بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملک بھر میں میڈیا پر بڑھتے حملے
پچھلی ایک دہائی میں 50سے زائد صحافی قتل کردئیے گئے! پچھلی ایک دہائی میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم 50سے زائد صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن کسی ایک صحافی کے بھی قتل پر کسی کو سزا نہیں ہوئی
رحمت خان وردگ:
پچھلی ایک دہائی میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم 50سے زائد صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن کسی ایک صحافی کے بھی قتل پر کسی کو سزا نہیں ہوئی اور ان کے قتل کے مقدمات کی فائلیں داخل دفتر کردی گئیں۔ 13جنوری 2011ء کو جیو ٹی وی کے 28سالہ رپورٹر ولی خان بابر کو کراچی میں اس وقت گھات لگا کر قتل کردیا گیا تھا جب وہ اپنی ڈیوٹی ختم کر کے اپنی رہائش گاہ کی جانب جارہے تھے۔
ولی خان بابر بلوچستان کے علاقے ژوب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے قتل کے چند ملزمان گرفتار ہیں اور عدالت میں مقددمہ زیر سماعت ہے مگر ان کے مقدمے کے وکلاء گواہ اور تفتیشی افسران کو چن چن کر قتل کیا جاچکا ہے اور اب ان کا مقدمہ کراچی سے دوسرے شہر منتقل کردیا گیا ہے۔
سماء ٹی وے کے کرائم رپورٹر سالک شاہ کے بھائی سرفراز شاہ کے قتل کی ویڈیو جوٹیج بنانے والے آواز ٹیلی ویژن کے کیمرہ مین عبدالسلام سومرو تھے جنہوں نے اس واقعے کی اتفاقیہ فوٹیج بنا کر نشر کردی تھی اور اب وہ بھی دباؤ کاشکار ہیں۔
ستمبر 2010ء میں دی نیوز کے صحافی عمر چیمہ کو اغواہ کرنے کے بعد زدو کوب کیا گیا تھا مگر ان کے اغواء اور بہیمانہ تشدد کے ذمہ داران کا اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ 2012ء میں وائس آف امریکہ کے رپورٹر مکرم خان عاطف کو قتل کردیا گیا تھا وہ شب قدر کے علاقے میں اپنے گھر کے قریب اقع مسجد میں مغرب کی نما زادا کررہے تھے کہ دو افراد نے ان پر گولیاں برسائیں۔
2011ء میں ”ایشیاء ٹائمز آن لائن“ کے پاکستانی نامہ نگار سلیم شہزاد کچھ دن لاپتہ ہوگئے اور پھر ان کی لاش ملی۔ 2009ء میں جیو اور جنگ کے سوات میں نامہ نگار موسیٰ خان خیل کو ہلاک کردیا گیا تھا۔
خیبر پختونخوا ہ میں شائع ہونے والے روزنامہ ”شمال“ کے 35سالہ رپورٹر ساجد تنولی کو 29جنوری 2004ء کو قتل کردیا گیا تھا۔ 7فروری 2005ء کو خیبر ٹی وی کے اللہ نور‘ ایسوسی ایٹڈ پریس ٹیلی ویژن نیوز اور فرنٹئیر پوسٹ کے امیر نواب کو قتل کردیا گیا تھا۔
29مئی 2006ء کو لاڑکانہ میں منیر احمد سانگی جن کا تعلق کاوش ٹیلی ویژن سے تھا انہیں لاڑکانہ میں دو گروپوں میں تصادم کے دوران گولی مار دی گئی تھی۔ 16جون 2006ء کو فری لانس صحافی حیات اللہ خان کو اغواہ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ 28اپریل 2007ء کو فری لانس صحافی محبوب خان کی ہلاکت چار سدہ میں ہوئی۔ 2جون 2007ء کو نور حکم خان جن کا تعلق ڈیلی پاکستان سے تھا۔
وہ ایک سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں باجوڑ کے علاقے میں ہلاک ہوئے۔ 3جولائی 2007ء کو جاوید خان جن کا تعلق روزنامہ مرکز اور ڈی ایم ڈیجیٹل سے تھا وہ لال مسجد آپریشن کے دوران اورفورسز اور لال مسجد کے محصور لوگوں کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آگئے تھے۔ 29اکتوبر 2007ء کو اے آر وائی کے کیمرہ مین محمد عارف بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد کی ریلی پرکارساز پر ہونیوالے بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
عارف خان انتہائی محنتی اور نڈر صحافی تھے۔ 23نومبر 2007ء کو زبیر احمد مجاہد جن کا تعلق روزنامہ جنگ سے تھا انہیں میر پور خاص میں موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔ 9فروری 2008ء کو اخبار جہاں کے رپورٹر اور کالم نگار چشتی مجاہد کو کوئٹہ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر سے نکل رہے تھے۔ 29فروری 2008ء کو سراج الدین نامی صحافی جن کا تعلق روزنامہ دی نیشن سے تھا‘ اس وقت نشانہ بنے جب وہ مینگورہ میں ایک اعلیٰ پولسی افسر کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے گئے اور بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔
22مئی 2008ء کو محمد ابراہیم جن کا تعلق ایکسپریس ٹی وی اور ڈیلی ایکسپریس سے تھا اور انہیں ایک انٹرویو سے واپسی پر باجوڑ کے علاقے کھار میں نشاہ بنایا گیا۔
29اگست 2008ء کو عبدالعزیز شاہین جن کا تعلق روزنامہ آزادی سے تھا اور انہیں سوات میں اغواء کے بعد ہلاک کردیا گیا تھا۔ 3نومبر 2008ء کو عبدالرزاق جوہرا جن کا تعلق رائل ٹی وی سے تھا انہیں میانوالی میں اپنی رہائش گاہ سے حملہ آوروں نے گھسیٹ کر باہر نکالا اور فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔
4جنوری 2009ء کو محمد عمران ایکسپریس ٹی وی اور طاہر اعوان فری لانس صحافی ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خود کش دھماکے کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔18فروری 2009ء کو موسیٰ خان خیل جن کا تعلق جیو ٹی وی اور دی نیوز سے تھا‘ انہیں سوات میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب صوفی محمد کی سربراہی میں ریلی کی کوریج کررہے تھے۔ 24اگست 2009ء کو جان اللہ ہاشم زادہ کو خیبر ایجنسی میں مسافر بس میں سفر کے دوران چار ساتھیوں سمیت نشانہ بنایا گیا۔
16اپریل 2010ء کو ملک عارف نامی سماء ٹی وی کے کیمرہ مین کوئٹہ کے ایک اسپتال میں دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ ملک عارف دھماکے کے زخمیوں کی کوریج کیلئے اسپتال پہنچے تھے کہ وہاں پر ایک اور دھماکے میں ہلاک کردئیے گئے۔ 17اپریل 2010ء کو عظمت علی بنگش سماء ٹی وی کے 34سالہ کیمرہ مین اور کزئی ایجنسی میں خوراک کی تقسیم کی تقریب کی کوریج کے دوران خود کش حملے میں ہلاک ہوئے۔

10مئی 2010ء کو غلام رسول برہمنی جن کا تعلق ڈیلی سندھو حیدرآباد سے تھا انہیں اپنے آبائی شہر واہی پنڈھی میں اغواء کے بعد ہلاک کردیا گیا۔ 28مئی 2010ء کو اعجاز الحق جن کا تعلق سٹی 42ٹی وی سے تھا لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہ پر حملے کی کوریج کے دوران ہلاک کیا گیا۔6ستمبر 2010ء کو سماء ٹی وی کے کیمرہ مین اعجاز رائے ثانی کوئٹہ کے ایک فوجی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے تھے۔
وہ اپنی موت سے 3دن قبل اہل تشیع کی ریلی میں بم دھماکوں میں زخمی ہوئے تھے۔ 14ستمبر 2010ء کو مصری خان جن کا تعلق روزنامہ اوصاف اور مشرق سے تھا اور انہیں ہنگو پریس کلب میں داخل ہوتے وقت فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔ 6دسمبر 2010ء کو عبدلاوہاب نامی صحافی جن کا تعلق ایکسپریس نیوز سے تھا‘ مہمند ایجنسی میں خود کش حملے کی نزر ہوئے۔ 13جنوری 2011ء کو ولی خان بابر جو کہ جیو ٹی وی کے رپورٹر تھے انہیں کراچی میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا۔
10مئی 2011ء کو نصر اللہ خان آفریدی جن کا تعلق پاکستان ٹیلی ویژن اور مشرق اخبار سے تھا ان کی کار کو بم دھماکے سے پشاور میں اڑا یا گیا ۔ 30مئی 2011ء کو ایشیاء ٹائمز آن لائن کے رپورٹر سلیم شہزاد کو اغواء کرلیا گیا اور بعدازاں منڈی بہاء الدین کے قریب انہیں ہلاک کر کے لاش پھینکی گئی۔
11جون 2011ء کو اخبار خیبر کے رپورٹر اسفندیار کان اور دی نیوز کے شفیع اللہ خان پشاور میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔
7اکتوبر 2011ء کو لندن پوسٹ کے فیصل قریشی کو ہالور می اغواء کے بعد بدترین تشدد کر کے ہلاک کیا گیا اور ان کی لاش ان کے گھر کے پاس پھینک دی گئی تھی۔ نومبر 2011ء کو جاوید نصیر رند جن کا تعلق ڈیلی ٹاور سے تھا انہیں خضدار سے اغواء کرنے کے بعد ہلاک کیا گیا۔ 17جنوری 2012ء کو وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کے نامہ نگار مکرم خان عاطف کو شب قدر میں ایک مسجد میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا 19مئی 2012ء کو ایکسپریس نیوز کے سینئر رپورٹر رزاق گل کو تربت سے اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
28مئی 2012ء کو عبدالقادر حاجی زء جن کا تعلق وش ٹی وی سے تھا انہیں فائرنگ کر کے بلوچستان کے ضلع وشیک میں ہلاک کیا گیا۔ 29ستمبر 2012ء کو اے آر آء ٹی وی کے عبدالحق بلوچ کو پریس کلب سے گھر جاتے ہوئے خضدار میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ 17اکتوبر 2012ء کو دھرتی اور مہران ٹی وی کے رپورٹر مشتاق کھانڈ پیپلز پارٹی کی ریلی پر خیر پور میں فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے تھے۔
18نومبر 2012ء کو دنیا ٹی وی اور روازنامہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے رحمت اللہ عابدکو پنجگور میں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ 22نومبر 2012ء کو روزنامہ امت کے فوٹو گرافر ثاقب خان کراچی میں ایک دھماکے کی کوریج کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔
ایسے درجنوں مزید واقعات ہیں جن میں صحافیوں کو نشانہ بنا کر یا پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
چندماہ قبل ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا گیاتھاجس سے صحافیوں میں زبردست تشویش پائی گئی اور حکومت سے میڈیا ہاؤسز کی فول پروف سیکورٹی کا مطالبہ کیا گیا مگر اسکے فوراََ بعد ایکسپریس ٹی وی گاڑی پر کراچی میں حملہ کیا گیا جس میں ان کے 3کارکن ہلاک ہوگئے اور پھر گزشتہ ہفتے ایک ساتھ آج ٹی وی اور روزنامہ نوائے وقت کے دفاتر پر دستی بم حملے کئے گئے اور اس سے اگلے ہی دن اے آر وائی کے دفتر کے باہر سے بم برآمد ہوا۔
صدر‘ وزیراعظم‘ وزیر اطلاعات اور چاروں وزرائے اعلیٰ سے درخواست ہے کہ خدارا معاشرے کی عکاسی کرنے والے صحافیوں کی حفاظت کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان