بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملک نیا، قوانین پرانے
ہم کب تک ”لکیر ے فقیر بنے“ رہیں گے؟۔۔۔۔پاکستان میں اسلامی قوانین کا پرچار تو بہت کیا جاتا ہے لیکن قوانین غیروں کے اپنائے جاتے ہیں۔ آج بھی اگر اپنے ملک کو اسلامی قوانین کی طرز پر ڈھالا جائے
ندیم ممتاز:
برصغیر پر انگریزوں نے کئی برس تک حکومت کی، مسلمانوں کو نیچا دکھانے کیلئے ہندو اُن کو ساتھ دیتے رہے۔ یہاں تک کہ قیام پاکستان کے بعد تقسیم کے موقع پر بھی نوزائیدہ مملکت کے ساتھ نا انصافی کی گئی لیکن پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے ہی فوری طور پر برطانوی قوانین کا نفاذ کر دیا۔
برطانوی راج نے 1860 میں جو فوجداری اور عدالتی قوانین نافذ کئے تھے، آج بھی اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ یہاں رائج ہیں۔
پاکستان میں تمام فوجداری عدالتوں کے کام کاج کایہی قاعدہ ہے اپنے پاوٴں پر کھڑے ہونے کیلئے پاکستان نے جن قوانین کا سہارا لیا تھا ، وہی قوانین تھے۔ قیام پاکستان کو 67 برس گزر جانے کے باوجود بھی قانون کی رہی کتابیں شائع ہوتی رہی ہیں جنہوں نے قانون دان تو پیدا کئے مگر اُنہوں نے انگریزوں کی تقلید اور قانون کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تھوڑی بہت ترامیم بھی کی جاتی رہیں مگر ان کی اصلاحات زیادہ تر سطحی ہی ہیں اور ان میں بر طانوی اثرات نمایاں نظر آتے ہیں اور یہ عکس پاکستان کے پورے قانونی نظام میں بہر طور موجودہے۔
ہندوستان میں برطانوی حملہ آوروں اور قابضین کے پیش نظر کاروباری مفاد تو تھا ہی لیکن اُن کی ایک پالیسی مقامی لوگوں کو محکوم بنائے رکھنے کی بھی تھی۔
اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ پولیس کو اپنی مرضی اور سہولت سے کسی کو بھی گرفتار کرنے کی اجازت تھی ۔ اُس کیلئے نہ وارنٹ تھا اور نہ کسی ثبوت کی ضرورت تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی اُصول انفرادی حقوق کو تحفظ دیتے ہیں۔ لہٰذا برطانہ کے گھروں اور کالونیوں میں ایک جیسی ہی صورت حال نظر آتی ہے اور یہ اسلئے بھی تعجب کی خیز معلوم نہیں ہوتا۔ حیران کن اَمر یہ ہے کہ پاکستان میں ایک اجنبی طرز پر زندگیاں گزاری جار ہی ہیں۔

فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات پر جسے فاٹا کہا جاتا ہے لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کے تحت مشتبہ شخص کے خاندان یا پورے قبیلہ کو قید کیا جاسکتا ہے۔ اُنہیں مقدمے کی سماعت ، قانونی چارہ جوئی یا اپیل کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔ 2011 میں 110 سالہ اس پرانے قانون میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے عورتوں، بچوں اور بزرگوں کا اجتماعی سزا سے خارج کر دیا گیا تھا۔

تاریخ کا بغور مشاہدہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ اور عوام کے درمیان بڑ فرق ہوا کرتا تھا۔ اُس وقت عوام اُس کی رعایا ہوا کرتے تھے۔ حکمران کی اطاعت کرنا عوام کیلئے نہ صرف ضروری تھا بلکہ اُن کے فرائض میں بھی شامل تھے۔
برصغیر میں برطانوی حکومت قائم ہوئی تو اس اُس وقت بھی حکمرانوں اور عیت میں یہ فرق قائم رہا ۔ وقت کے ساتھ بہت سے ممالک میں یہ فرق قائم رہا۔
وقت کے ساتھ بہت سے ممالک میں یہ فرق کم ہوتا چلا گیا ۔ بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں کے ذہن میں ابھی تک عوام کیلئے رعیت کا تصور موجود ہے۔ موجودہ حالات کے تحت اگر وہ عوام کی فوح و بہبود ی ابھلائی کیلئے کچھ کرتے یا چند پالیسیاں بناتے ہیں تو اُس کے پیش نظر بھی اُن کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ بے بنیاد عدوں سے عوام کے بہلانے کا یہ سلسلہ گزشتہ 67 برسوں سے جاری ہے۔
اس کیلئے یہی ایک مثال کافی ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ 1970 سے آج تک چلا آرہاہے مگر لوگ روز غریب سے غریب تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔
جمہوری معاشروں میں ہر شہری قانون کی نظر میں براب ہوتا ہے۔ جب قانون کی نظروں میں سب برابر ہو جائیں اور قانون تمام لوگوں پر یکساں طور پر لالو ہو تو معاشرے میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے اور طاقتور کمزوروں کا استحصال نہیں کرسکتے ۔
اس صورتحال میں اگر ہمارے معاشرے کو دیکھا جائے تو یہ اب تک قرن وسطیٰ کے دور کی باد دلاتا ہے کہ جہاں حکمران اور رعیت کا تصور موجود تھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جمہوری دور میں بھی برسراقتدار یا طبقہ اشرافیہ کے لوگ خود کو حکمران تصور کرتے ہیں، شہری نہیں۔
جب قانون ساز ہی قانون توڑنے میں لگ جائیں اور بیگناہ پھنس جائیں تو یہ جمہوریت کے عین مطابق نہیں منافی ہے ۔
اسلام میں عوام کے حقوق وتحفظ کی ذمہ داری حکمرانوں پر ہے۔خلفائے راشدین بھیس بدل کر اپنے شہریوں کی حالت کاجائزہ لیا کرتے تھے اوراُن کی داد رسی کرتے تھے۔
پاکستان میں اسلامی قوانین کا پرچار تو بہت کیا جاتا ہے لیکن قوانین غیروں کے اپنائے جاتے ہیں۔ آج بھی اگر اپنے ملک کو اسلامی قوانین کی طرز پر ڈھالا جائے تو عوام کی فلاح و بہود کی یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی مگر ہم ہیں کہ آج تک برطانوی اور قرن وسطیٰ کے قوانین سے جان نہیں چھڑا پائے اور ”لکیر کے فقیر“ بنے اُن پر عمل پیرا ہیں۔
ضرورت اس ام کی ہے کہ حکمران اسلامی قوانین کا احیاء کرتے ہوئے اپنے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں اور غیروں کی تقلید کرنا چھوڑ دیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-10

(1) ووٹ وصول ہوئے