بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

بنوں

مجرموں کا انجام‘ بچوں کی قربانی رنگ لے آئی
سب کے متحد ہو جانے پر ان دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل سے اس فیصلے پرپہلے اور دوسرے مرحلے میں ان 6 خطرناک مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے
احمد کمال نظامی:
16دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردوں کے حملہ میں 140 بچوں سمیت پرنسپل اور سٹاف ممبران کی ہلاکت کے انسانیت سوز واقعہ نے پوری قوم ،حکومت ، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کے دل پر ایسا گھاوٴ لگایا ہے کہ سب کے متحد ہو جانے پر ان دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل سے اس فیصلے پرپہلے اور دوسرے مرحلے میں ان 6 خطرناک مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے جو جی ایچ کیو اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں ملوث تھے۔
جمعہ کے روز ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو ڈسٹرکٹ جیل تختہء دار پر لٹکا دیا گیا او ر ایک دن کے وقفے کے بعد اسی جیل میں سابق صدر مشرف پر حملہ کیس کے دیگر مجرموں زبیر احمد، راشد عرف ٹیپو، غلام سروراور اخلاص عرف روسی کو پھانسی دی گئی۔ کورٹ مارشل ہونے والے مرکزی کردار ڈاکٹر عثمان پر محض جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام ثابت نہ ہوا تھا بلکہ اس کے خلاف ٹرائل کے دوران یہ بات بھی سامنے آ گئی تھی کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ کے ماسٹر مائنڈ کا کردار بھی اسی نے ادا کیا تھا۔
2009ء میں جی ایچ کیو پر حملہ سے قبل پاک افواج کے حلقوں میں کسی نے ایساسوچا بھی نہ ہو گا کہ کوئی دہشت گرد تنظیم شیروں کی کچھار میں جھانکنے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر عثمان کو 10اکتوبر 2009ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کا رہنے والا تھا اور ملٹری کی میڈیکل کور میں بطور میل نرس ملازمت کرتا تھا۔ اور لوگ اسے ڈاکٹر عقیل کہہ کر پکارتے تھے۔
اس کی گرفتاری کے بعد ملٹری کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا ہو گئی۔ مگر سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں بعض بین الاقوامی این جی اوز کے دباوٴ پر ایک آرڈیننس کے ذریعے 2008ء سے ملک میں تمام پھانسی کے مجرموں کی سزاوٴں پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔ اس آرڈیننس کی معیاد 30اکتوبر 2013ء کو ختم ہو گئی تو موجودہ حکومت کے ایک ترجمان نے 4نومبر کو اس امر کا اعلان کر دیا تھا کہ اب تمام مقدمات میں ملنے والی سزاوٴں پر کسی دباوٴ کے بغیر فیصلے ہوں گے۔
لیکن انہی دنوں حکومت کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان تنظیموں کے ساتھ امن مذاکرات شروع ہو گئے اور کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے پاکستان کی جیلوں میں موجود جن گروپوں کے دہشت گردوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ان میں ڈاکٹر عثمان کا نام بھی شامل تھا۔ تحریک طالبان تنظیموں کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے بھی کسی نوٹیفکیشن کے بغیر ہی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ کرنے کی پالیسی جاری رکھی۔
پاک فوج کی طرف سے جنوبی وزیرستان میں ”ضرب عضب“ شروع ہو جانے کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات ازخود ختم ہو گئے تھے لیکن حکمرانوں کی طرف سے ملٹری کورٹس سمیت عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے مجرموں کو پھانسی کی سزاوٴں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں زندگی کی سانسوں کا ریلیف ملتا رہاکہ اس دوران پشاور میں دہشت گردوں کے ہاتھوں سکول کے بچوں کے قتل عام کے لرزہ خیز واقعہ نے ملک وقوم اور اس کے ارباب اختیار کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب دہشت گردوں کو زندگی کی رعایت دینا ریاستی اداروں کی خود کشی کے مترادف ہے اور جن دہشت گردوں کو ملٹری کورٹس یا عدالتوں سے پھانسی کی سزائیں ہو چکی ہیں ان کی پھانسی کی سزاوٴں پر فی الفور عملدرآمد ہونا چاہیئے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے ملٹری کورٹس سے پھانسی کی سزا پانے والوں کے بلیک وارنٹ جاری کئے۔ جس کے تحت فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں قید دہشت گرد ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو جمعہ کے روز پھانسی دے دی گئی۔ارشد محمود نے 2003ء میں اس وقت کے ملک کے صدر جنرل پرویزمشرف پر قاتلانہ حملہ کرایا تھا۔ وہ خود اس قاتلانہ حملے میں شامل تھا اور دیگر چار ملزموں سمیت اس حملہ میں ملوث ہونے پر اس کے ساتھیوں کو بھی ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا ہوچکی تھی۔

پھانسی کی سزا پر عملدرآمد سے پابندی ہٹنے کے بعد سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح سنٹرل جیل فیصل آباد کے علاوہ ڈسٹرکٹ جیل کی سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی تھی۔ اور جیسے جیسے سورج ڈھلنا شروع ہوا شہر میں سیکورٹی کے اداروں کی نفری میں اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ شام پانچ بجے کے بعد سنٹرل جیل فیصل آباد جو کہ شہر سے خاصی باہر جڑانوالہ روڈ پر واقع ہے، اس کو چاروں طرف سے فوجی اہلکاروں نے گھیر لیا تھا۔
بات سمجھ میں آ رہی تھی سنٹرل جیل فیصل آباد میں چونکہ پھانسی گھاٹ کا انتظام موجود نہیں ہے اور ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود دونوں کے چونکہ ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکے تھے لہٰذا ان دونوں کو رات ہونے سے پہلے ہی سینٹرل جیل سے ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں منتقل کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ جس کیلئے دونوں جیلوں کے آس پاس سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ فیصل آباد شہر میں 19دسمبر کو صبح سے ہی پولیس ہائی الرٹ ہو گئی تھی۔
انتظامیہ بھی بہت حد تک چوکس تھی۔ سرکاری سکولوں میں ایک دن پہلے سے موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کر کے ان سکولوں کو بند کروا دیا گیا تھا۔ اگرچہ شہر کے بعض نجی تعلیمی ادارے اگلے دو تین روز بھی کھلے رہے اور ان اداروں میں 22دسمبر سے موسم سرما کی چھٹیوں کا آغاز کیا گیا۔ اب یہ تمام تعلیمی ادارے 5جنوری کو کھلیں گے۔ شہر میں 19دسمبر کی شام کو پولیس کے ساتھ ساتھ فوج کا گشت شروع کر دیا گیا تھا خصوصاً عبداللہ پور چوک سے سنٹرل جیل تک جڑانوالہ روڈ مکمل طور پر ملٹری جوانوں اور ایلیٹ فورس کے سپرد تھی اور جڑانوالہ روڈ پر موجود کوہ نور پلازہ اور دوسری مارکیٹیں یکسر بند کر دی گئی تھیں۔
مدینہ ٹاوٴن سے پیپلزکالونی کی طرف آمدورفت بالکل بند کر دی گئی تھی۔ عبداللہ پور چوک سے آگے ڈسٹرکٹ جیل تک پولیس کے اہلکار الرٹ کھڑے تھے۔ ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود دونوں کو ڈسٹرکٹ جیل میں منتقل کر کے 19اور 20دسمبر کی رات صبح چار بجے کے قریب مجرموں کو پھانسی دی جانی تھی ، بعض حلقوں کا خیال تھا کہ یہ پھانسی اگلی رات کو دی جائے گی لیکن ان دونون کو اسی رات ساڑھے 9بجے کے قریب ایک ساتھ تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور ڈاکٹروں نے ان دونوں کے مردہ ہو جانے کی تصدیق کر دی۔

ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد کے پھانسی گھاٹ میں بیک وقت تین لوگوں کو پھانسی لگانے کا انتظام موجود ہے۔ دونوں مجرموں کو پھانسی لگانے سے پہلے ان کے لواحقین کے ساتھ ان کی ملاقاتیں کرا دی گئی تھیں۔ ڈاکٹر عثمان نے اپنے بھائی سے ملاقات کر لی تھی لیکن اس کی اپنی طرف سے کوئی وصیت جاری نہیں کی گئی، وہ اس ملاقات میں خاموش ہی نظر آیا۔ جبکہ ارشد محمود اپنے عزیزوں سے ملاقات کے دوران آبدیدہ تھا۔
فیصل آباد میں ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو پھانسی دے دیئے جانے کے بعد بھی دونوں جیلوں کی سکیورٹی بدستور سخت رہی ہے اور ملٹری کی گاڑیاں بھی جیلوں کے پاس کھڑی ہیں۔ جس کے بعدکورٹ مارشل میں سزاپانے والے باقی چار مجرموں کو بھی اتوار کے روز سنٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ چونکہ دونوں جیلیں شہر سے باہر واقع ہیں لہٰذا ان دنوں ردعمل کے اندیشہ کے طور پر ان کی سکیورٹی بھی معمول سے کہیں زیادہ ہے۔

ان دنوں ضلعی پولیس کو آئی جی پنجاب کی طرف سے خصوصی طور پر ایک الرٹ لیٹر بھیجا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کی پھانسی کے بعد شہر کی سکیورٹی کو آسان نہ لیا جائے۔ اس قسم کا الرٹ لیٹر غالباً صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں بھیجا گیا ہے تاکہ ہر ضلع کی پولیس ممکنہ دہشت گردوں کو چیک کرنے کے لئے اپنے ناکوں کا سلسلہ جاری رکھے۔
کہا گیا ہے کہ صوبہ کے تمام شہروں اور علاقوں میں نیلی بتی والی گاڑیوں، سبز نمبر پلیٹ، ایمبولینس اور یونیفارم میں ملبوس افراد کی سختی کے ساتھ چیکنگ کریں۔ اس حکم کی روشنی میں فیصل آباد کے چاروں اضلاع میں رات گئے خصوصی ناکہ بندی پوائنٹ لگا دیئے گئے ہیں اور چاروں ضلعی ہیڈکوارٹرز میں بطور خاص افغان باشندوں کی شبیہہ اور غیرملکی خدوخال رکھنے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں ابھی سزائے موت کے متعدد قیدی موجود ہیں جن میں سے بعض نے اعلیٰ عدالتوں میں اور بعض نے صدرمملکت سے رحم کی اپیلیں کر رکھی ہیں۔ اس جیل کی ایک تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن 1971ء میں کئی ماہ تک اس جیل میں نظر بند رہے۔ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنایا گیا تھا جس کی سماعت بھی سنٹرل جیل کے اندر ہی ہوتی رہی۔
ملک کے معروف قانون دان مرحوم اے کے بروہی حکومت کی طرف سے ان کے وکیل مقرر کئے گئے تھے۔ فیصل آباد کے ایک معروف وکیل خواجہ غلام حسین ان کے اسسٹنٹ تھے۔ جب 16دسمبر کو سقوط ڈھاکہ ہو گیا تو باقی ماندہ پاکستان کی حکومت نے انہیں رہا کر کے ڈھاکہ پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح1971ء کی جنگ میں مشرقی محاذ پر ہتھیار ڈالنے کی بجائے دشمن سے نبرد آزمارہنے والے افواج پاکستان کے میجر راجہ نادر پرویز بھی وطن واپسی پر کورٹ مارشل کے بعد فیصل آباد جیل میں قید رہے۔
راجہ نادر پرویز کو جنرل ضیاء الحق نے میجر جنرل کی حیثیت پھانسی کی سزا دی تھی۔ جبکہ بعد میں جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں آ نے پر راجہ نادر پرویز کو باعزت رہا کر دیا گیا تھا۔ راجہ نادر پرویز بعد میں قومی اسمبلی کے رکن اور وفاقی وزیر بھی رہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-25

(0) ووٹ وصول ہوئے