بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مذاکرات اور فوجی آپریشن اپنی جگہ لیکن…
انصاف کی حکمرانی مسائل کا بہترین حل ہےہماری ریاستی مشینری کو سب سے زیادہ توجہ اپنی سراغ رسانی کی صلاحیتوں کو بہتر کرنے پر دینی چاہیے۔ ملک کےچپےچپے کوچھان کریہ دیکھاجائے کہ دہشتگردوں کے ”گھونسلے“کہاں کہاں ہیں؟
لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم:
بدترین داخلی بد امنی اور دہشت گردی کی قابل مذمت وارداتوں پر قابو پانے کیلئے مذاکرات اور پرامن کا دشوں پر چلنے کا حکومتی فیصلہ ہی قابل تحسین دانشمندی ہے لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ منزل مقصود کی طرف جانے وال یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ ایک خارزار ہوگا کیونکہ حکومت کا واسطہ کسی مہذب ریاست یا ایسے قبیلے سے نہیں جو انصاف پسندی، انسانی تکریم یا اخلاقات کے اعلیٰ اصولوں کی پاسداری کیلئے مشہور ہو۔
پاکستان کا واسطہ دراصل ان لوگوں سے ہے جو خود ہی مدعی، خود ہی منصف اور خود ہی جلاد کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ دورا یہ بھی ذہن میں رکھا جائے کہ پاکستان دشمن طاقتوں کو قبول نہیں ۔ اس لئے وہ ہر اس جگہ پر تیل چھڑکیں گے جہاں دہشت گردی کی جنگ کے شعلے بجھنے کا امکان پیدا ہوجائے۔ اس لئے ڈرون حملے، خودکش دھماکے یا کسی بھی مجرمانہ کارروائی کی شدید مذمت اور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہوئے بھی مسئلہ کے سیاسی حل کیلئے دروازے کھلے رکھے جائیں۔
دہشت گردوں کی کراچی پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے جوانوں کے خلاف بربریت کو ناقابل برداشت سمجھ کر جو لوگ مذاکرات بند کر کے فوری فوجی ایکشن کا مطالبہ کررہے ہیں، انکی حب الوطنی کو تو ہم سلام پیش کرتے ہیں لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ افواج پاکستان کے مزید دو یاتین ڈویژنز اندرون ملک پھنسا دینا پاکستان دشمن قوقتوں کیلئے بہت بڑی خوشخبری ہو گی۔
اس کے علاوہ یہ سمجھا بھی ضروری ہے کہ ہمیں ایک بے چہرہ دشمن کا سامنا ہے جس کی کمین گاہیں پاکستان کے پانچوں صوبوں کے علاوہ افغانستان میں بھی ہیں، ہاں پاکستان تو کیا افغانستان اور نیٹو افواج کی رسائی بھی تاحال ناممکن ہے۔
سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے درست کہا تھا کہ قبائلی پٹی کے کچھ علاقوں کو مکمل چھاننے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی شاید 40فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔
تحریک انصاف کے قائد عمران خان بدقسمتی سے اس کو غلط سمجھنے اور بیان داغ دیا کہ افواج پاکستان کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی کامیابی کے امکانات صف 40فیصد ہیں۔ یہ سراسر غلط بات ہے کیونکہ دنیاکی بہترین فوج ملک کے اندر جہاں بھی آپریشن کرے گی اس کی کامیابی کے امکانات سو فیصد ہی ہوں گے۔ سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ فوجی آپریشن کئے بغیر دہشت گردی کی جنگ کو جیتا جاسکے تاہم اس سے کوئی ایسی غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری افواج کی صلاحیتوں میں کوئی کمی ہے۔
افواج آپریشن کیلئے ہر وقت تیار ہیں مگر فوی آپریشن مسائل کا حل نہیں۔
ہماری ریاستی مشینری کو سب سے زیادہ توجہ اپنی سراغ رسانی کی صلاحیتوں کو بہتر کرنے پر دینی چاہیے۔ ملک کے چپے چپے کو چھان کر یہ دیکھا جائے کہ دہشت گردوں کے ”گھونسلے“ کہاں کہاں ہیں؟ ان میں پلنے والے ”شِکروں“ کی تعداد کیا ہے؟ اور ان کا ”دانہ پانی“ کہاں سے آتا ہے؟ مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے کینسر کی نوعیت کیا ہے؟ ان کے ذرائع رسل و رسائل اور پیغام رسانی کے طریقے کیا ہیں؟ سراغ رسانی اتنی موٴثر ہو کہ واردات سے پہلے یہ پتہ چل سکے کہ دہشت گرد کہاں واردات کرنے والے ہیں اور ن کو بروقت روکنے کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔

سراغ رسانی کے ادارے ہماری آنکھیں اور کان ہیں، ان کی بہتریں قوت بینائی اور اعلیٰ استعداد ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ازحد ضروری ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نہایت قابل تعریف کارکردگی کے باوجود اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودی، ریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں خونیں واردات، بلیک واٹر کو پاکستان کی سڑکوں پر اسلحے سمیت پھرنے کی کھلی چھٹی، کامرہ، مہران اور جی ایچ کیو پر حملوں کی وارداتیں اور بیرونی جاسوسوں کیلئے بغیر روک ٹوک ویزوں کے اجرا نے قوم کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہمیں ان وارداتوں کا بروقت علم کیوں نہ ہوسکا؟ پولیس کالج سہالہ میں ہم نے اپنی پولیس کی تربیت کی آڑ میں بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پانچ سال تک بٹھائے رکھا، ہمیں ہوش اس وقت آیا جب سہالہ پولیس کالج کے کمانڈنٹ نے بتایا کہ میرے ادارے میں قائم بیرونی عناصر کے احاطے میں مجھے بھی داخلے کی اجازت نہیں ۔
کہوٹی ایٹمی پلانٹ کے پڑوس میں جاسوسی کا یہ اڈا پانچ سال تک کیوں کام کرتا رہا؟ دارصل گزشتہ عشرے میں حاکم اپنے اقتدار کو بچانے اور اس کی طوالت کیلئے اپنی قومی عزت ، وقار اور سلامتی کا سودا کرتے رہے۔ صرف این آر او کو ہی لے لیں، یہ اقتدار کی بدنر بانٹ کا بہت ہی گھناؤنا کھیل تھا جس میں دجنوں لوگوں کے قاتل بھی بچ نکلے۔ سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں 6کروڑ ڈالرز کی پاکستان سے لوٹی ہوئی خطیر رقم کدھر چلی گئی؟ سرے محل کی خریداری پر خرچ ہونے والے کئی ملین دالرز کہاں سے آئے؟ وزیروں کے اکائنٹس میں کروڑوں روپے کس غیبی خزانے سے منتقل ہوئے؟ کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ سوچ بھی جاسکتا ہے کہ جعلی ڈگریوں والے پارلیمان کے رکن بن جائیں؟ ان پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے بلکہ وہ دوبارہ بھی منتخب ہوکر اسمبلی پھر پہنچ جائیں، کیا ووٹوں کے زور پر اگر ایک جعلساز پارلیمان کا رکن، وزیر، وزیر اعظم یا صدر بن جائے تو قانون حرکت میں نہیں آنا چاہیے؟ امریکی صدر نکسن سب سے زیادہ ووٹ لے کر واضح اکثریت سے دنیا کی مضبوط ترین ریاست کے صدر تو منتخب ہوگئے لیکن جب واٹر گیٹ سکینڈل سامنے آیا تو کیا امریکی قوم نے یہ کہا کہ دنیا کے اس چوٹی کے دانشور، محقق، مدبر اور مصنف کو چونکہ عوام نے منتخب کیا ہے اس لئے اس کے اخلاقی جرم کو نظر انداز کردیا جائے؟ اس کے برعکس رچرڈ نکس کو عہدہ صدارت سے مستعفیٰ ہونا پڑا اور یہ ثابت ہوگیا کہ قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے عوامی مقبولیت کوئی جواز نہیں۔
شتر مرغ کی طرح ریت میں سرچھپانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا ہوگا۔ نظام حکومت انصاف پر مبنی ہو، انٹیلی جنس ادارے برق رفتاری سے کام کریں، پولیس کو از سرنو منظم کیا جائے تو حالات ضرور بہتری کی طرف آسکتے ہیں۔ ملک کا واحد بہترین ادارہ بلاشبہ فوج ہی ہے اور اس کو ملک کے اندر استعمال کرنے یا اپنے ہی لوگوں کیخلاف صف آراء کرنے سے اجتناب میں ہی پاکستان کی فلاح ہے اور یہ صرف اس صوت میں ممکن ہے جب سول ادارے اپنا بوجھ موٴثر طریقے سے خود اٹھائیں۔ ان ساری باتوں کا داارومدار ملک میں انصاف اور احتساب پر مبنی قانون کی حکمرانی پر ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان