بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مذاکرات کی کنجی کس کے پاس؟
طالبان سے مذاکرات کی آنکھ مچولی
عمران خان کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی بھرپور حامی ہیں اور حکومت پر تاخیر برتنے کا الزام عائد کر رہی ہیں
سہیل عبد الناصر:
بری فوج اور ایف سی کے خلاف دھشت گردوں کی طرف سے حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ایک بار پھر شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کا معاملہ ہر سطح پر موضوع گفتگو بن چکا ہے۔ عمران خان کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی بھرپور حامی ہیں اور حکومت پر تاخیر برتنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ حکمران مسلم لیگ اس معاملہ پر اپنے موقف کو بین السطور رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو ایک وقت بہت پرجوش تھے، دو روز پہلے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ مذاکرات کی چابی پتہ نہیں کس کے پاس ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کھلے عام شدت پسندوں کو للکار رہے ہیں جب کہ عوامی نیشنل پارٹی مذاکرات کی بات کرتی ہے لیکن ساتھ ہی شدت پسندوں کو دشمن بھی گردان رہی ہے۔
زیر نظر ان سطور سے واضح ہو جاتا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش سب سے بڑے خطرہ کا تدارک کرنے کیلئے سیاسی سطح پر کوئی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ سماجی سطح و مذھبی سطح پر بھی یہی صورتحال ہے۔ کچھ حلقے شدت پسندوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور کچھ ببانگ دھل انہیں موذی قرار دیتے ہیں۔ اس معاملہ کی پیچیدگی یہیں تک محدود نہیں بلکہ علاقائی و عالمی طاقتوں کی مداخلت صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔
اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ ایک ڈرون حملہ میں حکیم اللہ محسود کو ہلاک نہ کر دیتا تو اب تک حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات نہ صرف شروع ہو چکے ہوتے بلکہ پیشرفت کا بھی امکان تھا کیونکہ حکیم اللہ نے اپنی ہلاکت سے پہلے ایک مصالحت کار کو جوابی خط میں مذاکرات کیلئے مثبت جذبات کا اظہار کیا تھا۔
دھشت گردوں کے مسلسل حملوں کے باعث مذاکرات کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
بنوں میں تیئس اہلکاروں کی شہادت کے اگلے ہی روز جی ایچ کیو کے پڑوس میں چھ فوجی اہلکاروں کو خود کش حملہ میں شہید کر دیا گیا۔ مذاکرات کے بارے میں فوج کی رائے دو ٹوک انداز میں کبھی سامنے نہیں آئی لیکن ان حملوں کے باعث فوج کے دھشت گردوں سے مذاکرات پر یقیناً تحفظات ہوں گے۔ تمام تر خراب صورتحال کے باوجود بہر حال ایک پیشرفت باعث اطمینان ہے اور وہ یہ کہ انسداد دھشت گردی کی کوششوں کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت میں ایک سیکورٹی ڈویڑن قائم ہو گیا ہے۔ کابل میں پاکستان کے سفیر محمد صادق اس کے پہلے سیکرٹری مقرر ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ ملک کی چھبیس انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایک ہی ڈائریکٹوریٹ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔ کابینہ کی دفاع کمیٹی کی جگہ قومی سلامتی کمیٹی بھی بن چکی ہے اور دھشت گردی کے ناسور کے علاج کیلئے پیر کے روز اس کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی پہلی سلامتی پالیسی کا مسودہ بھی پیش کر دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مجوزہ پالیسی کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے میڈیا کو بتایا تھا کہ انسداد دھشت گردی کی قومی اتھارٹی قائم کی جائے گی۔قومی سلامتی پالیسی،خفیہ،سٹریٹجک اور آپریشنل کے تین اجزاء پر مشتمل ہو گی۔دھشت گردی کے کسی بھی واقع سے نمٹنے کیلئے ایک سریع الحرکت فورس تیار کی جا رہی ہے جسے فضائی مدد بھی حاصل ہو گی۔

پے درپے حملوں کے باوجود دوسری اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ ٹی ٹی پی کے ترجمان نے تنظیم کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس ھوالہ سے جاری کردہ ان کے تحریری اور ویڈیو بیان میں حکومت کی طرف سے اخلاص اور بااختیار ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے بات چیت کے بارے میں ایک واضح بیان سامنے آیا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ مسلسل دو روز کے دوران دھشت گردی کی دو بڑی وارداتوں کے بعد اس اعلان پر حکومت کا کیا ردعمل ہو گا۔ ایک مستند ذریعہ نے یہ بات نہائت وثوق سے کہی ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملہ میں ہلاکت کے بعد شدت پسندوں کا مورال کم ہوا ہے۔حکومت کے نکتہ نظر سے اگرچہ یہ ایک مثبت علامت ہو سکتی ہے لیکن مذاکرات کو پہنچنے والے دھچکہ نے اس افادیت کو کم کر دیا ہے۔
مذاکرات کے حوالہ سے صورتحال کا تجزیہ کرتے وقت دو بنیادی حقائق ضرور مدنظر رکھے جائیں۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ حکیم ا للہ محسود کی ہلاکت کے بعد شدت پسندوں کا حوصلہ اور مورال کافی کم ہوا ہے۔ بیت اللہ کی مانند حکیم ا للہ کا بھی تنظیم میں ایک دبدبہ تھا یہ دبدبہ نئی قیادت کو نصیب نہیں۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ بعض گروپوں کی مخالفت کے باوجود مجموعی طور پر شدت پسند اب بھی حکومت کے ساتھ بات چیت کے حامی ہیں اور حکیم ا للہ محسود نے ہلاکت سے پہلے حکومتی پیشکش کے جواب میں جو تحریری جواب بھجوایا تھا ،غیر رسمی طور پر اس سلسلہ میں مزید پیشرفت ہوئی ہے تاہم اس ساری صورتحال میں مولانا سمیع الحق سمیت دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کوئی کردار نہیں۔
شدت پسند حلقوں میں مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق کی ساکھ ایک سوالیہ نشان ہے۔ مولانا سمیع الحق کے مدرسہ کے دو اساتذہ اور چند دیگر شخصیات بلاشبہ شدت پسندوں کیلئے محترم ہیں اور بات چیت کی ابتدائی کوششوں میں مذکورہ شخصیات بھی مصالحت کاروں میں شامل تھیں لیکن اب بداعتمادی بہت بڑھ گئی ہے۔ حالات مزید بدل گئے ہیں۔ حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد عملاً تنظیم کی قیادت میں صرف دو بنیادی تبدیلیاں رونماء ہوئی ہیں۔
حکیم ا للہ کی جگہ فضل اللہ اور معاون کے طور پر خالد شیخ جو خالد خراسانی کے نام بھی معروف ہے کو نیا ذمہدار مقرر کیا گیا ہے۔ شوری وہی پہلے والی ہے۔فضل ا للہ مذاکرا ت کے مخالف سہی لیکن ان کے نائب نے اپنے احباب کے ساتھ ذاتی اور غیر رسمی نوعیت کے رابطوں میں بات چیت کے بارے میں مثبت رویہ کا اظہار کیا ہے۔ جہاں تک ارکان شوری کا تعلق ہے تو وہ حکیم ا للہ کے وقت سے بات چیت کی حامی رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ تمام متقدر حلقے شدت پسندوں کے کم مورال سے فائدہ اٹھاتے اور شدت پسندی کے خاتمہ کیلئے متفقہ حکمت عملی وضع کر لی جاتی لیکن قیمتی وقت ضائع کیا گیا جس کے دوران دھشت گردی کی دو بڑی وارداتیں ہو گئیں۔ اب بھی باقی ماندہ مہلت سے استفادہ نہ کیا گیا تو شدت پسندوں کے بکھرے گروپ پھر منظم ہو جائیں گے اور کوئی بعید نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا مورال پھر بلند نہ ہو جائے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت شدت پسندوں کی صفوں میں اتحاد مفقود ہے۔انہیں رقوم کی کمی کا سامنا ہے۔پناہ گاہیں بتدریج ختم ہو رہی ہیں۔ شدت پسندوں سے مذاکرات کرنے ہیں یا ان کے خلاف کارروائی کرنی ہے،دونوں کاموں کیلئے یہ موزوں وقت ہے۔ اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ کہ ٹی ٹی پی کے نئے سربراہ فضل ا للہ ابھی تک تنظیم کے لیڈر سے قریبی رابطہ استوار نہیں کر سکے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں مختصر قیام کے بعد وہ افغان صوبہ کنڑ واپس جا چکے ہیں۔ مختلف قبائلی ایجنسیوں کے ذیلی گروپ اپنے طور پر کارروائیں کر رہے ہیں۔ تنظیم پاکستان کے اندر کارروائیوں کی استعداد برقرار نہیں رکھ سکی اب صرف پنجاب سے تعلق رکھنے والے شدت پسند انٹیلی جنس اور چھاپہ مار کارروائیوں کیلئے واحد مئوثر ذریعہ ہیں۔
بیت اللہ محسود کے زمانہ میں تنظیم مالی طور پر خود کفیل رہی ہے۔حکیم اللہ کے دور میں بھی حالات برے نہیں تھے لیکن اب تنظیم کے مالی وسائل بتدریج سکڑ رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں تواتر سے فوجی کارروائیوں کے باعث پناہ گاہیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ اب ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ ٹی ٹی پی یا اس کے بڑے ذیلی گروپوں کے ساتھ بات چیت بھی کی جا سکتی ہے اگر فوجی کارروائی کرنی ہے تب بھی یہ موزوں وقت ہے کیونکہ حکیم اللہ کی موت کے دھچکہ سے سنبھلنے کے بعد ٹی ٹی پی پہلے جیسا بڑا چیلنج بن جائے گی۔
اس ذریعہ کے مطابق ایسا بھی نہیں کہ ٹی ٹی پی مکمل طور پر حکومت سے مذاکرات کی مخالف ہے۔ فضل اللہ کے نائب سمیت کئی اہم راہنماؤں نے غیر رسمی رابطوں کے دوران بات چیت کے حق میں رائے دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ رواں سال افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے انخلاء کے بعد اس جنگ زدہ ملک میں سلامتی کی صورتحال مکمل طور پر بدل جائے گی اور نئے منظر نامہ میں پاکستانی شدت پسند گروپوں کو افغانستان میں نئے میزبان ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-22

(0) ووٹ وصول ہوئے