بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مُحرم الحرام میں ممکنہ دہشت گردی کے خدشات ۔سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات
خودکش بمبار خواتین اور پولیس وردیوں میں ملبوس دہشت گرد بڑی کاروائی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جلوسوں کی روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی پلان ترتیب دینے کی ہدایت
احسان شوکت:
پاک فوج کا شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا میابی سے جاری ہے ۔ جس سے دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ مگر اس صورتحال میں محرم الحرام کے مقدس مہینے میں بڑے شہروں کومیں دہشت گردوں کی جانب سے بڑی انتقامی کارروائیوں اور حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ خفیہ اداروں کی جانب سے ملنے والی رپورٹس میں بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ حالات کی وجہ سے محرم الحرام میں دہشت کے خطرات دوگنا ہو گئے ہیں۔
دہشت گردوں نے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں بالخصوص صوبہ پنجاب میں تباہی کا منصوبہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دہشت گرد محرم الحرام میں خودکش بمبار خواتین کے علاوہ پولیس وردیوں میں ملبوس ہوکر دہشت گردی کی بڑی کاروائی کر سکتے ہیں جبکہ دہشت گرد عناصر اور تخریب کاروں نے مقامی لوگوں کے ذریعے مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی منصوبہ بندی بھی کی ہے ۔
جس کے تحت اشتعال انگیز تقاریر، وال چاکنگ کا سہارا بھی لیا جائے گا۔ محرم الحرام کے موقع پر ایسی صورتحال نے حکومت ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو گہری تشویش اور اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ محرم الحرام میں دہشت گردوں کی کارروائیوں پرقابو پانا اور امن وامان کی فضا قائم رکھنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے آزمائش اور کڑا امتحان ہے۔
جس پر پولیس ، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے انٹیلی جنس ایجنسیاں محرم الحرام میں امن اومان قائم رکھنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔محرم الحرام کے دوران دہشت گردی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پنجاب میں محرم الحرام کے دوران 37 ہزار 7 سو 40 مجالس اور 97 سو 90 تعزیتی جلوس نکالے جائیں گے۔ دس اضلاع لاہور ، روالپنڈی، ملتان، جھنگ، سرگودھا، گجرات، فیصل آباد، وہاڑی، بہاولپور اور لیہ کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ صوبہ بھر میں 893 حساس مقامات کی نشاندہی کر کے انہیں کییگری اے ، بی اور سی میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔
محرم الحرام میں صوبہ بھر میں سیکورٹی کیلئے 132171 پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگادی گئی ہیں۔ حساس اضلاع اور مقامات پر فوج اور رینجرز کے دستوں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔ حساس اداروں کی اطلاع کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس و دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جائے گی اور کسی کو بھی جلوس کے راستے یا مجلس میں شناخت کے بغیرداخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
جلوس کے تمام راستوں اور اس سے ملحقہ سٹرکوں کو خار دار تاریں اورلوہے کے بیرئیر لگا کر بند کر دیا جائے گا اور جلوس داخل ہونے کے لئے ایک داخلی اور ایک خارجی راستہ رکھا جائے گا۔خواتیں سمیت ہرکسی کو تین مقامات پر چیکنگ کے بعد جلوس کے روٹ یا اہم مجالس میں داخل ہونے دیا جائے گا ۔ خواتین کی چیکنگ کے لئے لیڈیز پولیس اہلکار تعینات کرنے کے علاوہ خواتین ٹریفک وارڈنز کی بھی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی۔

مجالس اور محرم کے جلوسوں کے داخلی وخارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے میٹل ڈییکٹرز اور واک تھروکیٹس لگائے جائیں گے۔ مجالس سے ملحقہ اونچی عمارتوں اور جلوس کے روٹ پر دو ربینوں سے لیس سنائپر تعینات کئے جائیں گئے۔ جدید آلات سے چیکنگ اور سکریننگ کے علاوہ سراغ رساں کتوں کی مدد لی جائے کی جبکہ اجازت نامے کے بغیر کسی کو مجلس منعقد کرنے کی قطعاََ اجازت نہیں دی جائے گی۔
تمام اہم مجالس اور جلوسوں کی ویڈیو فلم بنائی جائے گی۔ جلوسوں کی خصوصی سیکورٹی کے لئے پولیس، موبائل سکواڈ ایلیٹ فورس کی گاڑیاں بھی گشت کریں گی۔ جلوس کے روٹ اور وقت کی پابندی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔ جلوس کے راستوں کی طرف آنے والی ہر قسم کی ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جائے گا۔ نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر فی الحال موبائل فون نیٹ ورک سروس کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے مگر لاہور میں یوم عاشور کے نثار حویلی سے کر بلا گامے شاہ تک جلسوس کے علاوہ راستے میں جیمر لگا کر موبائل فون سروس جام کرنے کا امکان ہے جبکہ یوم عاشور کے مرکزی جلوسوں کی ہیلی کاپٹرز سے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔
حکومت پنجاب نے بھی محرم الحرام نے انتظامات کے لئے پولیس کو خصوصی فنڈ بھی مہیا کر رہی ہے۔ محرم الحرام میں عاشور کے جلوسوں اور مجالس کے پر امن انعقاد ،علماء اکرام کی سکیورٹی اور دہشت گردی کے بچنے کے لئے پویس حکام کی جانب لاہور میں رینجرز تعینات کرنے اور فوج کی خدمات طلب کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جوہوم سیکرٹری پنجاب نے مسترد کر دی ہے۔
البتہ ضرورت پڑنے پر فوج بلائی جا سکے گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کے دوران شبیہہ ذوالجناح اور تعزیہ بردار جلوسوں کی حفاظت کے لئے روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی پلان ترتیب دینے اورمحرم الحرام کے لئے جاری کئے گئے ضابط اخلاق پر سو فیصد عملدآمد کرانے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ ضابط اخلاق پرعمل درآمد میں ناکام رہنے والے پولیس آفیسرز اور ضلع حکام جو ابدہ ہوں گے۔
ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی کی جانب سے ڈویڑنل کمشنرز اور ڈی سی اوز کے نام مراسلہ جانری کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران اسلحہ کی نمائش کرنے ، اسلحہ ساتھ لے کر چلنے اور غیر رجسٹرڈ مجالس اور ماتمی جلوسوں پر پابندی عائد ہے جبکہ ذاکرین کے پاس حکومت کی جانب سے جاری کردہ لائسنس ہونا لازمی ہے اور وہ ہرقسم کے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد کے بیان سے گریز کریں گے۔
محرم کے دوران لاوڈسپیکر کے استعمال ، نفرت انگیز مواد پرمبنی پوسٹرزاور وال چاکنگ پر پابندی ہوگی۔ علاوہ ازین حساس اداروں و پولیس افسروں کے دفاتر اور اہم عمارتوں و مزاروں کے باہر سکیورٹی انتظامات سخت کرتے ہوئے وہاں پر بھاری رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ مسلح اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سکیورٹی اقدامات کے باوجود عوام انجانے خوف او ر پریشانی میں مبتلا ہیں۔
خصوصاََ اہل تشیع حضرات اور مجالس و جلوسوں کے منتظمین اپنے طور پر بھی سکیورٹی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ واک تھروگیٹس اور میٹل ڈییکٹرز کا بندو بست کرنے کے علاوہ شرکاء کا فزیکل چیکنگ کے لئے رضا کار فراہم کئے جا رہے ہیں۔ مجالس کے مقامات سے فاصلے پر راستوں پر رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان