بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مشرف غداری کیس
یہ ”انصاف“ کا امتحان ہے
جنرل مشرف کے خلاف غداری کیس کے ساتھ ہی پنڈورا بکس کھل چکا ہے۔ جنرل مشرف کے حامی کھل کر میدان میں اتر چکے ہیں ۔ ان کی بیماری کو بنیاد بنا کر ملک سے باہر بھیجنے کی کوشش تو اپنی جگہ

اسعد نقوی:
جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ شرع ہوتے ہی اس معاملے کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ایک طرف فوج کے منفی رد عمل سے ڈرانے کی کوشش ہے تو دوسری طرف لفظ ” غداری“ کی مملکت کے خلاف جرم میں بدلنے کیلئے آئینی مسودہ جمع کروایا جارہا ہے۔ تیسری طرف ایک اور ہی کہانی گردش کرر ہی ہے جس کے مطابق پرویز مشرف کو باحفاظت ملک سے باہر بھیجنے کا فامولا طے پاگیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نازک صورتحال میں پوائنٹ سکورنگ کی بجائے پاکستان کی بہتری کا سوچا جائے۔ پرویز مشرف عدالت میں صرف ایک ملزم ہیں جنہیں اپنا دفاع کرنا ہے۔ یہ پرویز مشرف یا حکومت کا نہیں بلکہ ”انصاف“ کا امتحان ہے۔
جنرل مشرف کے خلاف غداری کیس کے ساتھ ہی پنڈورا بکس کھل چکا ہے۔ جنرل مشرف کے حامی کھل کر میدان میں اتر چکے ہیں ۔
ان کی بیماری کو بنیاد بنا کر ملک سے باہر بھیجنے کی کوشش تو اپنی جگہ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 6اور ”غداری“ کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔ ایک طرف یہ کہہ کر ڈرایا جارہا ہے کہ فوج اسے پسند نہیں کرے گی اور حکومت کا تخت الٹا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف پرویز مشرف کو فوج کا سپہ سالار کہہ کر فوج کے جذبات ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس ساری صورتحال کا اصل مقصد ابہام پیدا کرنا اور معاملات کو مزید پیچیدہ بنانا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ غداری کا مقدمہ کس پر چلایا جارہا ہے؟ پاک فوج پر یا جنرل پرویز مشرف پر؟ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ یہ مقدمہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل پرویز مشرف پر چل رہا ہے یا آل پاکستان مسلم لیگ نامی سیاسی پارٹی کے سربراہ پر؟ اس مقدمے کے آصل مقاصد کو بھی دیکھنا ہوگا ۔
سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد فرد واحد پرویز مشرف کو پھانسی دینا ہے یا مستقبل میں آئین شکنی کا راستہ بند کرنا ہے؟ یاد رہے کہ یہ مقدمہ عدالتی تاریخ کا حصہ بنے گااور اس میں جو فیصلہ سنایا جائے گا وہ بعد میں ایسے مقدمات کے دوران بطور حوالہ پیش کیا جائے گا۔ اس لئے یہ انتہائی حساس نوعیت کا مقدمہ ہے جسے کسی نتیجے پر پہنچنے تک آئینی اور قانونی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شفاف انداز سے آگے بڑھانا بہت ضروری ہے۔

آئینی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فوج کا سپہ سالار تو سیاسی جماعت تشکیل دے سکتا ہے اور نہ جماعت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس لحاظ سے آل پاکستان مسلم لیگ کی تشکیل کے بعد پرویز مشرف کی سرکاری حیثیت پر مہر لگ چکی ہے اور اب وہ عوامی نمائندے کے طور پر میدان میں اترے ہیں۔ پاک فوج کے آرمی چیف کی حیثیت سے انہیں جو اعزاز ملا اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اب ان کا شمار ”سابقین“ میں ہوتا ہے۔
اب نہ تو آئینی طور پر وہ فوج کو کوئی حکم دے سکتاہے اور نہ ہی آرمی چیف کو ملنے والا پروٹوکول انہیں مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس وہ عملی طور پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور انتخابات میں اس جماعت کی کامیابی کی صورت میں پاکستان پر دوبارہ حکومت کر سکتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بہر حال پاک فوج کے سربراہ رہے ہیں، بطور آرمی چیف ان کی جبری ریٹارئمنٹ کے احکامات کو ان کے جونیئر افسروں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
ان کی وجہ سے ملک کے منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹا گیا تھا۔ ان کے بعد آنے والے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی یہ بات سمجھتے تھے کہ غداری کا مقدمہ فوج پر نہیں بلکہ ایک شخص پر چلنا ہے۔ اس لئے انہوں نے اس ھوالے سے مشرف کو اپنا کندھا پیش کرنے سے انکار کردیا تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ اشفاق پرویز کیانی کے بعد آنے والے دیگر جنرل اور افسران بھی یہی سمجھتے ہوں۔
اگر سابق جنرل پرویز مشرف پر مقدمے پر پاک فوج بھڑک اٹھی تو صورتحال خراب ہوسکتی ہے اور معاملات اس سطح تک بھی پہنچ سکتے ہیں جہاں 1999ء میںآ پہنچے تھے۔
بظاہر اس دو رخی صورحال کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے۔ پاک فوج کے جوان اور جونئی افسر مذہب اور حب الوطنی کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں۔ وطن کیلئے مر مٹنے کا جذبہ ان میں عام پاکستانیوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
مورچے میں بیٹھنے والا سپاہی اپنے گھر والوں سے زیادہ اپنے وطن کا سوچتا ہے۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی۔ یہ پالیسی امریکی عینک لگا کر بنائی گئی تھی جس کی وجہ سے وطن عزیز میں ”فساد “ برپا ہوگیا ۔ اسی طرح لال مسجد سمیت دیگر کئی معاملات میں جنرل مشرف ایک ایسی انتہا پر چلے گئے جس سے فوج میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی۔
جنرل مشرف پر غداری کے مقدمے کی صورت میں فوج کی طرف سے شدید عمل سامنے آنے کی پیشن گوئیاں کرنے والوں کو یہ یاد نہیں کہ جنرل مشرف پر ان کے دور اقتدار میں قاتلانہ حملے کرنے والوں کا تعلق فوج سے ہی تھا۔ جنرل مشرف ان بم حملوں میں بچ گئے اور ملزمان میں سے کچھ گرفتارہ وئے۔ انہیں پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئیں لیکن جنرل مشرف کو خود بھی اندازہ تھا کہ ان سب ”دہشت گردوں“ کو پھانسی دینے سے مزید انتشار پیدا ہوسکتا ہے، اس لئے پھانسی کے ان مجرموں کو جیل میں بند کردیا گیا۔
کمانڈر عدنان انہی مجرموں میں سے ایک تھا جنہیں پھانسی کی سزا تو سنائی گئی لیکن پھانسی نہیں دی گئی۔ بعد میں اسی کمانڈر عدنان نے دو جیلوں پر حملے کرکے کئی دہشت گردوں کو رہا کروایا۔ جنرل مشرف کے حوالے سے اگر فوج نے اٹھ کھڑے ہونا ہوتا تو اسی وقت اٹھ کھڑی ہوتی جب مشرف کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت فوج کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ فوج اس معاملے سے الگ رہے گی۔
پاک فوج کے سابق جرنیلوں کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کا فوج کو انتہائی دکھ ہے اور اس حوالے سے بے چینی بھی پائی جاتی ہے لیکن فوج میں کہیں بھی اس حوالے سے کوئی شدید رد عمل ظاہر کرنے کے امکانات نظر نہیںآ رہے۔جنرل مشرف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر انہیں غداری کیس میں پھنسایا گیا تو وہ معاملات کو الجھانے کیلئے 1999ء سے مقدمہ شروع کرانے کی کوشش کریں گے تاکہ معاملات اس قدر الجھ جائیں کہ جنہیں سمیٹنا مشکل ہو۔
اب جنرل مشرف کے حامی اسی جانب اشارے کرتے نظر آرہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت کو لفظ ”غداری“ پر اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے مملکت کے خلاف جرم قرار دیا جائے۔ اس حوالیسے سینٹ میں قرار داد بھی پیش کردی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف جنرل مشرف کے لئے ہے یا کسی بھی غدار کیلئے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ وضح طور پر جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کیلئے محفوظ راستہ بن سکتا ہے۔

دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ مملکت کے خلاف جرم کی سزا کی اہوگی؟ کیا یہ وہی سزا ہوگی جو غداری کی صورت میں دی جاتی ہے یا پھر مملکت کے خلاف جرم کی سزا نرم رکھی جائے گی؟
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان سے باہر لے جانے پر اتفاق ہوچکا ہے۔ اب اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جانے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نازک مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیک ہولڈرز پوائنٹ سکورنگ کی بجائے پاکستان کے مفاد کا سوچیں۔
عدالت میں جنرل پرویز مشرف صرف ایک ملزم ہیں جنہیں اپنے اوپر عائد الزامات کا دفاع کرنا ہے اور عدالت کو انصاف پر مبنی فیصلہ سنانا ہے۔ اگر عدالتیں اس مقدمے میں سرخرو ہوئیں تو نہ صرف انکا وقار بڑھے گا بلکہ آنے والے دور میں آئین توڑنے والوں کا راستہ بھی بند ہوجائے گا۔ اگر اس مقدمے میں بھی وہی ہوا جس کی پیشن گوئیاں کی جارہی ہیں تو عوام کا انصاف پر سے اعتماد اٹھنا شروع ہوجائیگا ۔ یہ جنرل مشرف یا حکومت کا نہیں بلکہ انصاف کا امتحان ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-21

(1) ووٹ وصول ہوئے