنگ کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزراء کو اہم قومی ایشوز پر انتشار پیدا کرنے کئے بجائے قومی مفاہمت اور اتفاق رائے کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان